طلال چوہدری کو توہین عدالت میں ناحق 5 سالہ نااہلی کی سزا ثابت قدمی سے کاٹنے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ جھوٹے مقدمات، سزاؤں، نااہلیوں اور ہر طرح کے ظلم کو میں نے اور میرے ساتھیوں نے تو صبر و استقامت سے برداشت کر لیا مگر ناانصافی پر مبنی ان فیصلوں کی سزا پاکستان نے بھگتی۔
2017 کے پھلتے پھولتے پاکستان کو جبر اور ناانصافی کے ان فیصلوں نے 2022 تک اس نہج تک پہنچا دیا کہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس گئی۔ اگر اللہ تعالٰی نے مسلم لیگ ن کو دوبارہ موقع دیا تو 2017 سے بھی بہتر پاکستان بنائیں گے۔ انشااللہ
اپنی اس نااہلی اور انتہائی کمزوری کاشکوہ اپنے آپ کے علاوہ کس سے کریں کہ قرآن کریم اور ناموس رسالت کے خلاف باربار کے حملے دیکھنے کے باوجود ہم اپنی غیرت ایمانی کے اصل تقاضوں پر عمل کرنے سے قاصر ہیں ہم صرف زبانی احتجاج کرسکتے ہیں لیکن کم سے کم ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوے نہ ان سے سفارتی تعلقات توڑ سکتے ہیں نہ انکی مصنوعات کا موثر اور دیرپا بائیکاٹ کرسکتے ہیں یااللہُ ہمارے گناہ معاف فرما کر ہمیں اس ذلت کا مداوا کرنے کی توفیق عطافرما
سویڈن میں ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کردی گئی۔ مسلمان ممالک اور OIC کو اس معاملہ پر سخت ردعمل کے طور پر سویڈن سے فوری تعلقات ختم کرنے چاہیے۔ ایک مشترکہ حکمت عملی سے ہی ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک کی گستاخانہ عمل کی حمایت انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔
محترم برادرم مفتاح اسماعیل جب سے وزارت سے سبکدوش ھوۓ ھیں انکا پاکستان کے معاشی حالات پہ تبصرے سننے کو ملتے ھیں۔ وہ pmln کا حصہ ھیں جماعت انکے علم سے براہ راست استفادہ کر سکتی ھے انکی قابلیت مسلمہ ھے۔ لیکن ملک کا معاشی عدم استحکام اسوقت انکے میڈیا پہ نکتہ چینی کا متحمل نہیں ھو سکتا۔ انکی نکتہ چینی حکومت کیلۓ مفید بھی ھو سکتی ھے اگر وہ بھی جماعت کو اعتماد میں لیں اور اچھے وقت اور رفاقت کو یاد رکھیں ۔ جماعت نے انکو دو دفعہ وزارت خزانہ سے نوازا۔ انکا وزارت سے ھٹایا جانا کا گلہ تو ھو سکتا ھے مگر پارٹی کوٹارگٹ کرنے کا جواز نہیں ھو سکتا۔ سیاست میں موسم بدلتے رہتے ھیں اور باوقار سیاسی ورکر سردی وگرمی دونوں کو برداشت کرتے ھیں اور سرخرو ھوتے ھیں ۔ وفاداری جب مشروط ھو تو وہ کاروبارھوتی ھے۔
معذرت خواہ ھوں سوشل میڈیا کا سہارا مجبوراً لیا کیونکہ نکتہ چینی کا سلسلہ سارا میڈیا کی زینت ھے جزاک اللہ
Heartfelt congratulations to my brother President Recep Tayyip Erdogan (@RTErdogan) on his re-election as President of the Republic of Türkiye. His historic victory reflects the continued trust and confidence reposed by the people of Türkiye in his leadership. I am confident that, under President Ergodan’s able leadership, Türkiye will continue to progress and thrive. Pakistan and Türkiye are brotherly nations which share a strong strategic partnership. I am certain that the bond between our two nations and peoples will become even stronger in the years to come.
بیٹے سے چند ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کروا کر جیل پھینک دیا گیا اور دوسری طرف ایک ثابت شدہ کرپٹ کو صادق اور امین بنا کر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی توہین کی گئی۔
ہمیں سزا سنانے والے، 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں۔
کون کرے گا ایسے عدل کا احترام ؟
لیک آڈیوز نے تحریک انصاف کے کچھ رہنماوں کے گھناونے چہرے بے نقاب کر دیے۔ پاکستان کو اس انداز میں عمران خان کی جماعت نقصان پہنچا سکتی تھی کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
اس ویڈیو کو سو بار دیکھ چکا ہوں مگر دل ہی نہیں بھرتا بار بار اس ویڈیو کو دیکھنے کو دل کرتا ھے ۔۔۔
یاد ہے نا کسی نے کہا تھا میں اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔
یہ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں، یہ ہے پاکستان کی تباہی کی اصل سازش
منتخب وزیر اعظم کے خلاف سازش رچانے، وزارت عظمیٰ سے ہٹانے اور سزا دینے میں ثاقب نثار اور انکا بینچ، نیب کورٹ کے جج محمد بشیر،جنرل باجوہ اور فیض حمید ملوث ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا Suo Moto نوٹس لیتے ہیں تو کیا پاکستان کے ساتھ ہونے والے اس بھیانک ظلم پر بھی کوئی از خود نوٹس لیا جائے گا؟
کیا یہ مجرم کبھی عدالت میں بلائے جائیں گے ؟
کیا جنرل فیض حمید اور ثاقب نثار سے پوچھا جائے گا کہ جسٹس شوکت صدیقی کو بینچ سے کیوں ہٹایا گیا ؟ جنرل فیض حمید نے جسٹس شوکت صدیقی کے گھر دو مرتبہ جاکر کیوں کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینا قومی مفاد میں ہے اور اگر انہیں ضمانت ملی تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی ؟ یہ دو سال کی محنت کیا تھی اور نواز شریف کو سزا دلوانے میں کونسا قومی مفاد تھا ؟
کیا جنرل فیض حمید سے پوچھا جائے گا کہ جسٹس صدیقی کو کیوں کہا کہ نیب کورٹ میں سزا تو ہونی ہی ہونی ہے اب صرف سزا کی مدت طے ہونا باقی ہے؟ انکو کیسے معلوم تھا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے؟ کیا جج محمد بشیر سے پوچھا جائے گا کہ جنرل فیض حمید کو کیسے علم تھا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے ؟ کیا انور کاسی سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے جسٹس صدیقی کو کیوں بینچ سے ہٹایا اور کہا کہ خاموش رہیں یہ اوپر سے حکم ہے؟ اوپر سے حکم کس کا تھا ؟ کیا اعجاز الاحسن سے بھی پوچھا جائے گا کہ انھوں نے بطور مانیٹرنگ جج اس انصاف کے قتل میں کیا مانیٹرنگ کی تھی جو آج تک چلتی ہی جا رہی ہے؟ کیا جنرل باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ انکی سرپرستی اور ناک کے نیچے جنرل فیض یہ سب کچھ کیسے کرتا رہا ؟
وضاحت کرنا چاہ رہا ہوں کہ میں آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریب میں شرکت کے لئے آیا تھا، کہا گیا یہاں صرف آئین کی بات ہوگی، لیکن یہاں سیاسی باتیں ہوئیں،اور اسکی اجازت بھی یہی آئین ہی دیتا ہے، سیاسی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا نہ ہی ان باتوں پر کچھ کہنا چاہوں گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