سہیل آفریدی کا دھواں دھار خطاب
13 اکتوبر کو ہم اتنی تعداد میں صوابی میں ہوں گے کہ کسی کا باپ بھی گولی نہیں چلاسکے گا صوابی سے آگے جانے کے لیے تیار ہو ؟ ڈرو گے تو نہیں؟ سواری نا ہوئی تو پیدل صوابی سے آگے جائیں گے ۔
وزیر اعلیٰ کا مردان میں خطاب
یہ ہے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی خیبر پختونخواہ بریگیڈیئر عمر شریف، جو لانگ مارچ کو ناکام بنانے، سہیل آفریدی کو قابو کرنے، اور ورکرز کو اغواء کروانے کا آپریشن لیڈ کررہا ہے۔ ممبر کے پی اسمبلی کو بھی یہی براہ راست فون کروا کر دھمکا رہا ہے۔
مزید رپورٹ بھی جلد سامنے آجائے گی!
پنجاب کے لوگوں یاد رکھیں، جب پنجاب سڑکوں پر نکلے گا تب ہی عمران خان جیل سے نکلے گا کیونکہ پنجاب پاکستان کی آبادی کا 60% ہیں۔
یہ عمران خان کی زندگی کا سوال ہے، آپ سب بہادر لوگ ہو پلیز نکلیں عمران خان کی خاطر 🙏
بریکنگ نیوز 🚨سہیل آفریدی کا بڑا حکم جاری۔ سب اکھٹے ہو جاؤ، مقابلہ کریں گے 🔥🔥
وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کو فوری طور پر احتجاجی ریلیاں نکالنے کی ہدایت کر دی۔ کوئی گھر نہ بیٹھے، خاموشی نہیں دیکھانی، ہمت کرنی ہے۔ اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کرنا ہم پر فرض ہے۔ تیاری پکڑ لو۔
🚨اہم خبر!
نواز شریف لندن روانہ ہو گئے ہیں تاکہ عاصم منیر کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی فریقین اور ضامنوں سے ملاقات کر سکیں۔ شہباز شریف بھی ان کے بعد وہاں جائیں گے۔ اس کے بعد دونوں اگلے ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے۔ عمران خان کو "مائنس" کرنے کی نئی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ عاصم منیر، زرداری کے لیے بدستور ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایک اور "لندن پلان" بنایا جارہا ہے!
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
ایک دفعہ مذاکرات ہوں یا ہزار دفعہ، میرا مؤقف یہی رہے گا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ میں اس کی اجازت نہیں دوں گا، چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
ہمیں اپنے مشران نے کہا ہے کہ اگر آپ غیرت اور وزت کے لئے مر گئے تو مرے ہوئے شمار نہیں ہوں گے۔ اگر مرد کے بچے ہو تو مرد بن کر مقابلہ کرو
جنرلز کے نام پیغام :
پاکستانی جنرلز کو سمجھنا ہوگا۔ جنگیں اپنوں کے ساتھ نہیں لڑی جاتیں۔ آپکو جرنیل اس لئے نہیں بنایا تھا۔ جو آپ نے بلوچستان میں کیا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو آپ اس وقت کے پی میں کر رہے ہیں آپ اس کی تاب نہیں لا سکیں گے۔
پٹھان بہت چھتر ماریں گے۔ وہ پہلے ہی تنگ ہیں۔ حالات۔ کاروبار سے دہشت گردی سے۔ ڈرون سے۔ آپ کیوں انگلی کر رہے ہیں ایک اور صوبے کے ساتھ۔
یہ کھیلنا بند کریں۔ مت سب کو بے وقوف سمجھیں۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی ہے۔ اس کو بچا لیں۔
بنگلہ دیش کی باری انڈیا آیا تھا۔ یہاں سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ انڈیا نے 90 ہزار واپس کر دئیے تھے۔ افغانی مختلف کھیل کھیلیں گے۔
نہ کرو یار نہ کرو۔ نہ اپنا نہ ملک نہ ہمارا نقصان۔ عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سب لوگ سوشل میڈیا پر لانگ مارچ کے حوالے سے پیغامات بنا کر پوسٹ کریں ، ان ویڈیوز میں 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کی عوام سے اپیل کریں
اگلے دو روز میں ہر جانب صرف ایک ہی بات ہونی چاہیے، پہنچو پہنچو صوابی پہنچو
اگر ایمرجنسی لگائی گئی تو یہی قافلہ لے کر گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، سہیل آفریدی
پختونخوا کے نوجوانوں تیاری پکڑو اگر اس بار کسی نے آپ کا مینڈیٹ لوٹنے کی کوشش کی تو خالی ہاتھ مت جانے دینا۔
خیبر والو آپ کا شکریہ، آپ نے آج لانگ مارچ کو پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور اور اثر انداز بنا دیا ہے
انشاءاللہ کل پشاور میں لانگ مارچ طاقت کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
یہی وقت ہے اٹھنے کا، یہی وقت ہے فیصلہ کرنے کا۔ یاد رکھنا، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار