ہیومن رائٹس کونسل پاکستان وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے اس بیان پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے جس میں راولاکوٹ اور میرپور کے عوام کی کشمیری شناخت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رائے دی گئی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی علاقے یا برادری کی شناخت، ثقافت یا زبان کے بارے میں ایسے بیانات قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ ریاستی عہدوں پر موجود شخصیات کو ایسے معاملات پر انتہائی ذمہ داری، احتیاط اور احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے پر مناسب وضاحت پیش کی جائے اور آئندہ ایسے بیانات سے گریز کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی اتحاد، باہمی احترام اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ برقرار رہے۔
انسانی وقار، قومی اتحاد اور بنیادی حقوق کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان (HRCPAKISTAN)
#خواجہ_آصف
#راولاکوٹ
#کشمیری_شناخت
#انسانی_حقوق
#قومی_اتحاد
#HRCPAKISTAN
منگ آزاد کشمیر یہ وہ مقام ہے یہاں پر سبز علی خان اور ملی خان کی زندہ کھالیں اتاری گئی تھیں
اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ مسئلہ کشمیریوں کے جھکنے سے حل ہو جائے گا تو یہ مسلہ پھر کبھی بھی حل نہی ہو گا حقیقت کو سمجھو یہ قوم اپنے حق، اپنی عزت اور اپنے مؤقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی🚩✊
بھارت کو کشمیر پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں، وہ ملک جس نے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل بنا دیا ہے، وہاں کے عوام سے ریاست کا درجہ چھین لیا، اور ہر آواز کو گولی اور جبر سے دبایا ہے۔
ہم بھارت کی اس مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ دہلی کو آزاد کشمیر کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں؛ وہ صرف ہماری جائز جدوجہد کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی ہے، اور صرف انہی کی۔ ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈز، منصفانہ بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتیں، اور معاشی استحصال کا خاتمہ، یہ ہمارا اور ہماری اپنی حکومت کا معاملہ ہے۔ اسے بھارتی "تشویش" کی کوئی ضرورت نہیں۔
پہلے اپنا گھر درست کرو۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزاد کرو، اس سے پہلے کہ ہماری طرف سے بولنے کی جرأت کرو۔
#JAAC #آزادکشمیر #چارٹرآفڈیمانڈز #مقبوضہکشمیر
We extend our sincere gratitude to Overseas Kashmiris, Pakistanis, all political & human rights organizations for their steadfast support & solidarity.
We remain firmly committed to peaceful protest. We will continue until our legitimate demands are fully met.
#RightsMovementAJK
فوج کے ایکس سروس مین کیخلاف کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکش کمیٹی کا ساتھ دینے پر کاروائی کی سفارش کے ثبوت
ملک بھر کشمیر سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کیخلاف بغاوت پر ملٹری انٹیلیجنس کریک ڈاؤن کی مزید تفصیلات اس ویلاگ میں موجود ہیں:
https://t.co/ICwoaevuFj
آج پرتگال کے شہر ویانا دو کاسٹیلو میں کشمیری کمیونٹی نے احتجاج کیا اور یہ عہد کیا کہ ہم کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے سے گریز کیا جائے اور ان کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، اس احتجاجی تحریک کو پورے پرتگال تک پھیلا دیا جائے گا۔
#RightsMovementAJK
اسی لیے صدیوں سے یہ اصول ہے کہ فوج کو سویلینز اور انکے معاملات سے دور رکھا جائے۔ انکی چھاؤنیاں شہروں سے باہر بنائی جائیں تاکہ نفرت پیدا نہ ہو۔ بے جا مداخلت اور شہریوں پر گولی چلانے سے ایسے ہی نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
@KhawajaMAsif آئیے آپکو پونچھ راولاکوٹ کی تاریخ بتاتے ہیں۔
حلال اور سچ ویسے بھی آپ کو عمر کے اس حصے میں بھی نصیب نہیں ہوا۔
لیکن ہم آپکو تاریخی حقائق بتاتے ہیں۔
پونچھ (کشمیر) کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروانے کی کہانی انتہائی بہادری، قربانیوں اور ایک عوامی تحریک کی داستان ہے۔ 1947ء میں جب برصغیر کی تقسیم ہو رہی تھی، تو پونچھ کے غیور عوام نے ڈوگرہ حکومت کے ظلم اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کے پیشِ نظر ایک باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ دوسری جنگ عظیم (World War II) میں پونچھ کے تقریباً 60,000 سے زائد مسلمانوں نے برطانوی فوج کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا تھا۔ جب وہ جنگ جیت کر واپس آئے تو وہ جنگی حکمت عملی اور ہتھیار چلانے میں ماہر تھے۔ یہ تجربہ کار سابق فوجی (Veterans) بعد میں ڈوگرہ راج کے خلاف سب سے بڑی طاقت بنے۔
ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے پونچھ کے عوام پر انتہائی سنگین اور ظالمانہ ٹیکس نافذ کر رکھے تھے، حتیٰ کہ چولہے، مویشیوں اور شادی بیاہ پر بھی ٹیکس تھا۔ اس ظلم کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جاتا تھا۔
1947ء کے وسط میں پونچھ کے مختلف مقامات پر ڈوگرہ راج کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ مہاراجہ کی فوج نے جب ان پر امن احتجاجی مظاہروں پر گولی چلائی (جس میں نیلہ بٹ کا مقام بہت مشہور ہے)، تو عوامی غصہ ایک منظم مسلح بغاوت میں بدل گیا۔
سردار محمد ابراہیم خان , (جو بعد میں آزاد کشمیر کے پہلے صدر بنے),شیخ الحدیث مولانا یوسف خان صاحب اور دیگر قائدین نے پونچھ کے غازیوں کو منظم کیا۔ انہوں نے مری اور دیگر علاقوں کا دورہ کر کے ہتھیاروں کا بندوبست کیا اور پونچھ کے سابق فوجیوں کو ملا کر ایک انقلابی فوج تشکیل دی، جسے "آزاد کشمیر باقاعدہ آرمی" کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
پونچھ کے مقامی غازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور گوریلا جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے ڈوگرہ فوج پر حملے شروع کیے۔
انہوں نے پلندری، راولا کوٹ، ہجیرہ اور دھیرکوٹ جیسے اہم علاقوں سے ڈوگرہ چوکیوں کا خاتمہ کیا۔
ڈوگرہ فوج ان جانبازوں کے حملوں کی تاب نہ لا سکی اور پونچھ شہر کے قلعے تک محدود ہو گئی یا جموں کی طرف پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔
اس کامیاب مسلح جدوجہد کے نتیجے میں ڈوگرہ راج کا مکو ٹھپ دیا گیا اور 24 اکتوبر 1947ء کو پلندری کے مقام پر باقاعدہ طور پر "دولتِ خداداد آزاد جموں و کشمیر" (آزاد حکومت) کا اعلان کیا گیا۔
تاریخی اعتبار سےپونچھ کو کسی بیرونی باقاعدہ فوج نے نہیں، بلکہ وہاں کے مقامی سابق فوجیوں اور عوام نے اپنی شجاعت، ایمان کی طاقت اور سردار محمد ابراہیم خان اور دیگر قائدین کی رہنمائی میں ڈوگرہ راج کے ظلم سے آزاد کروایا تھا۔ یہی آزاد کردہ علاقہ آج "آزاد جموں و کشمیر" کہلاتا ہے۔ پونچھ کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی دردناک اور لرزہ خیز واقعہ ہے، جسے تاریخ میں "کھالیں اتارنے کا سانحہ" یا پونچھ کی جنگِ آزادی کا سب سے بڑا ظلم کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ 1832ء میں پیش آیا تھا (کچھ تواریخ میں اس کا ذکر 1837ء کے آس پاس بھی ملتا ہے)، جب کشمیر اور پونچھ پر سکھ سلطنت کی حکومت تھی اور گلاب سنگھ (جو بعد میں ڈوگرہ راج کا بانی بنا) وہاں کا راجہ تھا۔پونچھ کے مقامی سدھن قبیلے کے ایک بہادر رہنما سردار شمس خان تھے، جو پہلے راجہ دھیان سنگھ کے ہاں ملازمت کرتے تھے، لیکن جب انہوں نے اپنے عوام پر ڈوگرہ اور سکھ حکمرانوں کے مظالم دیکھے، تو انہوں نے پونچھ کے لوگوں کو اکٹھا کر کے حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ پونچھ کے غیور عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور سکھ و ڈوگرہ فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
