یہ تحریک، ایک نظریہ ہے، عزم اور جدوجہد کی علامت ہے۔
جب قومیں اپنے حق اور انصاف کے لیے متحد ہو جائیں تو کوئی رکاوٹ انہیں ہمیشہ کے لیے نہیں روک سکتی۔
عزم قائم ہے، جدوجہد جاری ہے۔
خان ڈٹا ہوا ہے ہمت ہے تو خان کو رہا کرکے مقابلہ کرو۔
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
ایک فوڈ انسپکٹر نے دو ارب نو کروڑ اٹھانوے لاکھ کی کرپشن کی ہے۔ اس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے ۔ آپ سب لوگ یہاں بیٹھے ہیں کیا دو ارب 9 کروڑ 98 لاکھ کی کرپشن کے بعد نوکری کی ضرورت رہتی ہے ۔ سابق رکن قومی اسمبلی سائرہ بانو کا انکشاف
نورین خان نیازی تو غدار ہیں، جن کے ایک ایسے انٹرویو کا چھوٹا سا کلپ وائرل ہوا جو آج تک کہیں شائع ہی نہیں ہوا۔
اصل محب وطن میاں صاحب ہیں جو بھارت جا کر فرما رہےتھے کہ کارگل میں میری فوج نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔
اور بھارتی وزیراعظم واجپائی صاحب کی بات بالکل درست ہے۔
اس نقشے کو غور سے دیکھیں۔
ایران نے میزائل مار مار کر اردن کو بھرکس نکال دیا ہے۔ کل ایک ایسا میزائل مارا جس سے امریکی فوجی ہی غائب ہوگیا۔ امریکی حیران و پریشان ہیں کہ فوجی کدھر گیا۔ کیا میزائل میں کچھ ایسا تھا جس سے فوجی تحلیل ہوگیا۔
نقسے کو دیکھیں۔ اردن کے ساتھ جو چھوٹی سی سفید پٹی ہے وہ اسرائیل ہے۔ اردن پر میزائل مار کر ایران اسرائیل کو پیغام دے رہا ہے کہ تمہارے لئے مال تیار ہے۔ ہماری اور امریکہ کی جنگ میں نہ کودنا۔ کودے تو تم ایرانی میزائلوں کی پوری طرح رینج میں ہو۔ اور اس بار ہم میزائلوں پر اضافی مصالحہ بھی لگائیں گے۔
ویڈیو ثبوت 🚨
وہ لمحہ جب 2015 میں نریندر مودی اچانک بغیر ویزے کے دو درجن لوگوں کے ساتھ مریم نواز کی بیٹی کی شادی میں پہنچ گیا۔
اس ویڈیو کو ہر جگہ پھیلا دیں
امریکیوں نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کیں تو میں نے ہلکا سا تبسم کیا اور اسٹیو ویٹکوف سے پوچھا:
کیا تم کسی ایسے جلسے میں گئے ہو یہاں پر ہر وقت بمباری کا خدشہ ہو کہ کب دشمن مذاکرات کی میز کو اڑا دے؟
کیا تم ہر میٹنگ سے پہلے اپنی فیملی کو کال کر کے خدا حافظی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ شاید یہ آخری بار گفتگو ہو، کہا سنا معاف کر دینا؟
پھر میں نے ویٹکوف سے کہا کہ ہم ان حالات میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہمیں دھمکی نہ دو۔ ہم ایرانی ان دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم اپنے لوگوں کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
منیب فاروق فرما رہے ہیں کہ شہباز شریف کی قسمت پر تو نواز شریف رشک کرتے ہوں گے کہ تین بار وزیراعظم بن کر اسٹیبلشمنٹ سے ان کی نہ بن سکی۔
جبکہ شہباز شریف کی فیلڈ مارشل کے ساتھ زبردست bonding ہے۔
ماشاءﷲ سے صحافت کا ��الم یہ ہے کہ اس میں عوام کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں۔ 👏👏👏