کشمیر ایشو (حصہ اوّل)
پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے
جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے
ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے
داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں
کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے
کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے
غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا
کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں
ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا
👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا
اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟
👇👇👇
سب سے پہلی اور اہم بات
یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے
پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا
اور نہ ہے
بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا
وزیزاعظم شہباز شریف نے
اب ہم شروع کرتے ہیں
کہ معاملہ ہے کیا؟
اور کب سے شروع ہے؟
معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے
جو تاجروں نے شروع کیا
اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب
مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں
پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی
پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا
اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے
اور اس پلیٹ فارم کو
”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“
کا نام دے دیا گیا
سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے
سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں
اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے
اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا
یہاں یہ بات واضح رہے
کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا
کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا
ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا
آپکو بھی یاد ہوگا
کہ آج سے 8 ماہ پہلے
کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا
وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا
کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی
ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے
اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے
جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے
دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی
اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی
مذاکرات مذاکرات مذاکرات
تے کم دھلے دا نئیں
حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر
اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا
کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی
اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے
کشمیر حکومت نے 3 فروری کو
اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے
اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے
یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے
اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں
اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا
وہ تین مطالبات یہ تھے
👇👇👇
پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ
دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ
( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے)
تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں
👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا
اُس میں بہانہ لگایا گیا
کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے
اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے
پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں
پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ
منتخب حکومت بن جاۓ
تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے
سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں
تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی
پاکستان میں الیکشن ہوگئے
منتخب حکومت بن گئی
اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی
تاجران نے پریشر بڑھایا
تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا
کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا
کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو
دم ہے تے بار نکلو
اسی تُہانو نبڑ لواں گے
یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی
تحریک کا اجلاس ہوا
اور فیصلہ کیا گیا
کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن
اور پہیہ جام ہوگا
اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا
وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی
دوبارہ تڑیاں لگائیں
اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا
کہ جو کروا رہا ہے
ہندوستان کروا رہا ہے
اور کمیٹی والے غدار ہیں
😂😂😂
آج جمعہ ہے
جمعہ کی تیاری کرنا ہے
اسلئیے آج اتنا ہی
تحریر ابھی باقی ہے
کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟
وہ اب کل
جب آپ سب پڑھ لیں
تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ
مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم
اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا
@awarahgard چوہدری صاحب آپکو جنم دن مبارک ہو۔۔
الله تعالی آپ کو صحت و سلامتی والی زندگی عطافرمائے ، ہمیشہ خوش رہیں اور ٹویٹر پر یونہی گرجتے برستے رہیں ۔♥️♥️