My reaction to Aleema Aapa's illegal arrest and detention, and the overall situation in Pakistan, especially with regards to the Long March on the 27th September 2026, and why it is so important.
Was this a #DGISPR Press Conference or a #DGPMLN Press Conference?
Two back to back political press conferences.
All they gained is a response from Pakistanis with clips from the past and data points countering their lies. Press Conference got totally rejected!
#ItIsOver
جب DG ISPR ایک خاص قسم کے سوال جو کہ عاصمہ شیرازی صاحبہ نے پوچھا اور اس کے جواب میں وہ عمران خان صاحب کے بارے میں عامیانہ اور تحقیری لحجے میں بات کر رہے تھے تو عاصمہ شیرازی کو شدید خوشی ہو رہی تھی۔ ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ کتنی نفرت بھری ہے ان میں۔ پھر عورت کارڈ نکل آتا ہے۔
آج احمد شریف نے KP کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا ہے اور کہا ہے پاکستان سارا اکٹھا ہے لیکن اس میں KP کو شامل نہیں کیا
کیا کسی سوچے سمجھے منصو��ے کے تحت KP کو باقی پاکستان سے علیحدہ دکھایا جا رہا ہے آج کی پریس کانفرس افغانستان سے زیادہ KP پر حملہ تھا
تین وزراء اعلی کے پیغامات دکھاۓ گئے لیکن ایک وزیراعلی کو مائینس کیا گیا
یہ وطن دشمن جرنیلوں کے عزائم خطرناک لگ رہے ہیں
ڈی جی صاحب نے فرمایا ہے کہ کے پی میں دہشت گردی کی بنیادی وجہ وہاں کا political conducive environment ہے اور وہاں پر سیاسی، جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہے، ہم یہاں حقائق کی روشنی میں یہ بیان دیکھتے ہیں:
80 کی دہائی میں ایک ایف اے پاس ڈفر جو خود کو امیرالمومنین کہلواتا تھا نے امریکی ایماء پر ڈالر جہاد کا اعلان کیا، ملک بھر سے آرمی کی سربراہی میں دہشت گردی کے مراکز قائم کئے گئے، جہاں نوجوانوں کو جہاد کے نام پر ورغلا کر افغانستان میں روس کے خلاف امریکی جنگ لڑوائی گئی، وقت بدلا پھر ایک روشن خیال ایف اے پاس ڈفر ملک پر مسلط ہوا، وہ روشن خیالی کے نام پر امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کُود پڑا، جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے ڈالرز کے بدلے افغان سفیر امریکہ کے حوالے کردیا کراچی سے افغان بارڈر تک امریکہ کو رسائی دی گئی، اسلحہ و منشیات کا استعمال عام ہوا، ان کی اس پالیسی کے خلاف پاکستان میں شدت پسندی بڑھی۔ دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں پاکستان نے 70 ہزار جانیں قربان کیں، ہزاروں ارب کا نقصان ہوا ہماری معیشت بیٹھ گئی پھر باجوہ نامی ایک ڈفر نے طالبان افغانستان سے واپس لانے کا پلان بنایا اور ان کو کے پی کے افغان ملحقہ ایریاز میں بسا دیا گیا۔
ڈی جے اس بات کا بھی جواب دیں کہ قوم کا اربوں روپیہ لگا کر جو افغان بارڈر پر باڑ لگائی گئی وہ کیوں دراندازی روکنے میں ناکام ہے؟ 2600 کلومیٹر کا بارڈر آپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔
کے پی جو گزشتہ چار دہائیوں سے آپ کی غلط پالیسسیوں کی وجہ سے جل رہا ہے، سلگ رہا ہے، اس طرح کے بیانات قوم کو تقسیم کرنے اور زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں! اگر آپ سیاست کی بجائے بارڈرز کی حفاظت میں مصروف ہوتے تو پاکستان اور کے پی کے یہ حالات ہرگز نہ ہوتے۔
