میرے والد کی پنشن بند کر دی گئی جان بوجھ کرہمارے وئیری فیکشن نہیں کرائی اب یہ شخص جس کا نام احمد ہے یہ پیسوں کی ڈیمانڈ کر رہا ہے میرے والدجو85سال کے ہیں ان کےلئے انصاف کی اپیل ہےحکومت سے گزارش ہے فوی ایکشن لیں، تمام دوست وڈیو کو اتنا شئیر کریں
@MoWP15@akleghari@TararAttaullah
🇵🇰 records significant progress in the ITU ICT Development Index (IDI) 2026!
Improved 20% from 56.4 (2025) to 67.7 (2026)
We also recorded a 27place ⬆️ in derived position with Connectivity Pillar showing the strongest growth at +22.8 points & Meaningful Connectivity score of79
غیر جانبداری کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کی مذمت بلاامتیاز کی جائے۔ اگر ایک طرف صرف پاکستان کی کارروائیوں پر تنقید کی جائے اور دوسری طرف دہشت گردوں کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریبات پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ غیر جانبداری نہیں بلکہ انتخابی خاموشی محسوس ہوتی
جب بھی پاکستان افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، UNAMA فوری طور پر "شہری ہلاکتوں" کا بیانیہ دہراتا ہے۔ لیکن جب افغان شہری جان اللہ عرف زاہد ایوبی، جو وانا کیڈٹ کالج حملے میں خودکش بمبار تھا۔
جان اللہ عرف زاہد ایوبی، سکنہ مومند درہ ننگرہار، کو 10 نومبر 2025 کے وانا کیڈٹ کالج حملے میں ملوث خودکش بمبار کے طور پر شناخت کیا گیا۔ بعد ازاں اس کے لیے کھلے عام تعزیتی تقریب منعقد ہوئی اور پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے۔ دہشت گردوں کی ایسی عوامی پذیرائی پر UNAMA کی خاموشی قابلِ غور
جنوبی وزیرستان میں کم عمر امان محسود پر مسجد کے اندر تشدد خوارج کی سفاکیت اور بے گناہ شہریوں کے خلاف ان کے جرائم کا ایک اور ثبوت ہے۔ اسلام ظلم، جبر اور ماورائے انصاف سزاؤں کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے اقدامات صرف خوف اور انتشار پھیلانے کی کوشش ہیں۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاعات پر کامیاب کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ یہ کامیابی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی مؤثریت اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ریاستی عزم کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز امن، استحکام اور عوامی تحفظ کے لیے ہر محاذ پر متحرک ہیں
دما ڈولا میں ایف سی اہلکار پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنا داعش خراسان کی ایک اور پروپیگنڈا چال ہے۔ ایسے بزدلانہ حملے سیکیورٹی فورسز کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی
طالبان قیادت کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کی کوششیں اور دوسری جانب دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت داخلی چیلنجز اور سیکیورٹی ذمہ داریوں دونوں میں مشکلات کا شکار ہے
طالبان کے منحرف کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے اعتراف کیا ہے کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر غیر ملکی عسکریت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ یہ بیان طالبان حکومت کے مسلسل انکار کی نفی کرتا ہے۔
جمعہ خان فتح کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے ہر کارروائی کی حمایت کرتے ہیں تاکہ مزید شہری جانیں ضائع نہ ہوں
دہشت گردی میں ملوث افراد کی سرعام عزت افزائی اور ان کے لیے اجتماعات کا انعقاد ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر عالمی اداروں کو توجہ دینی چاہیے۔ اگر بعض واقعات کو نمایاں کیا جائے اور بعض کو مکمل نظر انداز کر دیا جائے تو اس سے غیر جانبداری اور اعتماد دونوں متاثر ہوتے ہیں
محترم UNAMA، 15 جولائی 2024 کو بنوں کینٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں افغان شہری عثمان اللہ کامران بھی شامل تھا۔ 19 جولائی کو پکتیا کے ضلع جانی خیل کے گاؤں اورگورا میں اس کے لیے تعزیتی تقریب منعقد کی گئی اور اس کے پوسٹر بھی سرعام آویزاں کیے گئے۔ اس وقت آپ کی مذمت کہاں تھی
جب بھی پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو شہری ہلاکتوں کے الزامات فوری طور پر دہرائے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں حملوں میں ملوث عناصر کی افغانستان میں سرعام پذیرائی، تعزیت اور تمجید پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ غیر جانبداری کا تقاضا یکساں معیار ہے، منتخب ردعمل نہیں
"Stopping water to a downstream country is a Crime Against Humanity!" — Victor Gao 🚨
Chinese commentator warns India over threats to block the Indus River to Pakistan, reminding New Delhi: "Don't do unto others what you don't want others do unto you."
#IndusWatersTreaty
روس کی نئی دہلی کو وارننگ اس بات کا اشارہ ہے کہ سندھ طاس تنازع اب محض دو طرفہ معاملہ نہیں رہا۔ معاہدوں کی خلاف ورزی اور پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے میں کشیدگی بڑھا کر دیرپا امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے
تیراہ، خیبر میں میسر جان کے بیٹے شفیق کا قتل ایک اور افسوسناک یاددہانی ہے کہ خوارج بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ اسلام قتلِ ناحق، ظلم اور سفاکیت کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ معصوم جانوں کا خون بہانے والوں کا نہ دین سے تعلق ہے نہ انسانیت سے۔
خوارج ڈرون حملوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں، جبکہ بعد میں پروپیگنڈا مہمات چلا کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے گناہ جانوں کو نشانہ بنانا کسی نظریے نہیں بلکہ دہشت گردی کی نشانی ہے
خوارج کے ڈرون حملے خیبر پختونخوا میں شہریوں، مساجد، گھروں، بازاروں اور عوامی مقامات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہیں کہ ان کا ہدف امن، استحکام اور عام شہری ہیں
I have known Madiha @MadihaAbidAli for a long time. We worked together as colleagues at Dunya TV, where I saw her dedication, hard work and commitment to journalism.
She has come a long way through her own efforts and has always been a sensible and professional reporter. I recently met her in Islamabad during the USA-Iran peace talks, where she also interviewed me.
Madiha is doing a great job and continues to make a positive contribution to journalism. Wishing her continued success — keep it up!
زمینی شواہد نے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا۔ افغانستان کے اندر سے سامنے آنے والی ویڈیوز ظاہر کرتی ہیں کہ سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس موجود ہیں اور انہیں جھٹلانا حقائق کو نہیں بدل سکتا
افغانستان سے سامنے آنے والی نئی ویڈیوز نے یہ دعویٰ کمزور کر دیا ہے کہ پاکستانی کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شواہد اشارہ دیتے ہیں کہ حملے جماعت الاحرار کے ٹھکانوں اور قیادت پر مرکوز تھے
عمر مکرم خراسانی اور دیگر دہشت گرد رہنماؤں کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق ویڈیوز اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے عناصر افغان سرزمین پر سرگرم ہیں۔