جب سکھ سلطنت کے راجہ گلاب سنگھ کو معلوم ہوا کہ پونچھ کے جنگجوؤں کو طاقت سے دبانا آسان نہیں، تو اس نے دھوکے اور مانیٹرنگ (جاسوسی) کا سہارا لیا۔ کچھ مقامی لوگوں کی غداری اور سازش کے ذریعے سردار شمس خان اور ان کے ساتھیوں کو گھیر لیا گیا اور انہیں شہید کر دیا گیا۔
بغاوت کو مکمل طور پر کچلنے اور مستقبل میں کسی کو سر اٹھانے کی جرات نہ دینے کے لیے گلاب سنگھ نے عبرت کی بدترین مثال قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
پونچھ کے علاقے منگ (جو اب ضلع سدھنوتی، آزاد کشمیر میں ہے) کے مقام پر ایک بڑا درخت تھا، جس کے ساتھ سردار شمس خان کے قریبی ساتھیوں اور پونچھ کے مجاہدین کو زندہ لٹکایا گیا۔
راجہ گلاب سنگھ کے حکم پر جلادوں نے ان مجاہدین (جن میں سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان جیسے نامور رہنما شامل تھے) کو الٹا لٹکا کر زندہ جی ان کی کھالیں اتار دیں۔
ظلم کی انتہا یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ ان شہیدوں کی اتاری گئی کھالوں میں بھس (چارہ یا گھاس) بھر کر انہیں منگ کے اسی تاریخی درخت پر لٹکا دیا گیا تاکہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔ ان کے کٹے ہوئے سروں کو لوہے کے پنجروں میں بند کر کے دوسرے علاقوں میں بھیجا گیا۔1/2
گزشتہ روز بہاولپور کینٹ میں تین سو تئیس کور انٹیلیجنس بٹالین نے 26 بلوچ رجمنٹ کے کشمیری جوان اٹھا لئے ہیں کیونکہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سپورٹ میں سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا رہے تھے ان کی ویڈیوز جو وہاں سے نکل رہی ہیں وہ باہر نکال رہے تھے یہ صرف بہاولپور کا کیس نہیں ہے کراچی لاہور راولپنڈی آزاد جمو کشمیر کے اندر گلگت بلتستان اور کے پی کے میں کریک ڈاؤن کے آرڈر دیے گئے ہیں
عادل راجہ
وزیرِاعظم پاکستان @CMShehbaz پورا آزادکشمیر باہر ہے خواتین بھی اب گھروں میں نہیں وہ الگ بات ہے پاکستانی میڈیا کے مطابق کشمیری دہشت گرد اور غدار ہیں پر آپ ملک پاکستان کے وزیراعظم ہیں آپ کے ہوتے ہوئے پرامن اور نہتی عوام پر طاقت کا استعمال کیا گیا جس سے مزید دوریاں بڑھ رہی ہیں جو کہ آنے والے وقت کے لیے بالکل بھی آچھا نہیں۔
آزادکشمیر کی عوام کے مطالبات بنیادی حقوق ہیں جن سے وہ محروم ہیں ہمارے حکمران و اشرافیہ نے بس اپنے پیٹ پالے اور اب عوام حق مانگنے لگی تو انہیں پاکستان مخالف تحریک لگ گئی صرف اس لیے کے ان کے کرتوت ان کی عیاشیاں نہ ختم ہو سکیں ۔
امید ہے @HamidMirPAK جیسے نڈر اور حق سچ کا ساتھ دینے والے سب پاکستانی کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی تحریک کو سپورٹ کریں گے اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈر مارشل صاحب چوروں لٹیروں کو فی الفور گرفتار کریں گے جو عوام کے ٹیکس کے پیسے پر پل رہے ہیں اور اس مشکل وقت میں بالکل غائب ہیں۔
#RightsMovementAJK
یا رب تو نے مجھے تین بیٹیاں عطا کی ہیں۔ درندوں کے اس جنگل میں ان کی حفاظت فرمانا۔۔ انھیں نیک بخت بنانا۔۔ کسی ننھی پری کے ساتھ ظلم کا دیکھ کر سن کر روح کانپ جاتی ہے۔
شہباز گل کا پورے پاکستان کے لیے پیغام!!
جرنیل سب سے پہلے PTI کے پیچھے آئے, سب لوگ تماشہ دیکھتے رہے, PTI نے برداشت کرلیا, بلکہ PTI نے 77 سالہ نظام اور انکا بیانیہ اڑا کر رکھ دیا 🔥
اسکے بعد صحافیوں کی باری, اور پھر TLP , اور مہرنگ بلوچ سے لیں کر کشمیر تک ظلم کا بازار گرم!
ثمینہ پاشا کا ڈی جی کو پیغام!!
ڈی جی صاحب آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر فائر وال لگا کر ہمیں فائننشلی کمزور کرکے ہمیں مجبور کرنا چھوڑ دے!!
فائر وال ان پورن سائٹس پر لگائیں جن کی وجہ سے آج 7 سالہ بچی سے زیادتی ہوئی ہے, ان لوگو پر فائر وال لگائیں جو عیاشیاں پھیلا رہے ہیں!!