فلسطین اور لبنان میں جس طرح کے ظلم و بربریت کا مظاہرہ اسرائیل نے شروع کر رکھا ہے اسے دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آخری انجام کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔اسی طرح بڑے افسروں اور اعلی اہکاروں کی عیاشیوں کیلئے شہباز حکومت نے ظالمانہ ٹیکسوں کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اسے دیکھ کر بھی یہی لگتا ہے کہ کم از کم پاکستانی بدمعاشیہ کا وقت آخر بھی قریب آ لگا ہے۔
میدان جنگ کی بجائے میز پر معاہدہ ہونا ایران کی بڑی کامیابی ہے اور امریکی حکمت عملی کی ناکامی ہے تاہم یہ امریکہ کی شکست نہیں ہے مگر جنگ بندی کروا کر پاکستان نے اسرائیل کے عزائم کو ناکام بنا کر اسے اور خطے میں اس کے اتحادیوں اور امریکہ میں ان سب کے حواریوں،وظیفہ خوروں اور انکی لابیوں سمیت سب کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔بچھڑے کے پچاریوں کی طرف سے جواب امریکہ میں انکے حمایتی میڈیا کے مخصوص پراپیگنڈے کے ذریعے بھی آئیگا،کے پی اور بلوچستان میں بھی آئیگا،پہلے ہی سے متحرک سیاسی عناصر کے ساتھ مزید کے اضافے سے بھی آ سکتا ہے اور مشرق سے گائے کے پجاریوں کے لہو کو بھی گرمانے کی کوشش بھی خارج از امکان نہیں۔پاکستان کی اس سفارتی فتح سے جہاں بے بہا امکانات و مواقع پیدا ہوئے ہیں وہیں بے شمار اطراف سے خدشات و خطرات بھی نظر آ رہے ہیں۔
فیصل آباد ڈویژن، سرگودھا ڈویژن، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں شوگر ملوں کا جال کس نے بچھایا؟ کیا یہ سب کپاس کے علاقے نہیں تھے؟
بجلی کے کارخانے بھی انہی کے
سبسڈی بھی انہی کے لئے، حکومتیں بھی انہی کی
چینی کی قیمت بھی انکی مرضی کی
"دوستو! میں کچھ دن غائب ہوا". میرے ساتھ "جو ہوا ہے وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں". ایف آئی اے نے انھیں کیوں اٹھایا اور کیسے چھوڑا ؟
سوچنے کا مقام ہے کہ وطن کی محبت کا دم بھرنے والوں کو متنفر کرنے کےلیے کون ہے جو سرگرم ہے؟
مولانا فضل الرحمان صاحب نے پندرھویں صدی کا دوسرا سب سے بڑا حق بیان کیا ہے۔(پہلا باجوہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا تھا).یہ حقیقت ہیکہ دو ہزار دس میں جامعہ اشرفیہ میں منعقدہ اکابر علماء دیوبند کی مجلس میں طویل بحث مباحثے کے بعد اس امر پر اتفاق ہو گیا تھا کہ پاکستان میں مسلح بغاوت ناجائز عمل ہے۔بریلوی مکتب فکر اور اہل حدیث حضرات پہلے ہی اس پر متفق تھے۔اس اتفاق رائے کے باوجود اس موقف کو بھرپور طور پر عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا جا سکا کیونکہ ایسی کوشش کرنے والی آوازوں کو گولیوں سے خاموش کر دیا جاتا رہا۔دوسری طرف قرائن سے ریاست بھی یکسو نہیں لگتی تھی۔اب پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالی نے پوری قوت سے وقت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس حق کو بیان بھی کیا ہے اور باطل کو للکارا بھی ہے۔ریاست نے علماء کی کیا حفاظت کرنی ہے۔اہل حق کی حفاظت الحق خود کرتا ہے۔جس ذہنیت کی دستبرد سے کبائر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانیں محفوظ نہ رہ سکیں ان کے ہاتھوں شہادت پانا یقیناً باعث سعادت و افتخار ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی وہ صاف شفاف آسمان کی طرح تھے اور ہیں کہ جن کی طرف جس جس نے جب جب بھی تھوکنے کی کوشش کی تو تھوک خود ان کے منہ پر آ گری
Nation Always Love & Respect Faez Isa
حمید گل سے شروع ہوں اوریا مقبول جان سے ہوتے ہوۓ ساحل عدم پر بریک لگائیں یہ سارے جو انقلاب بیچ رہے ہیں فسادی ہیں اسلام کبھی انقلاب سے نہیں پھیلا اسلام پر آمن طریقے سے پھیلا ہے
Federal Minister for Energy (Petroleum Division) @AliPervaiz450 joins me on the show and explains on map plans for Pakistan’s oil supply options. Very interesting indeed! :)
@soulat_pasha نغمہ کجا و من کجا، ساز سخن بہانہ ایست
سوئے قطار می کشم ناقہ بے زمام را
(کہاں میں اور کہاں شاعری،اپنی شاعری کے ذریعے میں ایک بے لگام اونٹنی(امت) کو "بنیان مرصوص" بنا رہا ہوں)
اور
"بیا تا کار ایں امت بسازیم
قمار زندگی مردانہ بازیم
چناں نالیم اندر مسجد شہر
دلے در سینہ ملا گدازیم"
یہی ہم کہتے تھے کہ عمران خان کا ریاست مدینہ کا تصور وہ نہیں ہے جو مذہبی طبقہ سمجھ رہا ہے۔اب "شھد شاھد من اھلھا" کے مصداق انکے ایک قریبی مشیر اور وزیر کی زبانی سمجھ لیجیے کہ انکی ریاست مدینہ انکے جلسوں ہی کی طرح کی تھی