إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
With immense grief and complete submission to the Will of Allah, I share that my beloved mother has returned to her Creator. She was my greatest blessing, my first home, & the source of endless prayers & unconditional love.
I humbly request everyone to remember her in your duas. May Allah (SWT) forgive her shortcomings, expand her grave with His mercy, and grant her the highest ranks in Jannat-ul-Firdaus Ameen.🤲🏼
عمار اور زینب 2011 میں پنجاب یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔ تعلیم کے دوران دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، اور وقت کے ساتھ یہ رشتہ محبت میں بدل گیا۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی طے ہو گئی اور 10 اگست 2018 کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
لیکن نکاح سے صرف دس دن پہلے زینب کی طبیعت خراب ہوئی۔ معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بلڈ کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے موقع پر بہت سے لوگ رشتے توڑ دیتے ہیں، مگر عمار نے ایک لمحے کے لیے بھی زینب کا ساتھ چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شادی بھی زینب سے ہی کرے گا اور ہر حال میں اس کا علاج بھی کروائے گا۔
10 اگست کو دونوں کا نکاح ہوا، پھر علاج کا سفر شروع ہوا۔ پہلے شوکت خانم ہسپتال میں علاج ہوا، مگر بیماری خطرناک مرحلے میں پہنچ چکی تھی، اس لیے مزید علاج کے لیے چین جانا پڑا۔ علاج پر تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ ہونے تھے۔
یہ صرف عمار کی نہیں، دونوں خاندانوں کی آزمائش تھی۔ عمار کے بھائیوں نے بیرون ملک اپنا کاروبار فروخت کر دیا، والدہ نے اپنے تمام زیورات بیچ دیے، زینب کے والدین نے بھی اپنی جمع پونجی لگا دی، اور لوگوں نے بھی بھرپور مالی مدد کی، جس میں سب سے نمایاں ملک ریاض صاحب نے 6 کروڑ روپے دیے، یوں علاج ممکن ہو سکا۔
دو ماہ تک چین میں علاج جاری رہا۔ طویل جدوجہد، دعاؤں اور بے شمار قربانیوں کے بعد زینب نے کینسر کو شکست دے دی اور صحت یاب ہو گئیں۔ یہ کہانی صرف محبت کی نہیں، بلکہ وفا، عہد، قربانی اور اُس ساتھ کی ہے جو ہر مشکل میں نبھایا جاتا ہے۔ رشتہ صرف خوشیوں میں ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ اصل محبت وہ ہے جو آزمائش کے دنوں میں بھی ہاتھ نہ چھوڑے۔
کمپنی کی جانب سے حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور دیگر جےیوآئی قائدین کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا، گالم گلوچ، کردار کشی، بے بنیاد الزامات اور جھوٹی خبریں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائی جا رہی ہیں۔
لیکن ہمارے نظم نے ہمیں پابند کیا ہے کہ فیک کا جواب سچ سے، جھوٹ کا جواب دلیل سے، اور بدزبانی کا جواب اخلاق سے دینا ہے۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
قائدِاعظم نے کوئٹہ اسٹاف کالج میں تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرنیل پاکستانی عوام کے نوکر ہیں!
اس کے بعد انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ دنیا سے کٹ آف کر کے وہاں انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ وہاں کونسا حکیم تھا، کونسا ہسپتال تھا؟ اگر تھا، تو قائدِاعظم کے علاوہ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک اور مریض ہی بتا دیں۔
مطالعۂ پاکستان میں جو تم نے پڑھایا گیا ہے، وہ جھوٹ ہے۔
پاکستان میں غدار وہ ہے جو ووٹ کی طاقت کو نہیں مانتا۔ جرنیلو! تم کس حق سے حکمرانی کر رہے ہو؟ تمہاری حیثیت قائدِاعظم نے طے کر دی تھی۔ اب اسی کی پاسداری کرو!
8 فروری 2024 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بیٹے، اسد محمود، تقریباً 5 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت رہے تھے، مگر فارم 47 کے ذریعے انہیں ہرا کر یہ نشست تحریک انصاف کے امیدوار کو دے دی گئی۔
وہ شخص کون تھا جس نے مولانا کے بیٹے کی جیتی ہوئی نشست تحریکِ انصاف کے ہارے ہوئے امیدوار کو دی؟ اس شخص کو قوم کے سامنے لاناچاہئے
خیبر پختونخوا میں کئی ایسی نشستیں تھیں جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار جیت رہے تھے، مگر مبینہ بدترین دھاندلی کے ذریعے وہ نشستیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دے دی گئیں
نوٹ 2018 اور 2024 کے الیکشن نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کے بھی بدترین الیکشن تھے اس طرح کے الیکشن ہوتے رہے تو اگلے 78 سال بھی پاکستان IMF اور عرب ممالک کے قرضوں کے سہارے چلے گا
جب تک عوام کے فیصلوں کا احترام نہیں کیا جاتا یہ ملک کبھی آگے نہیں جا سکتا
میرے بیان کی غلط تشریح کرکے تم میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہو کہ فضل الرحمان سرنڈر کرجائے گا، یاد رکھو میرے ماں بپ نے مجھے سرنڈر کرنے کےلیے نہیں جنا ہے۔
مولانا کا وکلاء کنونشن سے جرات مندانہ خطاب
#BroadcastMaulanaNow#LawyersStandWithMaulana
ابصار بھائی! ویسے میں نے کوئی تین چار بار مولانا کا بیان سنا، کیا آپ بتائیں گے کہ کون سی ایسی بات ہے جس پر اعتراض ہے؟
اور کیا یہ اپنے اندر قانون شکنی نہیں کہ چوں کہ آپ نے فوج کی سیاست میں مداخلت پر بات کی ہے، اس لیے آپ کے ماضی کے کرپشن کے تنازعات پر قانونی کارروائی ہو گی۔
کرپشن تھی تو پہلے سزا کیوں نہیں دی گئی؟ کیا کرپشن بلیک میلنگ اور آئین شکنی کے جواز کے لیے استعمال ہو گی؟
فوجی کون ہیں سیاست دانوں کا احتساب کرنے والے؟
کیا مولانا فسادی ہیں یا اقتدار کی ہوس میں فوج کے خلاف ہیں؟
جذباتی ماحول تھا اس لیے اس موضوع پر زیادہ نہیں لکھا، مگر مولانا کے بارے میں دو تین دن سے بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا مولانا فوج کے پاکستان کے غدار ہیں؟
یہ ان کی ایک تقریر ہے، مکمل ضرور سنیں۔ یہ ان کی جماعت کے لیڈر مولانا ادریس کی شہادت کا موقع تھا۔ پاکستان فوج کے حق میں تقریر کرنے پر انہیں شہید کیا گیا تھا۔ طالبان کو علما جواب دیتے ڈرتے ہیں، عمران خان جیسے لیڈر ان کی مذمت نہیں کرتے۔
مولانا نے جذباتی ماحول میں علما کے سامنے طالبان کو مرتد قرار دیا، اسلام سے خارج کہا اور اعلان کیا کہ پاکستان بھر کے علما کا متفقہ فتویٰ ہے لکھا ہوا موجود ہے: پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شریعت کے مطابق جائز نہیں۔ ہم پاکستان کے اندر مکالمہ چاہتے ہیں، آئین کے وفادار ہیں، اسلحہ نہیں اٹھائیں گے یہ شورش زدہ ملک میں ایک عالم جس کی فالونگ ہے اس کا ریاست کے لیے بہت بڑا اعلان تھا۔
مولانا نے پاکستان فوج کے خلاف اسلحہ اٹھانے کو غیر شرعی قرار دیا۔ یہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ طالبان اسے مذہبی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اگر مولانا کو اقتدار عزیز ہوتا یا وہ فسادی ہوتے تو اس موقع پر ایسی آگ بھڑکاتے کہ کے پی جل جاتا، مگر مولانا ریاست، فوج اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ تب ریاست نے ہر جگہ ان کا یہ بیان چلایا تھا۔
یہی ٹاپک قصور میں بھی تھا کیونکہ وہ عام افراد کے لشکر اور اسلحہ کے خلاف ہیں۔ باقی آپ کی مرضی، جو مرضی رائے قائم کر لیں بہت کچھ پڑھ کر البتہ شدید افسوس ہوا ہم ملک میں کیوں فساد کی بنیاد رکھ رہے ہیں ؟
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا نے ایک موقع دیا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو متحدہ ہو کے اصطبل کے ملکی معاملات میں مداخلت سے روکنے کی خاطر ایک زبان ہو کر سر والوں کو واضح کر دینا چاہیے کہ ہمیں گزشتہ سال مئی میں انکی ملکی دفاع کے لیے کوششیں پر بہت خوشی ہوئی ہے لیکن اس کے بدلے ان کا معاشی اور معاشرتی سماجی معاملات میں مکمل کنٹرول کسی بھی حلقہ کو قبول نہیں ۔۔ وہ تو فیملی پلاننگ تک کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کو در پے ہیں ۔ بلوچستان کے معاملات کو خرابی کی آخری حد تک پہنچا چکے ہیں ۔۔ آزاد کشمیر کے معاملات کو سلجھانے میں ناکام رہے ہیں ۔ دہشت گردی پر قابو پانے کی خواہش صرف خواہش ہی نظر آتی ہے ۔۔عالیہ اور عظمی کو لونڈی بنا چکے ہیں ۔۔ بیرونی سرمایہ کاری کے خواب کو تعبیر نہ دے سکے ۔ اوپر سے کبھی بارہ صوبوں کی بات چلواتے ہیں اور کبھی کراچی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رکھنے کا شوشہ مارکیٹ میں ڈال دیتے ہیں ۔۔ چار پانچ مہینے ایران اور امریکا کی صلح کرانے میں لگا چکے جسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔۔
