شفیع جان صاحب! آج آپ نے مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو سیاسی طور پر زخمی کرنا چاہا، مگر نشانہ اپنی ہی جماعت کی اخلاقی برتری کو بنا بیٹھے۔ PTI کی اصل طاقت اس پر ہونے والا جبر اور اس کی مظلومیت ہے؛ آپ نے مخالفین کو وہ دلیل دے دی جو وہ مدت سے تلاش کر رہے تھے۔
”جب دلیل کا دامن چھوٹ جائے تو زبان کردار کے گریبان تک پہنچتی ہے؛ مگر داغ ہمیشہ گریبان پر نہیں، ہاتھوں پر بھی رہ جاتا ہے۔“
خواتین کے نکاح، کردار اور نجی زندگی کو سیاست میں گھسیٹنا نہ بہادری ہے، نہ سیاست، نہ پشتون روایت۔ مخالف کی پالیسی سے لڑیے، اس کے گھر کی دہلیز عبور نہ کیجیے۔ وزیر کے الفاظ اس کے منصب اور تربیت دونوں کا تعارف ہوتے ہیں۔
”مخالف کا قد گھٹانے کے لیے زبان کو اتنا نیچا نہ کیجیے کہ ناپنے والے کو آپ کا اپنا قد چھوٹا دکھائی دینے لگے۔“
افسوس، آج آپ کی تقریر کا دفاع کرنا، اس کی مذمت کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