بیک وقت سیاسی رہبر فقیہہ العصر مفتی اعظم شیخ الحدیث اور وقت کا ذہین و فطین شخصیت دلائل کا بے تاج بادشاہ فاتح قادیانیت،
14 اکتوبر 1980 خصوصاً علمائے دیوبند کیلئے دردناک دن جس دن مفتی صاحب ہم سے جدا ہوگئے۔
رب کریم مفتی محمود رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
#مفکراسلام_مفتی_محمود
#مفتی_محمود_فکر_و_کردار
#محافظ_آئین_مفتی_محمود
#MuftiMahmoodLegacy
#MuftiMahmoodStruggle
جنرل مشرف سے لے کر آج کے آرمی چیف تک، تمام ادوار میں اگر ملکی حالات خراب ہوئے ہیں، دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامیاں ہوئی ہیں، بار بار آپریشنز کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا، تو یہ ان کی ناکامی ہے، ان کی سوچ کی ناکامی ہے، ان کی حکمتِ عملی کی ناکامی ہے اور ان کے فلسفے کی ناکامی ہے۔
آج مجھے کہا جا رہا ہے کہ میرے آپریشنز کی حمایت کرو، ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی تردد نہیں، لیکن 2010ء سے لے کر اب تک کے آپریشنز کا نتیجہ تو بتائیں۔
جب ہم یہاں پر آزادی مارچ کر رہے تھے تو نہ بی ایل اے تھا، نہ ٹی ٹی پی تھی۔ پورے ملک سے، دور دراز کے بلوچستان کے علاقوں سے قافلے آ رہے تھے، بدین سے قافلے آ رہے تھے، گلگت اور کوہستان سے قافلے آ رہے تھے، چترال سے قافلے آ رہے تھے۔ حالات ٹھیک ٹھاک تھے۔
آج آپ ڈیرہ اسماعیل خان میں نہیں پھر سکتے۔ پولیس تھانے کے اندر نہیں رہتی، تھانے رات کو خالی ہو جاتے ہیں اور تھانے کی پولیس کے لوگ محلے کے گھروں میں رات گزارتے ہیں۔
اس میں صرف ہم دہشت گردوں کو زیرِ بحث لائیں گے اور تمہاری ناکامیوں کو زیرِ بحث نہیں لائیں گے؟ تمہاری غلط حکمتِ عملیوں کو زیرِ بحث نہیں لائیں گے؟
ہاگر ہم نے ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر وفاق میں لگاؤ۔ یہ بھی ناجائز حکومت ہے، یہ بھی دھاندلی کی پیداوار ہے، یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی عمل داری کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ یہ بھی دہشت گردی کے خلاف ناکام ہے۔ ناکامیوں کا تو کوئی حساب نہیں، لیکن بیانیہ میرے مطابق بناؤ، اس پر ملک کو تباہ کرو، صوبے کو تباہ کرو، آئین کو تباہ کرو، سب کچھ دفن کر دو۔ یہ کون سی عقل کی بات ہے؟
میرے ان گزشتہ کئی سالوں میں جو شہداء ہیں، ڈھائی سو تک، میں نے اکابر علماء کرام اور کارکنوں تک کی قربانیاں دی ہیں۔ یہ کس وجہ سے؟ میرے ایک جلسے میں میں نوے لاشیں اٹھا رہا ہوں۔ یہ کس بنیاد پر؟
اگر ہمارے ادارے کہتے ہیں کہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں، بالکل ٹھیک ہے، لیکن کیا ہم اس ملک کے لیے اور ملک کے آئین کے لیے قربانیاں نہیں دے رہے؟ لیکن ہم اسلحہ نہیں اٹھا رہے، ہم دلیل کی بات کرتے ہیں، سلیقے سے ہم اپنے سیاسی کردار کی بات کرتے ہیں، اور اس کی بھی ہم سزا پا رہے ہیں۔
کوئی بھی آدمی غیر مسلح آدمی کے ساتھ نہیں لڑتا۔ مسلح آدمی بھی سوچتا ہے کہ یہ غیر مسلح ہے تو میں نے اس کے ساتھ نہیں لڑنا۔ بوڑھا آدمی اسلحہ نہیں اٹھا سکتا، اس کو نہیں مارنا؛ عورت اسلحہ نہیں اٹھا سکتی، اس کو نہیں مارنا؛ بچہ اسلحہ نہیں اٹھا سکتا، اس کو نہیں مارنا۔
ہم نے تو صرف اختلافِ رائے کے نتیجے میں یہ قربانیاں دی ہیں۔
ہم اس فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں، اور عوام کا فورم، پارلیمنٹ کا فورم اور عدالت کا فورم، ہم اس کے خلاف استعمال کرنے کی طرف جائیں گے۔ جماعتی سطح پر اس کے لیے ہم حکمتِ عملی بنائیں گے۔