کے پی میں 360 ڈگری تبدیلی، سیاسی ماحول یکسر بدل گیا ہے۔
سوات، مینگورہ میں اسے امیر مقام کا شو نہیں، تحریک انصاف کا سیاسی جنازہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں جوق در جوق شرکت ہوئی ہے۔ سوات سے ایک صحافی دوست کے مطابق اسی مقام پر اس سے کم اجتماعات کو تاریخی قرار دینے والے آج خود تعداد بتائیں!
خیبر پختونخوا، بالخصوص سوات کے عوام کو 13 سالہ سیاسی قرض اتارنے، عوامی بیداری اور مسائل کے حل کی امید کے ساتھ ایک نئی سیاسی شروعات پر مبارکبادیں مل رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں
اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
Many people have raised questions about alleged links between the PTI government and the TTP. Apart from the other evidence, I believe this video clip alone is enough
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
ارشاد بھٹی نے کیپٹن صفدر سے یہ سوال بھی پوچھا کہ فرائی پان سے کپڑے کس طرح استری کیئے جاسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے انسان جیل جائے بغیر یہ تصور ہی نہیں کرسکتا کہ وہاں کس طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔اڈیالہ جیل کی یاترا سے پہلے مجھے بھی مریم نوازشریف کا فرائی پان سے کپڑے استری کرنے کا دعویٰ ناقابل فہم محسوس ہوتا تھا۔جیل کے سیل میں چائے بنانے یا کھانا گرم کرنے کے لیئے کوئلوں کی انگھوٹھی استعمال ہوتی ہے۔فرائی پان کو اچھی طرح صاف کرکے کوئلے دہکا کر اس پر رکھے جاتے ہیں اور پھر کپڑے استری کیئے جاتے ہیں۔یہ معمول کی بات ہے
President Donald Trump played a historic role in advancing peace in South Asia. His timely intervention helped bring Pakistan and India back from the brink and secure a ceasefire, that is holding till today.
In recognition of his outstanding contribution, Pakistan had nominated President Trump for the Nobel Peace Prize.
We sincerely hope President’s efforts to promote peace and prevent conflict in our region receive due recognition this time.
@realDonaldTrump@NobelPrize
محترمہ فرزانہ علی صاحبہ! کیا آپ نے ایک صحافی کی حیثیت سے واقعی رپورٹ کے حقائق کو پڑھنے کی زحمت کی ہے، یا صرف طنز کرنے کی جلدی تھی؟
ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کے متن میں صاف اور واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ خطے میں غربت کا اضافہ بنیادی طور پر پاکستان میں 2018 کے بعد معاشی بگاڑ کی وجہ سے ہوا، جہاں 2018 کے بعد سے غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا ایک خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آپ ایک صحافی ہونے کے ناطے خوب جانتی ہیں کہ 2018 سے 2022 کے درمیان ملک پر کس کی حکومت مسلط تھی؟ یہ 6.4 فیصد کا ہولناک اضافہ اسی چار سالہ دورِ حکومت کی بدترین نااہلی، معاشی ناطاقتی، آئی ایم ایف کے معاہدوں سے انحراف اور معیشت میں بارودی سرنگیں بچھانے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ یہ رپورٹ تو عمران اور تحریک انصاف کے خلاف کھلی چارج شیٹ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطلق اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے مثبت معاشی اقدامات اور اصلاحات کے باعث ملک میں معاشی نمو (Growth) 3.8 فیصد پر جا رہی ہے اور مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے گر کر 8.2 فیصد پر آ چکی ہے۔اس رپورٹ میں صوبائی کارکردگی کا موازنہ بھی پڑھ لیتے ، آپ کی پسندیدہ جماعت پچھلے 13 سال سے خیبر پختونخوا پر مسلط ہے، مگر نتیجہ یہ ہے کہ بلوچستان کے بعد پورے پاکستان میں سب سے زیادہ غربت، بے روزگاری اور قرضے خیبر پختونخوا میں ہیں،13 سالوں میں وہاں نہ کوئی نئی صنعت لگی اور نہ روزگار پیدا ہوا، صرف صوبائی وسائل کو دھرنوں اور اسلام آباد پر لشکر کشی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے برعکس جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور پنجاب کا ترقیاتی ماڈل رہا، وہاں پورے ملک میں سب سے کم غربت ریکارڈ کی گئی۔
صحافت کا تقاضا ہے کہ خبر کو ادھورا پیش کر کے اپنے سیاسی بغض کو تسکین دینے کے بجائے اپنی پارٹی کے 4 سالہ وفاقی اور 13 سالہ صوبائی معاشی تباہی کے حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
Too good by Safdar bhai 😂👏😂
Especially last 30 seconds.
“Khud designer jutay pehan ke bethay ho aur sawal puch rahay hai Sharif family ki numaish par”
😁👏
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات ہوئی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیکرٹری جنرل کے اصولی عزم کو سراہا۔ انہوں نے اپنے دورِ منصب کے دوران عالمی امن و سلامتی کے لیے سیکرٹری جنرل کی نمایاں خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام کو اہم چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ کا مؤثر کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کے UN80 اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں، جبکہ تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور قیامِ امن کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں۔
وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انکی ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کو ترقی اور موسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ سے زیادہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، جن میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا اہم کردار اور سلامتی کونسل میں اس کی تعمیری شمولیت شامل ہے۔
سیکرٹری جنرل نے مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
سب دوست یہ ویڈیو سیو کر لیں!
آج پشاور میں اقرا یونیورسٹی کے طلبہ کے فیسوں میں اضافے کے اختجاج پر تحریک انصاف کی 14 سالہ حکومت میں سکیورٹی گارڈ براہ راست فائرنگ کر رہے ہیں۔
4، 5 دن بعد یوتھیا اس کو اپنے دھرنے کی ویڈیو بنا کر وائرل کریں گے۔ اس وقت یہ ویڈیو کام آئے گی۔
Update-Ghazab lil Haq
Islamabad, 01 October, 2026
Through precise aerial and drone strikes, as reflected in the attached clip, terrorist hideout and camps belonging to Fitna al Khwarij and Fitna al Hindustan at two locations in areas under the control of the Afghan Taliban regime were comprehensively destroyed.
Large quantities of weapons and ammunition stockpiled at the terrorist hideouts / camps were also destroyed through calibrated and precisely targeted aerial strikes.
اللہ کی شان ہے 27 ستمبر کو انڈیا نے پاکستان میں انتشار کی منصوبہ بندی بنا رکھی تھی عوام اور پولیس نے لڑنا تھا انڈیا کے میڈیا نے دنیا بھر میں وہ مناظر دیکھانے تھے تیاری مکمل تھی مگر وہ تماشہ خود انڈیا میں شروع ہو گیا آگ وہاں جل اٹھی سٹوڈنٹ وہاں مشتعل ہو گے
🇵🇸🇵🇰“For generations, Palestinians, particularly women, children, and the elderly, have been subjected to occupation, eviction, suffering, and death.
Last year, Mr. President, I had shared with you the heart-wrenching story of Hind Rajab, an innocent Palestinian girl who was brutally shot by Israeli soldiers. This year, another tragedy weighs heavily on our hearts, your heart, and the world's heart. This time, it is the deafening cries of the sobbing mother of eight-year-old Wafaa Akila, who embraced martyrdom in this senseless aggression. What should have been the first day of her school, alas, became the last day of her life. Does not a child born in Gaza deserve the same life and the same future and the same dream as a child anywhere else in the world?
The tragedies of Hind Rajab, Wafaa Akila, and countless others will echo through history as an indictment of our collective silence, failure, and inaction.”