اے ایمان والو !
اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی ( کسی کے ذمے ) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف سے اعلان جنگ سن لو ۔
﴿سورۃ البقرۃ،۲۷۸-۲۷۹﴾
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
اللہ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کیا کرو اور ہدایت سے راستے کی ہدایت ذہن میں رکھا کرو اور درستگی کا معنی مراد لیتے وقت تیر کی درستگی اور سیدھا پن یاد رکھا کرو۔
{مسند احمد۔۶۶۴}
قال النبيﷺ:
اس(جمعہ کے) دن میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگے اللہ اسے وہی کچھ دےدیتاہےجب تک وہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرےاور اسی دن قیامت قائم ہوگی (اسلئے)ہرمقرب فرشتہ آسمان،زمین،تمام ہوائیں، پہاڑ اورسمندر جمعےکے دن سےڈرے رہتےہیں۔
ابن ماجہ۔۱۰۸۴
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا:
"ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی مانند ہے، کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رہتا ہے (گرنے نہیں دیتا)".
پھر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو قینچی کی طرح کر لیا.
بخاری 6026، 481
(مسلم 6585؛ ترمذی 1928؛ مشکوٰۃ 4955)
اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔
﴿سورۃ الاسراء ، ۲۳﴾
قسم ہے انجیر اور زیتون کی،اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی،اور اس امن و امان والے شہر کی،کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے،
﴿سورۃ التین ، ۱-۴﴾
﷽
قسم ہے فجر کے وقت کی،
اور دس راتوں کی،
اور جفت کی اور طاق کی،
اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو (کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ہوگی)
ایک عقل والے ( کو یقین دلانے ) کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں کہ نہیں؟
(سورۃ الفجر : 1،5)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اپنے نبی کریم ( ﷺ ) کو بہترین آواز کے ساتھ قرآن مجید ��ڑھتے سنا ہے ـ
( صحیح بخاری : 5024 )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اُس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا۔یقین جانو یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔
﴿سورۃ الحدید، ۲۲﴾
اور اپنے پروردگار کے نام کا ذِکر کرو، اور سب سے الگ ہوکر پورے کے پورے اُسی کے ہو رہو۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لئے اُسی کو کارساز بنالو۔
سورۃ المزمل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ کیا کرو اور زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو کی��نکہ میں نے دوزخیوں میں اکثریت تمہاری دیکھی ہے ۔
ایک عورت نے جب اسکی وجہ دریافت کی تو آپﷺنے فرمایا:
تم لعنت بہت بھیجتی ہو اور خاوند کا کفران ( ناشکری ) کرتی ہو۔
{صحیح مسلم۔۲۴۱}
اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:
رسول الله ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور فرماتے تھے:
"لَيْلَةَ الْقَدْرِ (شبِ قدر) کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو."
بخاری 2020
(مسند احمد 24737)
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور ہر ذی روح کو تخلیق کیا، بیشک یہ عہد ہے نبی اُمّی ﷺ کا میرے ساتھ کہ:
"مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بُغض (دشمنی، نفرت) رکھے گا."
مسلم 240
(ترمذی 3736؛ ماجہ 114؛ نسائی 5021؛ مشکوٰۃ 6088)