شام میں ایران اور اسکی پراکسیز کے بدترین جرائم ۔۔
آج سے 13 سال پہلے 21 اگست 2013 کو مشرقی غوطہ میں بشاری/ایرانی فورسز اور حزب اللہ کے سارین گیس ( کیمیائی ہتھیار) حملے میں 1429 بچے ایک ہی رات میں موت کی وادی میں دھکیل دئیے گئے۔۔
یہ وہ بچہ ہے جس نے تاریخی سیریز دیرلیش ارطغرل میں عثمان غازی کے بچپن کا کردار ادا کیا تھا ایک انٹرویو میں
اس سے سوال کیا گیا ♥️🗣️
اگر آپ کو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی زیارت نصیب ہو جائے تو آپ اُن سے کون سا سوال کریں گے اس کا جواب نہایت خوبصورت دل کو چھو لینے والا اور غور و فکر پر مجبور کر دینے والا تھا اس نے کہا
میں اُن سے کوئی سوال نہیں کروں گا کیونکہ میرا ایمان ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی ولادتِ مبارکہ سے لے کر وصالِ مبارک تک ہماری زندگی کے ہر سوال کا جواب پہلے ہی دے دیا ہے البتہ اگر مجھے آپ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تو مجھے یہ خوف ہوگا کہ کہیں آپ ﷺ مجھ سے یہ نہ پوچھ لیں کیا تم نے میری سیرتِ مبارکہ پڑھی ہے یا پھر یہ نہ فرمائیں کیا تم اب تک میری زندگی کے اس پہلو سے بھی ناواقف ہو 🤍
زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین احمد)
یہ 👇 آیت ہمیں یاددلاتی ہےکہ حقیقی ہدایت صرف اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتاہے اس لیےہمیں ہمیشہ اپنےرب سےسیدھے راستےپرقائم رہنےکی دعا کرتےرہناچاہیے
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن وسنت کی ہدایت پر چلنےحق پرثابت قدم رہنےاوراپنی رضا کے راستےپرزندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین 🤲
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
دنیا میں کسی ملک کی فوج ایسا کر سکتی ہے ؟ ؟ ؟
اسرائیلی فوج صرف قتل تک محدود نہیں رہی؛ اس نے جنازے کے جلوس کے دوران مقتول کی لاش لے جانے والے فلسطینیوں پر بھی حملہ کیا۔
اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا خونخوار درندہ بن چکا ہے.
*یہ پرندہ تمل ناڈو، انڈیا میں پایا جاتا ہے اور اسے "عالمی ثقافتی ورثہ" قرار دیا گیا ہے جس کی قیمت تقریباً 2.8 ملین ہے۔ یہ پرندہ ایک جھٹکے میں 25 مختلف دھنیں چہچہا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو شوٹ کرنے میں 16 فوٹوگرافروں کو 62 دن لگے۔ خدا کی تخلیق کی خوبصورتی سے لطف اٹھائیں*
اسرائیل کے ظلم و بربریت کی یہ ویڈیو 35 سال پرانی ہے۔ اسرائیل نے یہ ظلم 7 اکتوبر سے شروع نہیں کیا.
اسرائیل ایک جنونی قاتل ہے، جسے انسانوں کے خون کا چسکا لگ گیا ہے.
برمنگھم یونیورسٹی میں موجود قرآن کریم کی مخطوطہ کو 2015ء میں کاربن مشع کے ذریعے جانچا گیا اور اس کی عمر 1370 سال ثابت ہوئی یعنی نبی محمد (ص) کے عہد میں اور یہ وہی حروف ہیں اور ایک لفظ بھی تبدیل ہوا نہیں ہوا۔۔ تو کہاں ہیں تحریف قرآن والے؟؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔
(سنن ابوداؤد،۴۸۷۷)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
بریکنگ🚨
انسانی تاریخ کا سب سے ہولناک منظر سامنے آگیا۔ وہ لمحہ جب ایک چھوٹا بچہ اپنے محصور اور پیاسے خاندان کے پاس پانی کا جگ لے کر جا رہا تھا، بمباری کی گئی جس سے وہ ہلاک ہو گیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے ہو گئے۔
ایک ایسی ویڈیو جو دنیا کو کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔
بریکنگ نیوز
اسرائیل نے لبنان میں قراؤن ڈیم پر بمباری کر کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا، یہ ڈیم پینے کے پانی کا سب سے بڑا زخیرہ تھا. یہ سویلین آبادی کے قتل عام کے مترادف ہے، مگر اسرائیل سے کون سوال کرے گا؟
سوڈان کے بارے میں بات کرنا کبھی نہ چھوڑیں، اس سوڈانی خاتون نے اپنے آخری لمحات رحم کی التجا کرتے ہوئے گزارے جب کہ متحد عرب امارات کے حمایت یافتہ دہشت گرد اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہے
ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم جاری.
ہندوتوا کے انتہا پسند غنڈوں نے 13 سالہ عنم فاروق جو قرآن پاک حفظ کر رہی تھی کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کرکے اس لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی.