"پیرس کے ایک محلے سینٹ انٹونیو کے اطراف میں وحشت اور افسردگی برس رہی تھی ۔ یہ بے رونقی صرف جاڑے کی شدت کی وجہ سے نہ تھی ... بلکہ اس کے اسباب تھے گندگی، دکھ، بیماری، جہالت اور غربت۔ کوئی گھر، گلی اور کوئی کوچہ ایسا نہ تھا جس سے مفلسی نہ جھلکتی ہو ۔ سب سے زیادہ بدبودار اور پیچیدہ وہ گلی تھی جس میں زیادہ تر غریب لوگ رہتے تھے ۔ ان میں سے اکثر کے چہروں پر غصہ اور آنکھوں سے خون برستا معلوم ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ انتقام کی آگ میں جل رہے ہوں۔"
۔
چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول اے ٹیل آف ٹو سیٹیز سے ایک اقتباس ۔۔۔ شاید اٹھارویں صدی کی آخری دہائیوں کے اسی پیرس سے کراچی کی مثال دی تھی پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے۔
بلدیہ فیکٹری کو جلانے کا الزام بھی بالآخر ویسے ہی جھوٹا ثابت ہوا جیسے جناح پور، ٹارچر سیلز، را کی ایجنٹی، حکیم سعید، شاہد حامد کیس، نائن زیرو چھاپہ اور دیگر کئی کیسز جھوٹے ہی ثابت ہوۓ..
اس ملک میں سب سے آسان کام الزام لگانا،. سیاسی عداوت کو سرکاری سرپرستی میں نکالنا وغیرہ ہیں.
جن جے آئ ٹیز کو حرف آخر سمجھا جاتا رہا ہے اب انکا کردار بچا ہی کیا ہے..
پہلے دن سے یہ بات کہتا آیا کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ کو صرف سیاسی آپریشن کی وجہ. بنانے کے لئے استعمال کیا گیا، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں نے اس سانحے کو اپنی سیاست چمکانے لئے استعمال کیا اور پراپیگنڈا کا انتہا کردی گئی...
ایک فیکٹری کو اس طرح دانستہ جلادینا کسی طور اتنا آسان اور ممکن نہ تھا لیکن قربان جائیے اس نسلی عصبیت و نفرت کا کس طرح پورے واقعہ کو صرف ایک سیاسی جماعت اور لسانی اکائی کے خلاف ایک منظم آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا..
کتنے لوگوں کو جیو نیوز کے اس وقت کے نیوز کلپس یاد ہیں جن میں ابتدائی سی سی ٹی وئ فوٹیجز دکھائی جہاں نہ تو کوئ آگ لگاتا دکھائی دیا نہ کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دی. خبرنامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں. جن مین سے کچھ جیو نیوز نے حاصل کیں.
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آگ لگوائی گئی تھی تو اس سارے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں ریلیز نہیں کی گئی؟؟
کیوں صرف الزام پر الزام لگایا جاتا رہا؟
پوسٹ کے ساتھ جیو نیوز کی ایک بلیٹین شامل ہے جسے غور سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کسی طور ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ایک صنعتی حادثہ تھا.
کیا اب مخالفین باضابطہ کوئ معافی مانگیں گے؟؟ کیا وہ. لوگ جو جھٹ سے بلدیہ فیکٹری کا الزام لگاتے تھے اب اپنا منہ بند رکھینگے؟؟
بھٹو نے دوران تقریر “اچانک” مڑ کے دیکھا تو اپنی کرسی پر بیٹے مرتضی کو پایا۔
وہ چیخے؛
قوم کے بچے زمین پر بیٹھیں، تم کرسی پر؟ ناممکن، اٹھو، وہاں بیٹھو!جلسہ بھٹو نے لوٹ لیا۔
شام کو مرتضی گھر منہ پھیلائے بیٹھا تھا تو ماں نے پیار کیا، پوچھا کس نے کہا تھا کرسی پر بیٹھو؟
مرتضی: ابا نے
جبکہ یہاں پر کرسیاں موجود ہے لیکن ڈرامے بازیاں ضرور کرنی ہیں۔
جب کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اس وقت کی ترقی اور جدیدیت کا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ اس وقت کراچی میں ٹریم چلا کرتی تھیں، ایشیا کی سب سے بڑی بلڈنگ تعمیر ہو گئی جسے دنیا دیکھنے آتی تھی۔
اور اس کے بعد جب کراچی سندھ کی عملداری میں آیا اس دن سے آج تک کی بربادی دیکھ لیجیے اور خود فیصلہ کر لیں۔
#بااختیار_کراچی
گلگت بلتستان والے پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں، لیکن پھر یاد رکھیں اس کے بعد۔
آپ کے بچے کھلے گٹروں میں گر کر اپنی جان دیں گے۔
سات ماں کی حاملہ عورت بھی کسی ڈمپر کے نیچے آ کر کچلی جائے گی۔
سڑکوں کے نام پر بڑے بڑے گڑھے ملیں گے۔
گیس کے لئے سلینڈر لینا ہو گا۔
بجلی کے لئے سولر لگانا ہو گا۔
پانی کے لئے ٹینکر ڈلوانا ہو گا۔
تعلیم کے لئے مہنگے پرائوٹ اسکول جانا ہو گا۔
بیماری کی صورت میں پرائوٹ علاج کروانا ہو گا۔
بس یوں سمجھ لیں گلگت بلستان بھی پھر دوسرا کراچی ہی بن جائے گا !!
لہذا پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں تاکہ گلگت کی عوام بھی وہ سہولیات اور مزے لے جو پچھلے اٹھارہ سال سے کراچی کی عوام لے رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں۔
وما علینا۔۔۔۔۔
سوا لاکھ حاجیوں کا مجمع غدیر کے مقام پر روک کر، جو آگے بڑھ گئے اُن کا واپس بلا کر اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار فرما کر رسول ص نے پہلے امت کو "نقطہ اعتدال" سمجھایا، پھر علی۴ کی ولایت کا اعلان کیا۔
#عیدغدیر#ٹوٹ_بٹوٹ
ایک پنڈ میں دو میراثی رہتے تھے۔ انہیں پورے گاٶں میں کوئی منہ نہیں لگاتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لئے حقہ پکڑ لیتے اور ایک دوسرے کو ہی کہتے رہتے۔
"چِھک چودھری ، لے توں چِھک چودھری"
یہ تین سال پہلے تک صمد بونڈ کا نشہ کرتی تھی، پھر رب نواز بلوچ نے اس کا علاج کروایا، بینظیر انکم سپورٹ سے اس کا وظیفہ باندھا، اب لگتا ہے یہ واپس کسی سستے نشے پر لگ گئی ہے۔ پھر سے علاج کرواو اس کا۔۔
گلی کی طرف روشن دان سے باتھ رومز میں خواتین کی ویڈیو بنانے والا خود کیمرے میں آ گیا، یہ واقعہ کیماڑی کا بتایا جا رہا ہے۔
اس حرامخور جانور کو پکڑوانے میں مدد کریں تاکہ اس کا سوفٹوئر بھی اپڈیٹ کیا جائے۔
فرق صرف اتنا ہےپہلےکوئی ہماری ماں بہنوں پہ بری نظر بھی ڈالتا تھا تو یونٹ اور سیکٹر پہ اس حرامخور کا سافٹ وئر اپڈیٹ کر دیا جاتا تھا۔ پھر اس حرامخور کے برادری والےہمیں دہشتگرد مشہور کرتےتھے۔ اب دیکھ لو اس شہر میں ماں بہنوں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں۔ اب یہ حالات دیکھ کر دکھ ہی ہوتاہے۔