My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.
سویر دا سلام مترو ❤️
ہیر وارث
پڑھےعلم جو کرے نا عمل بَھورا ،وچ حاویا دوزخے سَٹنا اے
جہیڑا حق ُنوں کرےنا حق میاں ،ایس جگ تَوں اوس کی کَھٹنا اے
او وڈا کُھوہ ڈُونگا وچ نَرگ ہیگا ، رب قاضیاں نُوں اوتھے سَٹنا اے
زُہد بندگی رات دن کرن ناہیں ،وِچ اَگ برائیاں دےدَھکنا اے
#میراپنجاب
10::_ مجھ معصوم کی عقل بس اتنی ہی کام کرتی ہے۔ اس سے زیادہ سوچنا میرے بس میں نہیں کہ ایران کو اس حماقت سے اور کیا کیا نقصان اٹھانے پڑے۔
جو جو آپ کے علم میں ہیں لکھ دیں تاکہ ہم ایرانیوں کی عقل پر ماتم کریں۔
اور ہاں کسی کو اس احمق ایرانی کمانڈر کا نام پتہ چلے تو مجھے بھی بتائے میں
سے دوسرے جہاز ایک میزائل سے دوسرے میزائل کی طرف بھاگتے رہے سب کو تیلی لگا لگا کر اڑایا انہوں نے ایران کے اندر گھس کے مارا اور واپس آ گئے اور ایرانیوں نے ہمارے جہازوں پر شرلی تک نہیں پھینکی۔ آج سارا دن بارڈر بھی کھول کر رکھا تاکہ تجارت بھی جاری رہے۔
کی بحری ناکہ بندی کر رہے ہیں۔
9::_ آپ سب نے دیکھا ہی ہو گا کہ ایرانی کتنے احمق اور ڈرپوک ہیں کہ ہم نے کل دن میں ہی کہہ دیا تھا کہ ہم تمہاری چھتر پریڈ کریں گے اسکے باوجود ہمارے سپائڈر میں حافظ سید عاصم منیر صاحب مدظلہ کل ساری رات کوئٹہ میں ایک جہاز
ننے کاکے پاکستان کو بدمعاش ایران سے بچانے کے لیے ایک آدھ بحری بیڑہ بحیرہ عرب میں تعینات کر دے۔ آخر یہ پہلے بھی تو ہوا ہے افغانستان پر میزائل برسانے کیلئے پہلے بھی تو بحری بیڑے کھڑے رہے ہیں۔ ہمیں مشوم ننے کاکوں کو قطعاً معلوم نہیں ہے کہ امریکہ روس چین ایک دوسرے
پاکستانی حملے میں پاکستانی شہریت رکھنے والے بلوچ مارے گئے لیکن بڑے سناریو میں شیعہ سنی بھائ بھائ کے بجائے دشمن ٹھہرے ہیں۔
8::_ یہ پوائنٹ ابھی اسٹیبلش نہیں ہوا لیکن اس حملے کے تناظر میں یہ کوئ بڑی بات تو نہیں ہو گی کہ امریکہ اپنے سب سے بڑے نان نیٹو اتحادی
اٹھانے کے باوجود تحمل کا بھائ چارے کا درس اور صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ ایک ایرانی احمق کی وجہ سے مرگ بر ایران کے نعرے ہر پاکستانی کی زبان پر آ گئے۔
کیا یہ کمال اتفاق نہیں کہ ایران کے حملے میں ایرانی شہریت رکھنے والے بلوچ مارے گئے
موت تجویز ہوا تھا۔
7::_ عمران خان کی حمایت میں علامہ راجا ناصر ڈٹ کر کھڑے ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی نظریاتی کے بجائے ان سے الحاق کا شور و غوغا تھا۔ پارا چنار میں شیعہ کمیونٹی پر ہونے والے ظلم گلگت میں ہوئ ٹارگٹ کلنگ کے باوجود شیعہ سنی بھائ بھائ کی فضا تھی شیعہ کمیونٹی کی جانب سے نقصان
لوگ مارے گئے ہیں حسن اتفاق سے ان لوگوں کے خاندان دھرنے میں شامل ہیں۔ ایک دم سے وقت بدل گیا حالات بدل گئے جذبات بدل گئے مظلوم تو دہشتگرد ثابت ہو گئے۔ اور کیا ہی حسین اتفاق ہے کہ ایران میں ہوئے آپریشن کا نام
"مرگ بر سرمچار" یعنی بلوچ آزادی پسندوں کی
6::_ بلوچ مظاہرین اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے تھے عوام کی تمام تر ہمدردیاں ان کے ساتھ تھی پورا پاکستان پختونوں اور بلوچوں کا درد محسوس کر رہا تھا لیکن نجانے کیا ہوا کہ پاکستانی جوابی حملے کے چند گھنٹوں بعد بلوچ مظاہرین کی سربراہ کو پتہ چل گیا ایران میں جو