تابش ہاشمی کی ایک دن کی زندگی جرنیلوں، شریفوں، زرداریوں، انصار عباسیوں، سہیل وڑائچوں، ایم ایفوں، ابصار عالموں، راویوں اور عسکری راتب خوروں کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!
کاشف عباسی کھل کر بول اُٹھا 🔥🔥
جب ایک چلتے ہوئے نظام کو خراب کر دیا جائے تو پھر اس خود ساختہ خراب کردہ نظام کو دوبارہ اچھا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کوئی جمہوریت نہیں، یہاں مکمل اسٹبلیشمنٹ کا کنٹرول ہے۔
قاسم آباد ٹائون کے بعد حیدرآباد کے میاں سرفراز ٹاؤن میں پانچ اگست یوم سیاہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے جاری عوامی رابطہ مہم میں شرکت کی حیدرآباد کی عوام کو پانچ اگست کو ہونے والے ملک گیر احتجاج میں بھرپور شرکت کی دعوت دی۔
مظفر آباد سے نوجوان کا پیغام
کشمیر کوئی شہہ رگ نہیں تھا, ہم سے جھوٹ بولا گیا, شہہ رگ ہوتا تو ہم پر سیدھی فائرنگ نہ کرتے!!
نوجوانوں کو نفرتوں سے بھر دیا!!
اگر انیس ستی کی شہادت کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔ اگر عاصمہ شیزرازی صاحبہ اور ساتھی اس وقت لاشوں کو نہ جھٹلاتے۔ تو آج اسامہ جمیل زندہ ہوتے۔
صرف بندوق چلانے والا نہیں۔ اس پورے سسٹم کا ہر سہولتکار ان نوجوانوان کا قاتل ہے۔
محسن نقوی کی تقریر کا خلاصہ عمران خان نے زیادہ اچھے طریقے سے عوام کو تین سال پہلے سمجھا دیا تھا۔
"شہباز شریف صبح 7 بجے اٹھ جاتا ہے تو میرا مالی صبح 6 بجے ہی اٹھ جاتا ہے۔
اٹھو جب مرضی لیکن ڈالر کا ریٹ دیکھو ذرا، مہنگائی کے حالات دیکھو ذرا"
سسٹم کولیپس کی تقریریں سن کر ایک بات تو ثابت ہوئی کہ فیصلہ ساز عمران خان اور قوم سے کم از کم ساڑھے چار سال پیچھے ہیں اقل اور فہم میں۔
کشمیر حقوق مارچ پر پورا فوکس رکھیں۔ سسٹم کولیپس کے ساتھ ان کی ساکھ بھی کولیپس ہوئی ہے، نہتے شہریاں پر گولیاں چلا کر۔ پورے قوم کی نفرتیں بٹوری ہیں! پتہ نہیں کس جینیس کا مشورہ تھا رجیم چینج اور اس کو قائم رکھنے کی ضد۔
#SystemCollapse
عاصم منیر کے بنائے گئے کھوکھلے نظام کی ناکامی تو نہ صرف محسن نقوی نے تسلیم کر لی ہے، بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر یعنی اس کے اپنے ترجمان نے بھی مان لی ہےـ
اسی بات کی پیشنگوئی عمران خان نے 17 اکتوبر 2025 میں کر دی تھی ـ
بنیادی طور پر بندوق کے زور پر پوری قوم کو غلام نہیں بنایا جاسکتا
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ ��ور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
زندہ ہیں طلباء زندہ ہیں۔
میرے دیس کے طلباء زندہ ہیں۔
آئی ایس ایف شمالی پنجاب صدر،ملک نجم و ٹیم کشمیر میں ھونیوالی بربریت کے خلاف اسلام آباد مظاہرہ میں نوجوانوں کا لہو گرماتے ھوۓ۔