ہر غیبت کرنے والے ، طعنے دینے والے کی خرابی ہے ۔
جو مال جمع کرتا اور اُس کوگِن گِن کر رکھتا ہے ۔
شاید وہ یہ خیال کرتا ہے کہ ۔
اُس کا مال اُس کی ہمیشہ کی زِندگی کا مؤجب ہو گا ۔
ہر گِز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا
سورہ الھمزہ
سوشل میڈیا، جھوٹی خبریں اور ہماری ذمہ داری: حقائق پر تحقیق کی اشد ضرورت
سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کا پھیلاؤ جس قدر آسان اور تیز ہو چکا ہے، اسی قدر گمراہ کن اور جھوٹی خبروں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ محض چند "لائکس"، "شیئرز" اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لوگ کسی بھی تاریخی، مذہبی یا عام تصویر اور ویڈیو کے ساتھ من گھڑت داستانیں جوڑ کر وائرل کر دیتے ہیں۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ بغیر کسی تصدیق، ثبوت یا تحقیق کے ان باتوں پر نہ صرف یقین کر لیتا ہے بلکہ مذہبی عقیدت کے جذبے میں اندھا دھند تبصرے اور شیئرنگ شروع کر دیتا ہے۔
💫تحقیق کے بغیر یقین: ایک خطرناک رویہ
حال ہی میں سوشل میڈیا پر کپڑے کے ایک قدیم ٹکڑے کی تصویر وائرل کی گئی، جسے بغير کسی ثبوت کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک چادر سے منسوب کر دیا گیا۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے جذبات کی رو میں بہہ کر اسے سچ مان بیٹھے، جبکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ وہ کپڑا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بھی صدیوں پہلے (تقریباً 3000 سال پرانا) ایک بادشاہ کی پوشاک کا حصہ تھا، جو آثارِ قدیمہ کی دریافت کے طور پر میوزیم میں محفوظ ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اور بحیثیت مسلم معاشرہ کس قدر سست روی کا شکار ہو چکے ہیں کہ ہم سنی سنائی باتوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں۔
💫دینِ اسلام میں تحقیق کی اہمیت
اسلام نے کسی بھی خبر پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے اس کی تحقیق کا واضح حکم دیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق:
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو۔" (سورۃ الحجرات)
خبروں کی تصدیق نہ کرنا اور جھوٹ کو آگے پھیلانا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ دینی نقطہ نظر سے بھی انتہائی سخت ناپسندیدہ فعل ہے۔ لائکس اور وائرل ہونے کی ہوس میں جھوٹ کا سہارا لینا گناہِ عظیم ہے۔
آگے کا راستہ:
💫سوال اٹھائیے، ثبوت مانگیے
اس رجحان کو بدلنے کے لیے درج ذیل اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہے:
* اندھی عقیدت سے گریز: مذہبی لگاؤ اپنی جگہ، لیکن معلومات کی سچائی کا پرکھنا عقیدت کے منافی نہیں بلکہ دینی حکم ہے۔
* سوال پوچھنے کی عادت: جب بھی کوئی حیران کن یا مذہبی نسبت والی خبر نظر آئے، تو پہلا سوال یہ ہونا چاہیے: "اس کا ثبوت یا ماخذ (Source) کیا ہے؟"
* ٹیکنالوجی اور سرچ ٹولز کا استعمال: گوگل ریورس امیج سرچ (Reverse Image Search) اور دیگر ٹولز کے ذریعے کسی بھی تصویر کی اصل حقیقت منٹوں میں معلوم کی جا سکتی ہے۔
* غیر تصدیق شدہ مواد کو نہ پھیلائیں: جب تک کسی بات کی حتمی تصدیق نہ ہو جائے، اسے آگے شیئر کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔
سوشل میڈیا پر ہر وائرل ہونے والی چیز سچ نہیں ہوتی۔ بحیثیت ذمہ دار شہری اور مسلمان، یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم جھوٹ کا سدِ باب کریں، عقل و شعور کو استعمال کریں اور کسی بھی خبر پر لبیک کہنے سے پہلے تحقیق کو اپنا
شعار بنائیں۔
جزاک اللہ خیر
شاہد جرال
یو ایس اے
٨/٢٨/٢٠٢٦
"نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ" (انہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا)۔ التوبة ٦٧
اسلام میں اللہ کے "بھول جانے" سے مراد نسیان کی انسانی کیفیت نہیں، بلکہ بندے کو اس کی غفلت کا بدلہ دینا ہے۔ جب انسان اپنے خالق کے احکامات، اس کی یاد اور ہدایت کو فراموش کر کے دنیوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالی بھی اسے اپنی خاص رحمت، ہدایت اور توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔ اس محرومی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان دنیا اور آخرت کی حقیقی کامیابی سے بھٹک جاتا ہے اور مشکلات کے وقت خود کو تنہا پاتا ہے۔ یہ جملہ دراصل ایک عبرت ناک تنبیہ ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اس کا اپنے رب سے تعلق ہی اس کی بقا اور سکون کی اصل ضمانت ہے۔