Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
حیدر سعید نے نہ کوئی چوری کی نہ ڈکیتی اس کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا کہ اس نے عمران خان صاحب کو پمز لانے والی گاڑیوں کے قافلے کی ویڈیو کیوں بنائی، یہ ہے اس وقت پاکستان میں لاگو جنگل کے قانون کے حالات۔
بریکنگ نیوز 🚨
عمران خان کے لیے نیا ٹرینڈ بند گیا!!
پوری دنیا میں عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہےہیں, پاکستان کا سب بڑا لیڈر اور کپتان اور سیاستدان جیل میں ہے!! آخر کیوں!!
🚨سہیل آفریدی کا اپنی بروکریسی کو پیغام
آپ نے گھبرانہ نہیں ہے، آپ نے یہ نہیں سوچنا کہ مجھے صوبے کا پتہ نہیں ہے، مجھے تمام پوسٹنگ ٹرانسفرز کا پتہ ہے، مجھے صوبے کی ساری معلومات آ رہی ہیں، سہیل آفریدی
Putting politics aside,our national hero who gave us our greatest glory on the sporting field,cancer hospital helped so many, including my own mother,is suffering a health emergency and requires urgent treatment.I humbly request the related authorities he gets the appropriate treatment in a timely manner. Get well soon skipper. Wishing him a complete and speedy recovery @ImranKhanPTI
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل بعد از نمازِ جمعہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پُرامن دھرنا دیا جائے گا۔ یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاج معالجے کے مکمل، شفاف اور تسلی بخش انتظامات نہیں کیے جاتے اور ان کی صحت کے حوالے سے قوم کو درست اور مصدقہ معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
یہ محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے آواز ہے۔ ایک منتخب سابق وزیر اعظم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کے اصولوں سے متصادم ہے۔ گولیاں چلانا، سینکڑوں جھوٹے مقدمات قائم کرنا، بے گناہ قید رکھنا، قیدِ تنہائی میں ڈالنا، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور وکلاء سے ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کرنا ، کیا یہی انصاف ہے؟ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ہیں؟
اس نااہل، کرپٹ اور مسلط رجیم نے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی ہے۔ مگر یاد رکھا جائے کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے نشے میں دھت حکمران عوام کی عدالت میں سرخرو نہیں ہو سکے۔ آج بھی قوم سوال کر رہی ہے کہ ایک بیمار قیدی کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا کیوں جرم بنا دیا گیا ہے؟ اس کی بینائی، صحت اور جان کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور جمہوری ہوگا۔ ہم کسی تصادم یا انتشار کے خواہاں نہیں، مگر سابق وزیر اعظم اور ملک کے مقبول ترین لیڈر کی جان و صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی قبول نہیں کریں گے۔ اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
کراچی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ حالیہ وحشیانہ سلوک انتہائی صدمے کی بات ہے اور یہ کسی بھی ایسے معاشرے میں ناقابل قبول ہے جو قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرتا ہو۔
کوئی بھی شخص، کوئی قانون، کوئی ادارہ، منتخب نمائندوں یا پرامن شہریوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا حق نہیں رکھتا۔ سابق ایم این اے فہیم خان، سابق ایم پی اے راجہ اظہر، اور موجودہ ایم پی اے واجد حسین کو کورنگی میں پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر، شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ کن لوگوں نے مارا، یہ فہیم خان نے اپنے انٹرویوز میں وضاحت بھی کردی ہے۔
تشدد کے واضح نشانات عوام کی عدالت میں دکھائے گئے ہیں، اور حاضر ایم پی اے نے سندھ اسمبلی میں اپنے زخم خود پیش کیے۔ پورا ملک اس طرح کے اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے۔
نام نہاد "فارم 47# حکومت" اور "عاصم لاء" نافذ کرنے والے اگر اس غلط فہمی میں ہیں کہ وہ اس ظلم کی لہرِ لامتناہی جاری رکھ سکتے ہیں تو وہ یہ جان لیں کہ ہر وحشیانہ قدم اس نظام کی کمزوری کو مزید عیاں کرتا ہے، اس کی جو بھی باقی ماندہ حیثیت ہے اسے مزید ختم کرتا ہے اور مزاحمت کو مزید تقویت بخشتا ہے۔
میرا دل پاکستان کے مظلوم، مزدوروں، غریبوں، مسکینوں اور عام شہریوں کےدکھ سے لبریز ہے جو صرف انصاف اور اپنے جمہوری حقوق کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے اس بڑھتے ہوئے جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ کسی ایک جماعت سے بالاتر ہے: پی ٹی آئی شاید مزاحمت کی ایک واضح علامت کے طور پر کھڑی ہو، لیکن پیغام تمام آزادی پسندوں کے لیے واضح ہے کہ جو بھی مزاحمت کرنے کی جرات کرے گا، اس کا انجام کیا ہوگا۔
تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی رجیم، چاہے کتنی ہی بے رحم ہو، عوام کی ناقابل شکست ارادے کو توڑ نہیں سکتی۔ ان ناانصافیوں کی گونج خاموشی میں نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی یکجہتی اور عزم میں گونجے گی۔ لوگ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اصلی طاقت لاٹھیوں یا عمران خان کی آنکھ خراب کرنے میں نہیں، بلکہ اس قوم کے لازوال جذبے میں ہے جو جھکنے سے انکار کرتی ہے۔ انصاف ضرور غالب آئے گا—استقامت سے، طاقت کے زور سے نہیں۔
یہ میرا شہر کہ مقتل بنا ہے اب کے برس
یہ میرا شہر کہ جس کی جگر فگار گلی
لہو لہو ہے، مگر سرنگوں نہیں ہوتی
🚨شاندانہ گلزار کا چیف جسٹس سے سوال ۔۔۔ کہا کہ ایسی سپریم کورٹ کو شرم انی چاہئے۔ جب سلمان اکرم راجہ اور گوہر خان کے ائے تو انکی ملاقات رجسٹرار سے کرا دی۔۔ کیا چیف جسٹ کے پاس 5 منٹ بھی نہیں تھے؟