ایسے میں مدرس صاحب اپنی غلطی یا کسی تاوان کو تسلیم کرنے کے بجائے امتحان از طرف پروردگار کہہ کر اپنے ہاتھ دھو کر سارا معاملہ خدا کے اختیار اور تقدیر کی جھولی میں ڈالی دی ۔
اس معصوم بچی کو مدرس صاحب نے کسی کوتاہی پر ایسے زناٹے دار تھپڑ سے مارا کہ بیچاری لکھڑا کر میز سے جا لگی ۔ بد قسمتی سے میز پر آنکھ لگی اور جھٹکا اس قدر شدید تھا کہ آنکھ کو سخت زخم آیا ۔ اب ایک آنکھ بینائی سے محروم دوسری کی مفلوج ہونے کا خطرہ ہے ۔
یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ تو نہیں اور دیگر اقوام کا تو نہیں پتہ لیکن ہمارے لیے تو انوکھی بات نہیں کیوں کہ ہمارے سماج میں تو ہر معاملہ اور ہر واقعہ میں عورت ہی ذمہ دار اور گنہگار ہوتی ہے ۔ کیوں کہ وہ بقول مذہبی پیشہ ور ناقص العقل ہوتی ہے۔
ایسا ہر گز نہیں کہ ہمارے آس پاس سامان مسرت نہیں بلکہ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جس طرح اور جس کے موجودگی میں ہم چاہتے تھے وہ فرد اور صورت حال نہیں باقی جہان بھی اس رونقیں آج بھی وہی ہیں۔
تم سے آج تلک میں نے کوئی گلہ نہیں کیامگر اے دل! تو نے یاد ماضی اور پرستش صنم کے علاوہ کوئی کام نہ تو ڈھنگ سے کیا نہ مکمل کیا۔ آج دیکھ ہم دونوں کس قدر تنہا و ناکام ہیں ۔
په موجوده ټاګنو کښې آزاد اميدوار له په شخصي توګه يا ازاد اميدوار دے خو د خان وفادار دے په دې توګه يا يو اميدوار له په دوه نشستو،ووټ ورکول زان سره زياتے او د کم عقلئ کار دے-اولني دوه صورتونه بقا نه لري دا اميدوار به لازم يو سياسي ګونډ ته ځي-دريم صورت والا به يو نشست لازم پرېږدي-
سیاسی جماعت ایک معلوم منشور اور نظریہ کے مطابق اپنے فیصلے اور مستقبل کا لاٸحہ عمل طے کرتا ہے۔PTI کا منشور اور نظریہ خان کی تقریر ہے اور اچھنبے کی بات یہ ہے کہ وہ بھی دن بدلنے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
عوام نے سیمنٹ،باجری،خمبہ،تار اور نوکری کو مد نظر رکھتے ہوٸے ووٹ دیا۔منسٹر حضرت نے عوام کو مندرجہ بالا چیزیں دی ۔جب کہ خود کے لیے قانونی کام کیا اور خود کو معاشی طور پر مستحکم کیا۔اب بے وقوف کہتے ہیں یہ زیادتی ہے۔ارے یہ زیادتی نہیں یہ تو وہ ہوا ہے جس کا عوام نے داغ بیل ڈالی۔
پاکستان اس وقت نہایت بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔یہاں کسی بھی شخص کو کسی بھی معاملے میں اطمٸنان نہیں۔ہر لمحہ تشویش سے لبریز ہے۔کل کیا ہوگا یا کل کیسا ہوگا؟ اس اعتبار سے عوام تو کیا حکومت بھی مطمٸن نہیں۔ادنی سے اعلی تک ہر شخص تذبذب کا شکار ہے۔
یہ PTI کا ٹکڑے ہونا کوٸی نٸی بات نہیں۔یہ ایک سوچ کے مطابق بنایا گیا تھا کام لینے کے بعد یا اس سوچ سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس کو اپنی موت مار دیا گیا۔ہر صورت ہو لیکن نقصان ملک اور عوام کا ہوا اور بہت ہوا ۔
پی ٹی آٸی وہ سیاسی جماعت ہے۔جس میں خان کے علاوہ کوٸی قابل اعتبار نہیں۔سوچ کی بات یہ ہے کہ خان کو دوام نہیں اور ان کے بعد یہ کارکن کیا کریں گے۔کیوں کہ ایک شخص کو ایک جماعت تسلیم کرنا کون سا منطق ہے۔یا یہ لوگ اپنے مستقبل سے بے خبر ہیں یا سیاسی بصیرت سے مبرا ہیں۔
پښتو کښې يوه ټپه ده
ملنګه زان ته دعا وکړه
د منزرې څرمن دي غاړه وشلوله
نن سبا د پښتون خوا د پښتون قوم دا حال دےـخپل ژوند او کور ېي غرق دے او دے په نورو وير ژړا کوې ـ
کسی بھی معرکہ کو سر کرنے یا منزل کو پانے کے لیے تدبیر اور تنظیم سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی جذباتی یا جوش سے لبریز ٹولہ سے یہ امید رکھنا کہ وہ منزل سے ہمکنار ہو جاٸےگا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔کیوں کہ منزل پہنچنے سے قبل راستے اور ترتیبِ سفر کے لیے لاٸحہ عمل طے کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اجتماعی معاشرے میں اپنا وہ کردار ادا کیا جس کی سزا کا انہیں اندازہ بھی نہیں۔جب کہ نماز پر کھڑے ہوکر خود کو مغالطے میں ڈال رہے ہیں کہ شاید ہم حق کے ساتھی ہیں۔
پشتون زمان پارک میں چوکیداری کرتے ہوٸے اور پھیرادیتے ہوٸے بہت خوش ہیں۔اگرچہ وہ غلطی دوبارہ دوہرا رہےہیں کیوں کہ صوفی محمد کی سپاہی،فضل اللہ کے مجاہدین اور وی ڈی سی ممبران بھی یہ پشتون تھےاور نتیجے میں پشتون بے دریغ قتل ہوٸے۔آج بھی پشتون دھوکے میں ہیں اور کل بھی دھوکے میں تھے۔
رہنما(لیڈر)قوم کی ترقی کے لیے اجتماعی بنیادوں پر نظام فکر سے کام لیتا ہے اور پھر اس سے عملی نتاٸج اخذ کرتا ہے۔پاکستان میں ان بیوڑوں کو رہنما کہتے ہیں جنہوں نے لنگر خانے بناٸے پٹرول سبسڈی کی ناقص سوچ ، چند ہزار روپے کا بدترین منصوبہ اورسرکاری اور مفت آٹا پر مبنی تضحیک آمیز پلان 😇