ایمل ولی خان، جس کی پوری سیاست باچا خان اور ولی خان کی تصویر لگانے تک محدود ہے، آج پاک فوج پر تنقید کر رہا ہے۔ اے این پی نے خود پختونوں کے لیے کیا کیا؟ اے این پی کے دورِ حکومت میں ان کے اپنے وزیر بشیر بلور سمیت سینکڑوں کارکن دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، لیکن جماعت نے دہشتگردی کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، صرف لاشوں پر سیاست کی۔ اسفندیار ولی خود تسلیم کر چکے ہیں کہ 2009 میں سوات میں معاہدہ کیا گیا، عسکریت پسندوں نے اسے توڑا، اور پھر آپریشن کرنا پڑا۔ ماضی کی پالیسی پر سوال کرتے وقت اپنی جماعت کے فیصلوں کو بھی اسی معیار پر پرکھیں۔
آج جب پاک فوج انہی دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں تباہ کرنے کی بات کرتی ہے تو ایمل ولی کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر افغانستان دہشتگردی کا مرکز نہیں تو کیا امن کا گہوارہ ہے؟
#ایمل_ولی_خان_کی_بددیانتی
#ایمل_ولی_خان_کا_جھوٹ
خیبرپختونخوا کے نام پر 17 سال میں 799 ارب روپے کے وار آن ٹیرر فنڈز جاری ہوئے، مگر متاثرہ اضلاع، پولیس، تعلیم، صحت اور بحالی پر اس خطیر رقم کے استعمال کی واضح عوامی تفصیل آج بھی کہاں ہے؟
فنڈز اربوں میں، حساب کہاں؟ شفافیت محض اعداد گنوانے کا نام نہیں؛ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے صوبے اور شہداء کے نام پر ملنے والا پیسہ آخر کہاں خرچ ہوا۔ #KPFundsAccountability #799BillionAudit
https://t.co/l24PLAPi4p
اپریل میں جس Hashim Musa کو پہلگام واقعے کا مشتبہ ملزم بنا کر پیش کیا گیا، جون تک بھارتی ذرائع خود انہی خاکوں میں موجود افراد کو اصل حملہ آور ماننے سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایک ہی نام، بدلتی کہانی اور متضاد دعوے بھارتی بیانیے کی حقیقت خود اس کے اپنے ریکارڈ سے عیاں ہوتی ہے۔
#india #indian_propaganda #pahalgam
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال نے صوبائی حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، ایمرجنسی کا آئینی آپشن زیرِ غور، وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدام سے صوبائی انتظامی اختیارات میں بڑی تبدیلی کا امکان! اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو وزیراعلیٰ کے اختیارات محدود اور صوبے کا انتظام وفاق کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔ اب صوبے کی حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال ایک اہم آئینی موڑ پر کھڑی ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو #کےپی_حکومت_ختم_کرو #مسترد_انتشاری_ٹولہ
https://t.co/bn4zkaJBWt
خیبرپختونخوا میں حالات اب محض سیاسی بیان بازی کا معاملہ نہیں رہے، امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال نے ایمرجنسی کے امکان کو سنجیدہ بحث بنا دیا ہے۔
صوبے کو احتجاجی سیاست نہیں، مؤثر حکمرانی، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات اور عوام کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
#کےپی_حکومت_ختم_کرو #یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو
https://t.co/W5DL9lUAZZ
افغانستان میں طالبان رجیم کے لیے سب سے بڑا سوال بندوق نہیں، عوامی حمایت ہے۔ میجر جنرل (ر) طارق رشید خان کے مطابق عوامی تائید کے بغیر اقتدار کی عمارت کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے؟ طاقت کے زور پر حکومتیں قائم تو ہو سکتی ہیں، مگر پائیدار نہیں ہوتیں۔
#طالبان#افغان#افغانستان
افغانستان میں طالبان رجیم کی غیر جامع حکومت، خواتین کی تعلیم پر پابندیاں اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک برقرار، مگر عالمی طاقتوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد کا سلسلہ بھی جاری۔ آخر یہ بھاری مالی معاونت کس بنیاد پر دی جا رہی ہے، جبکہ طالبان کے طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے؟ میجر جنرل (ر) طارق رشید خان
#طالبان #افغان #افغانستان #خواتین #تعلیم
افغانستان کو اب بھی بیرونِ ملک سے سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر مل رہے ہیں۔ 2021 میں افغانستان کو قریباً 2.3 ارب ڈالر، جبکہ 2022 میں تقریباً 4 ارب ڈالر ملے، جبکہ اس وقت بھی امریکا، برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین اور جاپان سمیت مختلف ادارے افغانستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر طالبان تمام طبقات پر مشتمل حکومت نہیں بنا رہے، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے پابندیاں برقرار ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ بھی امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو عالمی طاقتیں انہیں کس بنیاد پر مسلسل مالی معاونت فراہم کر رہی ہیں، میجر جنرل (ریٹائرڈ) طارق رشید خان
@ammarmasood3@pakambbrunei
799 ارب سے زائد! خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے نقصانات کے ازالے کے لیے خطیر فنڈز ملتے رہے، مگر ان کا واضح اور الگ حساب آج بھی غائب ہے۔
PTI کے طویل دور میں پیسہ بھی آیا، اختیار بھی رہا، مگر دہشتگردی اور بدامنی ختم نہ ہوئی اب عوام فنڈز کا حساب مانگ رہی ہے۔
#kp
https://t.co/SF6euKPPs7
سہیل آفریدی کے گرد سیاسی تنہائی کا تاثر مزید گہرا! 🔥 صوبائی ارکان اور وزراء کی بڑی تعداد کا مبینہ طور پر ساتھ نہ دینا پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی کھینچا تانی اور نئی صف بندیوں کی چہ مگوئیوں کو ہوا دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے: قیادت کے ساتھ کھڑے چہرے کم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ 👀
#cmkpk
سہیل آفریدی کی کرسی، مگر ساتھ دینے والے کم رپورٹ نے اندرونی اختلافات اور بدلتی وفاداریوں کی تصویر مزید نمایاں کر دی۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں 8 سے 10 متبادل امیدواروں کی مبینہ تیاری نے صوبائی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#مسترد_انتشاری_ٹولہ#pti
سہیل آفریدی کی قیادت پر اندرونی حمایت کے سوالات مزید نمایاں، پارٹی کے اندر متبادل امیدواروں کی بازگشت بھی تیز ہوگئی۔ گورنر راج، ایمرجنسی یا کسی غیر معمولی صورتحال کی صورت میں کئی نام مبینہ طور پر پہلے ہی تیار بیٹھے ہیں۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#کےپی_حکومت_ختم_کرو#pti
خیبر پختونخوا میں عوام امن، روزگار اور بنیادی سہولیات کے بحران میں، جبکہ PTI کی توجہ صرف احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔ بڑھتی بدامنی، بدانتظامی اور کرپشن کے بیچ عوامی سطح پر گورنر راج کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#کےپی_حکومت_ختم_کرو#مسترد_انتشاری_ٹولہ#pti
سہیل آفریدی کی تبدیلی کی بات اب اپنوں کی زبان پر بھی آ گئی عمران خان کے دیرینہ دوست جہانگیر چیکو کا مؤقف موجودہ قیادت کی کارکردگی، فیصلوں اور طرزِ حکمرانی پر براہِ راست سوال اٹھاتا ہے۔ اپنوں کی یہ تنقید قیادت کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح عکاسی ہے۔#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو
سہیل آفریدی کی تبدیلی کی آواز اب مخالفین تک محدود نہیں رہی عمران خان کے دیرینہ دوست جہانگیر چیکو بھی اسی بات کا کھل کر ذکر کرنے لگے۔ جب اپنے ہی حلقے سے سوال اٹھنے لگیں تو معاملہ صرف اختلافِ رائے نہیں رہتا، قیادت اور کارکردگی دونوں پر سنجیدہ سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
#جواب_دو#cmkpk
پی ٹی آئی کے اندر سے لانگ مارچ کے بجائے سیاسی تحمل کی آواز شوکت یوسفزئی نے مطالبات برقرار رکھتے ہوئے تصادم سے گریز کا مشورہ دے دیا۔ ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے سیاسی راستہ اپنانے کی یہ تجویز صوبائی سیاست میں بدلتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کرتی ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#cmkpk
پی ٹی آئی کی اپنی صفوں سے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا مشورہ شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ختم کرکے ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے پر زور دے دیا۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست صوبائی حکومت کے لیے کس قدر حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
#kpk#cmkp
شوکت یوسفزئی کی اپنی ہی جماعت کو دوٹوک نصیحت، ریاست سے محاذ آرائی چھوڑ کر لانگ مارچ ختم کرنے کا مشورہ۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خدشات کے درمیان پی ٹی آئی کے اندر بڑھتے اختلافات اور صوبائی حکومت کی بے اختیاری کا معاملہ نمایاں۔
#pti#kpk#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#sohailafridi
بلوچستان میں دہشتگردی ہو تو سرفراز بگٹی شہداء کے جنازے تک پہنچتے ہیں، مگر خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کے بارے میں سوال ہے: اگر طالبان کا خوف قیادت کو شہداء کے جنازوں سے بھی دور کر دے، تو پھر اس مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑا کون ہے؟
#جواب_دو#cmkpk#سہیل _آفریدی
بلوچستان اور کے پی دونوں صوبوں میں دہشتگردی ہے لیکن سہیل آفریدی اور سرفراز بگٹی میں بہت فرق ہے۔اگر وہاں کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو اس کے جنازے کو کندھا دینے والا پہلا شخص سرفراز بگٹی ہوتا ہے لیکن سہیل آفریدی نہ تو جنازوں میں جاتے ہیں اور نہ ہی طالبان کے ڈر سے مذمت کا بیان دیتے ہیں