قال النبيﷺ
اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہو جائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے
صحيح الجامع ١٧٨
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ۞
تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے
الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ۞
جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں
جب غافل (سستی دکھانے والے) نمازیوں کے لئے اتنی سخت وعید ہے تو جو بالکل ہی نماز نہیں پڑھتے انکا کیا بنے گا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔
(مسند احمد،۸۳۳۰)
زنا اخلاق کو تباہ کرتا ہے
زنا نسل کو ضائع کرتا ہے
زنا حیاء کو لے جاتا ہے
زنا بہت سے طبی بیماریوں کا باعث ہے
زنا سبب ہے اللہ کو غصہ دلانے کا اور اللہ کی طرف سے نعمتوں کو واپس لینے کا
یقینا زنا ایک فحش کام ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
حضرت عباسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی :
مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں،
آپ ﷺنے فرمایا:
“اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علی�� وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عا��یت طلب کرو“۔
(ترمذی،۳۵۱۴)
فرمانِ اُمُّ المؤمنین سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا:
"علی سے زیادہ مسائلِ شرعیہ کا جاننے والا کوئی اور نہیں ہے۔"
(الریاض النضرۃ،۲/۱۵۹،جزء۳)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى”
“اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔
( جامع ترمذی،۳۴۸۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ، اسلام کو دین اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر ( دل سے ) راضی ہو گیا ۔
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،۱۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی ( مگر ضرور صدقہ کر کے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو ) ۔
(صحیح بخاری، ۱۴۱۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا
یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔
مسند احمد بن حمبل 9489
فرمانِ مصطفٰے ﷺ :اگر اللہ پاک تمہارے ذَرِیعے کسی ایک شخص کوہدایت عطا فرمائےتو یہ تمہارے لئے اس سےاچھاہےکہ تمہارے پاس سُرْخ اُونٹ ہوں۔
(مسلم،ص1007، حدیث:6223)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( سنت ) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو
(النسائی:1601)
آپ ﷺنے فرمایا:
“جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا،جب چوری کرنےوالا چوری کرتاہے تو چوری کےوقت اس کا ایمان نہیں رہتا۔جب شراب پینے والا شراب پیتا ہےتو پیتے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا،اس کے بعد بھی اب تک اس کی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے“۔
بیشک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا ان کے لئے (صدقہ و قرضہ کا اجر) کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور اُن کے لئے بڑی عزت والا ثواب ہو گا۔
(سورۃ الْحَدِيْد، 57 : 18)