انکو بتایا جائے کہ خارجہ پالیسی اور داخلہ اور خزانہ سے انکو مکمل طور پر نکلنا ہو گا ۔۔ کشمیر اور بلوچستان کے معاملات سیاست دان ان سے کہیں زیادہ بہتر طریقے پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔ وہ صرف اور صرف دفاع کی فکر کریں ۔۔ وہ کام انکو آتا ہے باقی سب معاملات سول حکومت اور سیاست دانوں کو کرنے دیں ۔۔ ہائبرڈ نظام نہ عمران خان کے دور میں ملک کے لئے بہتر تھا اور نہ ہی شہباز صاحب اور ملک کے لئے ۔۔۔
مولانا فضل الرحمن کے تازہ گرم گرما بیانات کے بعد PTI والے تبصرہ کررہے ہیں کہ مولانا کو گرفتار کیوں نہیں کیا جارہا تو اسکی وجہ ہے کہ انکے پاس سوشل میڈیا پر گالیاں دینے والے نہیں بلکہ گولیاں کھانے اور مارنے والے کارکن ہیں اور مذھب کے نام پر بچاروں کو جس طرف بھیج دیں،نکل جاتے ہیں
مولانا فضل الرحمان اور ان کے سینکڑوں ساتھی علما نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد فتوے دیئے ہیں۔ ان پر کئی بار حملے ہوئے، ان کی جماعت کے درجنوں علما اور سینکڑوں کارکنوں کو دہشت گردوں نے شہید کیا۔ ان کا علاقہ بدترین دہشت گردی کا شکار ہے۔ ان کی ناراضگی کو برداشت کرنے اور ان سے مکالمہ کرنے میں ہی بہتری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس تقریر میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شام کے بعد حکومت کی رٹ ختم ہو جاتی ہے پولیس تھانوں سے نہیں نکلتی بلوچستان کے اکثر علاقوں میں بھی کوئی حکومت نہیں اس دعوے پر قومی اسمبلی میں بحث کی ضرورت ہے تا کہ کوئی حل نکالا جا سکے اب ہمیں اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بیرونی مسائل بیرونی طاقتوں پر چھوڑ دیں
ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے
"معاف کیجیے جناب
میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں
کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں"
آدمی
"جی بالکل"
عورت
"فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے
کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے"
آدمی
"نہیں"
اس عورت نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے "بے ادب" کے خانے پر ٹک کرتے ہوئے دوسرا سوال کیا
"اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے"
آدمی
"نہیں"
اب کی بار "خود غرض" پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا
"اور اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے"
آدمی
"نہیں"
عورت غصے سے بولی
"تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو جس کو خواتین اور بزرگوں کے آداب نہیں سکھائے گئے"
یہ کہتے ہوئے عورت آگے چلی گئی
پاس کھڑا ایک دوسرا آدمی جو یہ گفتگو سن رہا تھا اس نے پوچھا
"اس عورت نے تمہیں اتنی باتیں سنائیں تم نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا"
تو اس آدمی نے جواب دیا
"یہ عورت اپنی چھوٹی سوچ اور آدھی معلومات کی بنا پر سروے کر کے لوگوں کا کردار طے کرتی پھر رہی ہے
اگر یہ مجھ سے سیٹ نہ چھوڑنے کی وجہ پوچھتی تو میں اسے بتاتا کہ
میں ایک بس ڈرائیور ہوں"
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم ادھوری معلومات کی بنیاد پر دوسروں کو جانچنے اور ان کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتے ہیں😂😂
فاسٹ بولر نسیم شاہ کا اپنے تازہ انٹرویو میں کہنا ہے کہ ایک سال پہلے میرے والد صاحب کو ہم بھائیوں نے ملکر کہا آپ کو سوزئرلینڈ بیجھتے تین ماہ کیلئے آپ وہاں جاکر گھومے جس پر میرے والد صاحب نے کہا جو پیسے تم میرے سوزئرلینڈ پر لگاؤ گے وہ پیسے اپنے علاقے میں ایک بیوہ خاتون ہے جس کا شوہر دبئی میں محنت کرتا تھا اپنے بچوں کیلئے اور وہاں فوت ہوا تھا اس کی تین چھوٹے بیٹے اور دو بیٹیاں ہے اللہ کے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں ہے ان کے پاس رہنے کیلئے گھر نہیں ہے یہ رقم ان کے حوالے کرو سمجھ لو میں سوزئرلینڈ گیا اور واپس آگیا پھر ہم نے حساب لگایا اور کچھ پیسے ساتھ اور ملاکر والد صاحب نے ہماری اپنی زمین میں سے چار مرلے کی زمین ان کو دیدی اور پھر ہم نے دو کمروں پر مشتمل گھر ان کو بناکر دیا اس سے ہمارے والد صاحب اتنے خوش ہوئے کہ اسکے خوشی سے آنسو آگئے اور کہا کہ ہم نے غریبی دیکھی ہے آج اگر اللہ کا ہمارے اوپر بہت زیادہ فضل ہے یہ ان لوگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
#cricket #PakistanCricket #Naseemshah
🇵🇰🇦🇪
امارات کے دو ارب ڈالر واپس کر دیے، اچھا کیا۔ اب تھوڑی کوشش کر کے تعلقات کی تلخی کو بھی کم کر لیں تو بہت ہی اچھا ہو جائے گا۔ جو بھی وہاں گیا ہے، اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ عام پاکستانیوں سے لے کر ایلیٹ تک کے جو مفادات امارات میں ہیں، ان کا شمار نہیں۔ امارات گئے پاکستانیوں کی بدولت ان کے یہاں موجود لاکھوں پاکستانی خاندان پُرآسائش اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، آگے بھی بہترین مواقع ملیں گے۔
رہ گئیں غلط فہمیاں یا اندرونی معاملات میں مداخلت وغیرہ کی باتیں، تو جانی و مالی نقصان کا حساب کر کے دیکھ لیں ، اس فہرست میں امارات کہاں ہے؟ جبکہ دوسرے ملکوں نے یہاں کتنی تباہی مچائی۔ ویسے بھی یہ ہماری ریاست کا فرض ہے کہ کسی کو اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے دے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو اس کی بدمعاشی سے زیادہ ہماری کمزوری ہے
🚨 A failed propaganda attempt… exposed immediately.
Pakistan’s Ministry of Foreign Affairs Spokesperson 🇵🇰 confirmed today: The payment of financial obligations with the UAE 🇦🇪 is a routine, scheduled process. It is not linked to any political interpretations or narratives being circulated.
Let’s be clear 👇
1. These payments are standard and pre-agreed between both countries.
2. They reflect normal financial coordination, not a crisis or pressure.
3. Attempts to frame them otherwise are misleading and were quickly debunked.
Once again, UAE–Pakistan relations remain deep, historic, and strategic. They are built on mutual respect, economic partnership, and decades of trust. Temporary disinformation campaigns can’t shake that foundation.
Whoever tries to sow division between Abu Dhabi and Islamabad… always fails 🦾
#UAE #Pakistan #Diplomacy #FactsMatter #StrategicPartners
Respect Between Soldiers: When Protocol Bows to Military Brotherhood 🇦🇪🇵🇰
Greetings are not imposed by words.
They are earned through a military history that only soldiers truly understand.
His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan is a military commander before being a statesman. That is why he broke protocol for Pakistan’s Chief of Army Staff, General Asim Munir.
This was not an ordinary salute. And it is not granted to every head of state.
Some gestures carry weight beyond diplomacy. They reflect shared discipline, trust forged in service, and mutual respect between those who have worn the uniform.
This is the language of leadership that transcends politics.
This is the bond between the UAE and Pakistan. 🇦🇪🤝🇵🇰
#Leadership #UAE #Pakistan #Diplomacy #Military #Brotherhood #Respect #Geopolitics
Always a pleasure to catch up with Pakistani PM @CMShehbaz and thank him for the continuous commitment to deepen the cooperation with Kosovo.
I also commended Pakistan’s important role in mediating on Iran and the Strait of Hormuz, reflecting its commitment to regional peace, and wished them success in the next round of mediation. 🇽🇰🤝🇵🇰