The repeated targeting of Fahad Qambarani’s family through enforced disappearances, home raids, intimidation, and threats reflects a pattern of collective punishment that is fundamentally incompatible with the principles of justice and the rule of law. Over a prolonged period, multiple members of the same family have allegedly been subjected to enforced disappearance and harassment, while women, children, and elderly relatives have been exposed to fear, uncertainty, and psychological suffering. The reported raid on the family home and the enforced disappearance of a 12 year old child raise grave concerns regarding the protection of fundamental rights.
International human rights law is clear that no individual may be subjected to punishment, coercion, or retaliation on the basis of family association. The prohibition of collective punishment is a well established principle of international law and remains binding regardless of the circumstances invoked to justify its use.
#StopCollectivePunishmnet
#EndEnforcedDisappearances
26 مئی 2020 کی رات بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ڈنک میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بعد ازاں بلوچستان کی حالیہ سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بلوچستان کے موجودہ حالت کے پس منظر میں بظاہر یہ ایک عام واقعہ تھا، لیکن اس کے ردِعمل نے ایک ایسی عوامی تحریک کو جنم دیا جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک منظم سیاسی و سماجی قوت کی شکل اختیار کر گئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی، پس منظر اور آغاز | بی وائی سی اور ریاست: تصادم کی وجوہات ۔ ٹی بی پی رپورٹ
مزید پڑھیں:
https://t.co/EiYrY9iSMe
“These prison walls may be high indeed, but not so high that they can confine within them the sorrows of nations, the sighs of mothers, and the cries for justice. Even seated behind these bars, I can hear those voices rising from Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa, Sindh, Gilgit-Baltistan, and Kashmir—voices demanding their fundamental rights, honor, identity, and justice.”
نظر مری کو ایک سال پورے ہونے کو ہے کہ وہ ریاستی عکوبت خانوں میں ہے۰ان عکوبت خانوں میں ایک دن زندگی کرنا ناممکن ہے لیکن نظر مری کو ایک سال ہو رہاہے کہ وہ زندان میں بند ہے۰ان کی باحفاظت بازیابی کےلے ہم اپنے مہروان بلوچ قوم سے دستبردارانہ اپیل کرتے ہیں کہ ان کےلے آواز اٹھائیں۰
The Punjabi hegemonic state apparatus has put the leadership of Baloch Protest (BYC) in jail. They’ve banned the Pashtun Protest (PTM). They’ve banned the Kashmir Protest (JAC). They have put leadership of Gilgit Protest leadership behind bars. Isn’t it the right time for unity?
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کو ریاستی جبر کا نشانہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ وہ ریاستی مظالم کے خلاف لوگوں میں شعور اجاگر کر رہے تھے اور انہیں متحد کر رہے تھے۔ ریاست اپنے مظالم، خصوصاً جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتلِ عام جیسے جرائم کو چھپانے کے لیےب
It has now been more than a year since Mahrang Baloch, along with other senior leaders of the Baloch Yakjehti Committee (BYC), have been in detention, I respectfully urge the BYC leadership to share clear and up-to-date information with the public regarding her legal proceedings, specifically who is currently serving as her legal advisor and counsel, as well as the current status and summary of the cases against her and other detained leaders. Mahrang Baloch is widely recognized as a prominent leader of the Baloch nation and one of the most articulate voices advocating for human rights in Balochistan on the international stage, with the Baloch people regarding her as a symbol of principled leadership and peaceful resistance; therefore, given her stature, it is essential that the Baloch Yakjehti Committee maintains full responsibility by issuing a formal public statement or organizing a press briefing at the earliest, as this would strengthen public trust.
@NadiaBaloch99@BalochYakjehtiC@sabiha
پنجابی پبجابی کو برداشت نہیں کر سکتا ، اور ہم کتنے سالوں سے اس پہنجابی کو برداشت کر رہے ہیں جب ہم اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو ہمیں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کہاں سے آ رہے ہو کہاں جا رہے ہو، اپنے گاؤں سے نکلنے اور داخل ہونے پر انٹری اور اگزٹ کرانا ہمارا روز کا کام ہے یہاں تو صرف آئی ڈی دکھاؤ وہاں گاڑی سے اُتر کے جاؤ ایک تو ٹکے کے سپاہی کو صفائی دو جی جی کرو سر سر بولو وہ بدتمیزی سے پیش آنے کے بعد انٹری کرتا ہے اور دوسری طرف ایک اور بد تمیز سپاہی عورتوں اور بچوں کو گاڑی سے باہر نکال کر بدتمیزی سے تلاشی لیتا ہے جیسے دوسرے ملک میں انٹر ہو رہے اور دوسرے ملکوں میں بھی ایسی زلالت کی تلاشی نہیں ہوتی
Sent from WA Business
https://t.co/0APG7o3uvl
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربرا ہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہدہ جیل کوئٹہ سے جاری اپنے ایک بیان میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
#dailysangar #Pakistan #PakistanArmy #POK #AJK #Kashmir #JKJAAC #BYC #DrMahrangBaloch
https://t.co/Rh7Ez54Z1v
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
(JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی ؟
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل
10 جون