”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تُو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صُورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سِوا دُنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟؟؟؟
تُو جو مل جاۓ تو تقدیر نگوں ہو جاۓ
یُوں نہ تھا, میں نے فقط چاہا تھا کہ یوں ہو جاۓ
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
اَن گِنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اَطلس و کَمخواب میں بنواۓ ہوۓ
جابجا بِکتے ہُوۓ کُوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوۓ خون میں نہلاتے ہوۓ
لوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر کیا کیجیئے
اَب بھی دلکش ہے تیرا حُسن مگر کیا کیجیئے
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
مجھ سے پہلی سی مُحبت میرے محبوب نہ مانگ
فیض احمد فیض
آواز : ضیاء محی الدین
کسی بھی انسان کو یہ حق مت دیں
کہ
وہ محفل میں بیٹھ کر آپکے بچے کی تعلیم، رنگ، قد
یا ذہانت پر بات کرے.
جب آپ بچے کو نشانہ محفل اور حوالہ محفل کر دیتےہیں
تو
وہیں پر بچہ اپنا اعتماد کھوتا چلا جاتا ہے
جس کی بھرپائی وہ تاعمر کرتا رہتا، مگر ہو نہیں پاتی.