"ایک اور آبناے ھرم��ز پار کر " (میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں)
ہم نے اب تک اسلام آباد مذاکرات کے حوالے یہ بات کی باہر کی دنیا ہمارے بارے میں کتنا مثبت سوچ رہی ہے اور دنیا میں ہم کتنا ابھر کر سامنے آیے ہیں - یہ ایک پہلو ہے جس پ�� بہت بات کی گئی اور لکھا اور بولا گیا - لیکن جس پہلو پر بات نہی کا گئی وہ یہ ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے بعد پاکستان کے عوام یہ بھی سوچنے پر مجبور ہویے ہیں کہ دنیا کی طاقتوں اور ازلی دشمنوں میں سفارت کاری کروانے والی حکومت اپنے ملک کے اندر موجود اس سیاسی خلاء کو پر کیوں نہیں کرسکی جو پچھلے کئی سالوں سے اس ملک کو درپیش ہے -
یہ بہت جایز سوال ہے کہ جو حکومت آبناےھرموز کو کھلوانے میں کامیاب ہو رہی ہے وہ کی پی کے اور بلوچستان تک جانے والے بیشتر راستوں کو کیوں نہیں کھلوا سکی ؟
وہ فیلڈ مارشل جو سینتالیس سال میں پہلی دفعہ امریکا اور ایران کے رہنماوں کو آمنے سامنے بٹھانے میں کامیاب ہو گیے ہیں وہ نواز شریف اور عمران خان کو ایک ساتھ آمنے سامنے کیوں نہی بٹھا سکے ؟
وہ حکومت جس نے ایران میں شہید ہونے والی بچیوں کے والدین کے دکھ کو محسوس کیا ہے وہ اسلام آباد میں نومبر 2024 میں مرنے والے سیاسی کارکنوں کے والدین کے دکھ کو کیوں محسوس نہی کرسکی ؟
وہ حکومت جس نے ایران کے عوام کے اپنے محبوب لیڈر سپریم لیڈر آیت الله خامنائی کیلئے جذبات کو محسوس کیا ہے اس نے پاکستان کے عوام کے اپنے سب سے محبوب لیڈر عمران خان کیلئے جذبات اور احساسات کو اب تک کیوں محسوس نہی کیا اور اس کیلئے کوئی پیش قدمی کیوں نہی کی ؟
تہران اور واشنگٹن کو میز پر لانے والے اسلام آباد اور پشاور کو ایک میز پر کیوں نہی لاسکے ؟
محض کچھ فون کالز اور ٹویٹس سے بند راستے کھلوانے والے وہ راستہ کیوں نہی کھلوا سکے جس پر چل کر ا��ک بہن جیل میں قید اپنے بیمار بھائی کو مل آتی ؟
اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی کو اگنور کرکے اس کو مذاکرات کا میز فراہم کیا جاسکتا ہے تو سیاسی حریفوں کے تلخ دھمکیوں اور باتوں کو کسی مصلحت کے تحت کیوں نہی بھلایا جاسکتا اور آگے بڑھا جاسکتا ؟
اگر مذاکرات کے دوران نیتن یاہو کی لبنان پر بربریت کو ��رداشت کرکے اس کے خلاف کی گئی ٹویٹ کسی مصلحت کے تحت ڈیلیٹ کی جاسکتی ہے تو نو مئی کی وہ تلخ یادیں کیوں نہیں ڈیلیٹ کی جاسکتی جو آج تک اس ملک میں حائل خلیج کو عبور نہی ہونے دے رہی ؟
یہ وہ سوال ہیں جو اسلام آباد مذاکرات کی بعد بہت سے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں اور یہ بالکل جایز ہیں - سفارتکاری اگر انٹرنیشنل ہوسکتی ہے تو قومی سطح پر بھی کی جاسکتی ہے - امن کا سفیر بنا جاسکتا ہے تو سیاسی مفاہمت کا پیامبر بھی بنا جاسکتا ہے اور اس وقت پاکستان کا جو مثبت امیج دنیا میں ابھرا ہے یہ وہ نادر موقع ہے جو یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ ایک مذاکرات اپنے لوگوں سے بھی کیے جانے چاہیے تاکہ باہمی اعتماد اور قومی اتحاد کی وہ آبناے ھرموز اب کھل جاے جس کے بند ہونے سے اس ملک کے کروڑوں عوام آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں اور اپنی انرجی مثبت قومی ترقی پر خرچ کرنے کی بجاے ایک دوسرے پر الزامات اور مقدمات کرنے پر خرچ کرتے رہتے ہیں جس سے اعتماد کی بندش بڑھتی ہے - میری نظر میں یہ یہ اصل سفارتکاری ہوگی جس کے ثمرات سے محض ایرانی ' امریکی اور خلیجی عوام ہی بہرہ مند نہیں ہونگے بلکہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام بھی اس کے ثمرات سے لطف اندوز ہوسکیں گے جن کا ایسی سفارتکاری پر سب سے پہلا حق ہے - اگر ایسا ہوجاتا ہے تو وہ اکارڈ ہوگا جو محض تاریخ میں نہیں لکھا جائیگا بلکہ خود ایک تاریخ بن جائیگا جس کے آنے پر ہر سال یہ عوام یوم سفارتکاری منایا کریگی -
میرا حوصلہ دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں قطرہ سے دریا ہوا چاہتا ہوں
غریبوں کے دکھ کی دوا چاہتا ہوں
اور ان کے دلوں کی دعا چاہتا ہوں
میں اب زیست میں کچھ نیا چاہتا ہوں
کہ کمرے میں تازہ ہوا چاہتا ہوں
تعصب سے ہو پاک ہر شخص ارمانؔ
میری سادگی دیکھ ��یا چاہتا ہوں
قلم کی جسارت وقاص نواز
--------------------------------------------------------
@MirMAKOfficial @MoeedNj @noshigilani @ImranARaja1
"ایک اور آبناے ھرموز پار کر " (میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں)
ہم نے اب تک اسلام آباد مذاکرات کے حوالے یہ بات کی باہر کی دنیا ہمارے بارے میں کتنا مثبت سوچ رہی ہے اور دنیا میں ہم کتنا ابھر کر سامنے آیے ہیں - یہ ایک پہلو ہے جس پر بہت بات کی گئی اور لکھا اور بولا گیا - لیکن جس پہلو پر بات ��ہی کا گئی وہ یہ ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے بعد پاکستان کے عوام یہ بھی سوچنے پر مجبور ہویے ہیں کہ دنیا کی طاقتوں اور ازلی دشمنوں میں سفارت کاری کروانے والی حکومت اپنے ملک کے اندر موجود اس سیاسی خلاء کو پر کیوں نہیں کرسکی جو پچھلے کئی سالوں سے اس ملک کو درپیش ہے -
یہ بہت جایز سوال ہے کہ جو حکومت آبناےھرموز کو کھلوانے میں کامیاب ہو رہی ہے وہ کی پی کے اور بلوچستان تک جانے والے بیشتر راستوں کو کیوں نہیں کھلوا سکی ؟
وہ فیلڈ مارشل جو سینتالیس سال میں پہلی دفعہ امریکا اور ایران کے رہنماوں کو آمنے سامنے بٹھانے میں کامیاب ہو گیے ہیں وہ نواز شریف اور عمران خان کو ایک ساتھ آمنے سامنے کیوں نہی بٹھا سکے ؟
وہ حکومت جس نے ایران میں شہید ہونے والی بچیوں کے والدین کے دکھ کو محسوس کیا ہے وہ اسلام آباد میں نومبر 2024 میں مرنے والے سیاسی کارکنوں کے والدین کے دکھ کو کیوں محسوس نہی کرسکی ؟
وہ حکومت جس نے ایران کے عوام کے اپنے محبوب لیڈر سپریم لیڈر آیت الله خامنائی کیلئے جذبات کو محسوس کیا ہے اس نے پاکستان کے عوام کے اپنے سب سے محبوب لیڈر عمران خان کیلئے جذبات اور احساسات کو اب تک کیوں محسوس نہی کیا اور اس کیلئے کوئی پیش قدمی کیوں نہی کی ؟
تہران اور واشنگٹن کو میز پر لانے والے اسلام آباد اور پشاور کو ایک میز پر کیوں نہی لاسکے ؟
محض کچھ فون کالز اور ٹویٹس سے بند راستے کھلوانے والے وہ راستہ کیوں نہی کھلوا سکے جس پر چل کر ایک بہن جیل میں قید اپنے بیمار بھائی کو مل آتی ؟
اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی کو اگنور کرکے اس کو مذاکرات کا میز فراہم کیا جاسکتا ہے تو سیاسی حریفوں کے تلخ دھمکیوں اور باتوں کو کسی مصلحت کے تحت کیوں نہی بھلایا جاسکتا اور آگے بڑھا جاسکتا ؟
اگر مذاکرات کے دوران نیتن یاہو کی لبنان پر بربریت کو برداشت کرکے اس کے خلاف کی گئی ٹویٹ کسی مصلحت کے تحت ڈیلیٹ کی جاسکتی ہے تو نو مئی کی وہ تلخ یادیں کیوں نہیں ڈیلیٹ کی جاسکتی جو آج تک اس ملک میں حائل خلیج کو عبور نہی ہونے دے رہی ؟
یہ وہ سوال ہیں جو اسلام آباد مذاکرات کی بعد بہت سے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں اور یہ بالکل جایز ہیں - سفارتکاری اگر انٹرنیشنل ہوسکتی ہے تو قومی سطح پر بھی کی جاسکتی ہے - امن کا سفیر بنا جاسکتا ہے تو سیاسی مفاہمت کا پیامبر بھی بنا جاسکتا ہے اور اس وقت پاکستان کا جو مثبت امیج دنیا میں ابھرا ہے یہ وہ نادر موقع ہے جو یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ ایک مذاکرات اپنے لوگوں سے بھی کیے جانے چاہیے تاکہ باہمی اعتماد اور قومی اتحاد کی وہ آبناے ھرموز اب کھل جاے جس کے بند ہونے سے اس ملک کے کروڑوں عوام آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں اور اپنی انرجی مثبت قومی ترقی پر خرچ کرنے کی بجاے