عوامی نیشنل پارٹی کی شہدائے سپین تنگی کو خراجِ عقیدت
24 اگست 1930ء پشتونوں کی تاریخ کا ایک سیاہ اور المناک باب ہے،
جب برطانوی سامراج نے پُرامن خدائی خدمتگار کارکنان اور آزادی کے متوالوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے انہیں شہید کیا
انگریز سامراج کے دور سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد آج تک پشتون سرزمین ظلم، جبر اور ناانصافی کا شکار رہی ہے
سپین تنگی میں خدائی خدمتگار تحریک کے پُرامن کارکنان اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے،
لیکن برطانوی سامراج نے طاقت کے ذریعے اس پُرامن آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ اس خونریز کارروائی میں درجنوں پُرامن مظاہرین شہید ہوئے
باچا خان اور خدائی خدمتگاروں نے ظلم کے جواب میں تشدد کے بجائے عدمِ تشدد، برداشت اور انسانیت کا راستہ اختیار کیا،
لیکن افسوس کہ آج بھی امن کے طلب گار پشتون گولیوں اور دھماکوں کا سامنا کر رہے ہیں
سپین تنگی کے شہداء کی قربانیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ حق، آزادی اور امن کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا
قصہ خوانی، ٹکر اور سپین تنگی جیسے تاریخی واقعات پشتون قوم کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں
ان عظیم قربانیوں نے آنے والی نسلوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، امن کا پرچم بلند رکھنے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا درس دیا ہے
سپین تنگی کے شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور عوامی نیشنل پارٹی ان کے مشنِ امن، جمہوریت اور آزادی کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #SpinTangiMassacre
پی ایس ایف کیلئے 23اگست محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پرامن طلباء سیاست اور جمہوری آواز کو دبانے کی کوششیں ماضی میں بھی کی گئ مگر قربانیوں اور جدوجہد کے باوجود اس عظیم تحریک کی جمہوری اور مزاحمتی آواز خاموش نہیں کی جا سکی
#23Aug1990PSFMartyrs@AsgharAchakzaii
ہر وہ پختون جسے اپنی قوم کی ذرا بھی فکر ہو، اگر کنڈی صاحب کی طرح اپنے وسائل پر پنجاب کے قبضے کے خلاف بات کرے تو اسے فوراً ملک دشمن، غدار اور افغانی جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ایمل ولی خان نے ڈاکٹر کرم الٰہی کے معاملے پر بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے ان کی گمشدگی، اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور مبینہ دباؤ پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک دیانتدار افسر کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔
ده بابړې ده شهیدانو ورځ.
دولسم اګست 1948.
ده بابړې ده شهیدانو قاتل.
قاتل اعظم قیوم ډبل بیرل خان.
راځئ چې ده ثواب دپاره په دې قاتل لغنت
اووايو.
الله دی ده جهنم سپې کړې امین.
چارسدہ: شہدائے بابڑہ (12 اگست 1948) کی 78 ویں برسی، صدر اے این پی خیبر پختونخوا میاں افتخار حسین کی یادگار شہداء پر میڈیا سے گفتگو:
🟥شہدائے بابڑہ جمہوریت، آزادی، حقوق اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے شہید ہیں
🟥شہدائے بابڑہ نے اپنی جمہوری حکومت کے غیر آئینی ختم کے خلاف پرامن جدوجہد کی تھی
🟥اس میدان میں ایک غیر منتخب وزیراعلی کے حکم پر نہتے اور پرامن خدائی خدمتگاروں پر گولیاں برسائی گئیں تھی
🟥سپین ملنگ جو خدائی خدمتگاروں کے جلوس کی قیادت کررہے تھے، ان کو پچاس گولیاں لگی تھیں، وہ شہید ہوئے مگر جھنڈا اسی طرح اونچا رکھا
🟥خدائی خدمتگار شہید ہوتے گئے مگر کسی نے بھی قومی تحریک کے جھنڈے کو گرنے نہیں دیا، 600 سے زائد خدائی خدمتگار شہید ہوئے
🟥ہر شہید کے اہل خانہ اور زخمی پر گولیوں کی لاگت کے عوض جرمانے عائد کئے گئے
🟥ایک ایک قبر میں کئی شہداء کو ایک ساتھ سپردخاک کیا گیا تھا، کچھ شہداء کی لاشوں کو سرکار نے زبردستی پانی میں بہا دیا تھا
🟥جن کے پاس واقعے کا ریکارڈ تھا، ان کو ڈرایا دھمکایا گیا، خدائی خدمتگاروں کی رپورٹ تک درج نہیں کی گئی
🟥عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی تو ہم اس کیس کو ری اوپن کرینگے اور اپنی ایف آئی آر درج کرائیں گے
🟥ایک پرامن جلوس اور نہتے بے گناہ شہریوں پر براہ راست فائرنگ ظلم کی انتہا ہے
🟥اس سانحے میں جو جو بھی ملوث تھے، ان کے خلاف باقاعدہ عدالتی اور قانونی کارروائی ہوگی
🟥بابڑہ کے شہداء کی قربانیوں اور عزم کا سبق باچا خان اور خدائی خدمتگاروں سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے
🟥شہدائے بابڑہ کی قربانیوں کا درس اگلی نسلوں تک منتقل کرنا موجودہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے
🟥آج کے دن شہدائے بابڑہ سمیت قومی تحریک اور امن کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
🟥عہد کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرینگے اور انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے وطن کے امن اور قوم کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے
#BabarraMassacre1948
یومِ بابڑہ 12 اگست 1948
بابڑہ کے شہداء نےجمہوریت،امن اور عوامی حقوق کی خاطر لازوال قربانی دی
آج ہم ان عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتےہیں
اور اس عزم کا اعادہ کرتےہیں کہ ان کے نظریے،
جمہوری جدوجہد مشن کو آگےبڑھائیں گے۔
شہداء بابڑہ کی قربانیاں ہمیشہ یاد رہیں گی
#babarraMassacre
جو کہتے تھے بلوچستان تین سرداروں کا مسئلہ ہے، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطااللہ خان مینگل کو ہٹا دو، آج وہ تینوں نہیں رہے۔ پھر بھی حالات اس حد تک کیوں پہنچ گئے کہ کوئٹہ کے زرغون روڈ، جہاں وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس واقع ہیں، وہاں بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں؟
دفاعی معاہدے کرنے والوں سے کہیں کہ یہاں آ جائیں۔ یہاں دھماکے ہو رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں، طالبان نے آپ کی حکومتی رِٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔ پاکستان کے تقریباً 75 فیصد علاقوں میں حکومت کی رِٹ نظر نہیں آتی۔ وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ، فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم کہاں ہیں؟ پہلے اپنے گھر کو سنبھالیں۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan | #ANP4Peace
اس صاحب کو سن کر معلوم ہوا کہ فوج بجٹ اب عسکری دفاع پر نہی بلکہ اپنی تعریفوں کے پھول باندھنے اور عوام کو اپنی کرتوتوں پر چھپ کرانے اور مسخر کرانے کےلئے استعمال کررہا ہے
کیا اتنا برا وقت بھی آنا تھا؟ لیکن یہ برا وقت فوج نے خود پر خود لایا کیونکہ انکے کرتوت ہی ایسے تھے
🔴 پریس کلب کوئٹہ؛ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
♦️ پریس کانفرنس کے دوران ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال، امن و امان، عوام کو درپیش مسائل اور دیگر اہم قومی و سیاسی امور پر عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف پیش کررہے ہیں۔
#AsgharKhanAchakzai | #AwamiNationalParty | #ANP
یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں ہے۔
ریاست کی مثال ایک باپ کی مانند ہوتی ہے، جو اپنے تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے
ہم ایک ہی ریاست، یعنی پاکستان، کے چار صوبوں میں سے ایک صوبے کے وارث ہیں۔
سب کو برابر کے حصے اور برابر کے حقوق حاصل ہیں
— رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان
@AimalWali
کشمیر میں جو ہورہا ہے، یہ بہت غلط ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، والدین اپنے لوگوں کے ساتھ کبھی بھی ایسا سلوک نہیں کرسکتی۔ یہ عمل ریاست کو کمزور کرے گا اور عوام کے جذبات کو مزید بڑھائے گا۔ محب الوطنی کا سارا بوجھ پنجاب پر نہ ڈالا جائے، پہلے پختون اور بلوچ غدار تھے، اب شہ رگ والے بھی غدار ہوگئے ہیں۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan