نمرود نے حضرت ابراہيم عليہ السلام کو ستايا
تو الله تعالی نے اس پر ایک مچهر مسلط کردیا
نمرود خود بهی اپنے سر پر جوتے مارتا تها
اور دوسروں سے بھی جوتے مرواتا تها
فرعون نے حضرت موسی عليہ السلام کو ستايا
تو الله تعالی نے دس محرم کے دن فرعون کو غرق کر دیا
روافض نے آل النبی محمد صلی عليہ وسلم کو ستايا تو الله تعالی نے فرعون کی ہلاکت والے دن ان پر نمرود کے جیسی سزا مسلط کردی وه ہميشہ خود کو خود ہی مارتے ہيں ۔
جوتوں سے نہيں......
بلکہ زنجيروں ، چهريوں اور تلواروں سے
جس طرح 1956 کے نہر سویز کے بحران نے برطانوی ایمپائر کا آفیشلی خاتمہ کر دیا تھا اسی طرح ایران کے خلاف جنگ نے امریکی ایمپائر کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ صلح ایران کی شرائط پر ہوئی ہے۔ امریکہ بےبس ثابت ہوا۔
امریکی صحافی ٹکر کارلسن
ہمیں اس بات سے اتفاق کرنا ہو گا کہ لوگوں کو ٹرمپ کو ایران پر شک کا فائدہ دینا بند کرنے کی ضرورت ہے اس نے 40 بار جھوٹ بولا ہے کہ "معاہدہ بہت قریب ہے۔" ٹرمپ ایسے بیانات دیکر صرف بازاروں میں ہیرا پھیری کر رہا ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ پیسے بنا رہا ہے۔
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے بالواسطہ مذاکرات کی خبریں جھوٹی کیوں ہیں ؟
کیونکہ
عمران خان عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پلاننگ میں کہیں فٹ نہیں بیٹھتے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے وہ لوگ چاہیئیں جو انکی ہاں میں ہاں اور نہ میں نہ ملائیں
اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ مذاکرات یا کسی بھی ڈیل کے باوجود عمران خان کی رہائی انکے ہاتھ سے کنٹرول ایک دم اور مکمل چھین لے گی جسے وہ بیرحم طاقت کے استعمال سے بھی واپس نہیں لے سکیں گے
اس لئے مقامی اور عالمی دونوں اسٹیبلشمنٹ اپنی اور اپنے منصوبوں کی بقا کیلئے کبھی یہ چاہ نہیں سکتے کہ وہ رہا ہوں۔
جب ایسا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ کسی بڑی احتجاجی تحریک کے بھی کوئی آثار نہیں تو وہ بھلا کیوں عمران خان سے مذاکرات کریں گے۔
عمران خان سے وہ بات کرنے کی تبھی ضرورت محسوس کریں گے جب عوامی دباؤ انکی چوکھٹ پر پہنچ کر دہلیز اور دروازے توڑنے پر آ جائے۔ اور ابھی ایسا کچھ نہیں ہے
اس لئے مذاکرات کی تمام باتیں جھوٹ اور بکواس ہیں
قومیں قربانیاں دے کر بنتی ہیں۔ امریکیوں کے جوتے پالش کرکے قومیں نہيں بنتیں۔
عمران خان کی کمال کی تقریر
۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان کی اس تقریر کا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہوا۔ ایرانیوں نے قربانیاں دیں پہلے سے بھی طاقتور قوم بن کر ابھرے۔ ساری دنیا مان گئی۔ سب احترام کرتے ہیں۔
دوسری طرف کچھ ملکوں کے حکمران اب بھی جوتے پالش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسے امریکہ مہربان ہو کر انہيں عظیم قوم بنا دے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ
“فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟!
مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ:
“ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے”
فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟
انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