ایک دوسرے پر الزامات اور مقدمات کرنے پر خرچ کرتے رہتے ہیں جس سے اعتماد کی بندش بڑھتی ہے - میری نظر میں یہ یہ اصل سفارتکاری ہوگی جس کے ثمرات سے محض ایرانی ' امریکی اور خلیجی عوام ہی بہرہ مند نہیں ہونگے بلکہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام بھی اس کے ثمرات سے لطف اندوز ہوسکیں گے جن کا ایسی سفارتکاری پر سب سے پہلا حق ہے - اگر ایسا ہوجاتا ہے تو وہ اکارڈ ہوگا جو محض تاریخ میں نہیں لکھا جائیگا بلکہ خود ایک تاریخ بن جائیگا جس کے آنے پر ہر سال یہ عوام یوم سفارتکاری منایا کریگی -
میرا حوصلہ دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں قطرہ سے دریا ہوا چاہتا ہوں
غریبوں کے دکھ کی دوا چاہتا ہوں
اور ان کے دلوں کی دعا چاہتا ہوں
میں اب زیست میں کچھ نیا چاہتا ہوں
کہ کمرے میں تازہ ہوا چاہتا ہوں
تعصب سے ہو پاک ہر شخص ارمانؔ
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
قلم کی جسارت وقاص نواز
--------------------------------------------------------
@MirMAKOfficial @MoeedNj @noshigilani @ImranARaja1
جب آپ اندرونی محاذ پر انتہائی جھوٹا اور گھٹیا پروپیگنڈا کرتے اور کرواتے ہیں تو پھر آپ بیرونی محاذ پر جو کچھ بتاتے ہیں ، وہ بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا ، کیونکہ آپ کئی بار جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں ،
اب ایک نیا پروپیگنڈا شروع کرایا گیا ہے کہ علیمہ خانم نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی پاور نہیں ہونی چاہیے ، اتنی گھٹیا سوچ آپ کو کہاں سے آتی ہے ؟
سعودی عرب،کویت ، قطر ،بحرین اور دبئی میں مو��ود پاکستانی دھماکوں کی جگہوں پر جا کر ٹک ٹاک بنانے کے بجائے اپنا خیال رکھیں ، اور ویسے بھی یہ تمام ممالک ان شہریوں کو گرفتار کررہے ہیں جو وہاں امریکی اثاثوں پر ایران کے کامیاب حملوں کی ویڈیوز بنا رہے ہیں کیونکہ ویڈیوز بننے اور سامنے آنے سے ان ممالک کے دفاعی سسٹم پر نہ صرف سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ لوگوں میں ان ممالک کی طرف سفر کرنے کے حوالے سے خوف پھیل رہا ہے
نوٹ: جو دوست ٹویٹر ڈی ایم میں ہمیں انفارمیشن دیتے ہیں ، وہ ڈی ایم میں انفارمیشن ضرور شیئر کرتے رہیں 😎
نام نہاد سیاسی جماعتیں ہیں یا مذہ�� کا لبادہ اوڑھے دیگر جماعتیں
جس کسی نے بھی “رجیم چینج” کی دیگ کے دانے کھائے
وہ سب
“امریکہ اور اسرائیل کے کانڑے ہیں”
یہ کبھی اپنے مالکوں کے خلاف نہیں بولیں گے
۔۔
“اسرائیل کے نام پر وڈے عالم دین کی چیاؤں چیاؤں سنیے”
🔴 کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم:
"ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ ہمارے بم، یا اسرائیلی بم، اسکولوں میں بچوں کو مارنے کے لیے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں۔"
🚨🇮🇱🇮🇷 Netanyahu makes the case for why Iran is America's problem too:
"They tried to assassinate Donald Trump twice.
They've murdered thousands of Americans.
This is the only country on the planet that openly works to destroy the United States."
Source: Fox
"میں بطور امریکی شہری تسلیم کرتی ہوں کہ ہم غلط ہیں۔
امریکی فوجی بلاوجہ اسرائیل کی جنگ میں مر رہےہیں۔ یہ کیا مقابلہ ہے؟
ایک پختہ ایمان والی قوم جو موت سے ڈرتی نہیں، نہ موت کو اپنا خاتمہ سمجھتی ہے
اس سے مردوں، عورتوں میں فحاشی پھیلانے والا ملک لڑ رہا ہے"
پاسداران انقلاب کے کمانڈر جباری کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ ایران کسی بھی جہاز کو آگ لگا دے گا جو یہاں سے گزرنا چاہے گا۔
ہم خطے میں ان کی پائپ لائنوں کو بھی نشانہ بنائیں گے اور ہم ��س خطے سے تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے