اور (اے پیغمبرﷺ!) یہ لوگ تم سے رُوح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ: ’’رُوح میرے پروردگار کے حکم سے (بنی) ہے۔ اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے، وہ بس تھوڑا ہی سا علم ہے۔
﴿سورۃ الاسراء، ۸۵﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں (”اٰمن الرسول” سے آخر تک) ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔
(صحیح بخاری،۴۰۰۸)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ختمِ نبوت امتِ محمدیہ کی فضیلت اور دینِ اسلام کی تکمیل کو بیان فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔
(مسند احمد،۸۷۱۷)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ( دس محرم ) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔
(ترمذی،۲۴۲۵)
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)