وہی متنفر جنگی مائنڈسیٹ اور رعونت بھرا انداز گفتگو، ڈی جی، آئی ایس پی آر ایک بار پھر اس صوبے کے وزیراعلیٰ پر حملہ ہوئے جس نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ جس تحریک انصاف کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اسی تحریک انصاف کے دور میں پاکستان دہشتگردی انڈکس میں چار درجے ب��تری کے ساتھ نوویں نمبر پر چلا گیا تھا، گزشتہ ساڑھے تین سال میں پاکستان “عالمی دہشتگردی انڈکس” میں نوویں نمبر سے گِر کر دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، سہیل آفریدی کا تعلق صوبہ کے ان اضلاع سے ہے جہاں ہر گھر سے جنازے اٹھائے گئے ہیں۔ کیا دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں شہادتیں پانے والے خیبرپختونخوا کے یہ سویلین اس قوم کے شہید نہیں ؟ آخر کولیٹرل ڈیمیج پر اتنی پردہ داری کیوں ؟
ڈی جی، آئی ایس پی آر نے سویلین شہداء کے وارثین صوبائی وزراء پر ٹھٹھہ اڑایا، کیا کوئی دوسرا سرکاری ملازم یوں ان کے ادارے کے کسی شہید کے بارے ایسی گفتگو کر سکتا ہے؟ کیا اس ملک میں ج��ن قیمتی صرف ایک ادارے کی ہے؟ کیا اس ملک میں عزت صرف ایک ادارے کی ہے ؟ کیا اس ملک میں قومی شہید کا لقب صرف ایک ادارے کا ہے؟ شرمناک ! ملک میں دہشتگردی کے خطرات منڈلا رہے ہیں جبکہ دفاعی ادارے کا ترجمان ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے خلاف مسخرا پن کر رہا ہے۔
وزیراعظم ملک کے باپ کی طرح ہوتا ہے، قوم بچوں کی طرح ہوتی ہے، اگر بچے بھوکے ہیں تو کیا میں ایک بادشاہ کی طرح رہوں گا، اپنے خرچے نہیں کم کروں گا
عمران خان کا بطور وزیراعظم ایک پرانا خطاب
ایک 19 گریڈ کے سرکاری ملازم کی ایک عوامی نمائندے کے لیے جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ ایک خاص طرح کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو خود کو اس ملک کے آئین اور قانون سے اوپر سمجھتی ہے ۔۔!!
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب آپکے کتنے بیٹے بارڈر پر خوارجیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں؟
عاصم منیر کا کونسا بیٹا لڑ رہا ہے؟
نواز شریف، آصف زرداری، اور دوسرے سیاستدانوں کے بچے اس وقت کہاں ہیں؟
ہم عوام آپکو اپنا پیٹ کاٹ کر لڑنے کے لیے پیسہ دیتے ہیں بارڈرز پر لڑنا افواج کا کام ہوتا ہے
آج DGISPR نے میری ٹویٹ دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سکیورٹی تھریڈ ہے میری جو ٹویٹ سکرین پر دکھائی گئی اس میں عمران خان کو عہد کا بہادر انسان کہا گیا ہے اور اُس پر ظلم کرنے والے کو عہد کا یزید ! اس میں سکیورٹی تھریڈ کیا تھا ؟ میں آج پھر وہی بات دہراتا ہوں " لکھ مورخ پاکستان کی چھہتر سالہ تاریخ میں عمران خان جیسا دلیر لیڈر کسی ماں نے پیدا نہیں کیا اور آئین شکن قابض جو ملک اور قوم کے محسن کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں وہ عہد کے یزید ہیں
اڈیالہ نامہ!!!
جیسے عمران خان کو باہر نہیں آنے دینے کی پلاننگ ہے ویسے ہی صحافیوں/اینکرز سے عمران خان کی ملاقات نہ کرنے کی پلاننگ بھی ہے۔ آج کے اڈیالہ دورے کی تمام تفصیلات خصوصی ویلاگ میں۔
https://t.co/N5G5L6yD54
آپ کو عادل راجہ کے ساتھ ہزار اختلاف بھی ہوں، لیکن اس نے آئی ایس آئی نامی مافیا کو برطانوی عدالت میں جس طرح گھسیٹا ہے، وہ اس کی آخرت میں بخشش کیلئے کافی ہوگا۔
یہ بارش کا پہلا قطرہ تھا، مافیا اس سے قبل کبھی بیرون ملک عدالتوں میں ایکسپوز نہیں ہوا، نہ اس کے جرائم کا تذکرہ اس طرح سے کیا گیا۔
بے شک، تمام نشانیاں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قابض فوج اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے!!!
قوم یاد رکھے اگر آپ مایوس ہو گئے تو عمران خان ہار جائے گا آپ نے مایوس نہیں ہونا خان اللّٰہ کے بعد اپنے قوم کے بھروسے ہے آپ نے اس کا یقین اس کا بھروسہ نہیں ٹوٹنے دینا۔۔۔
Today, I went to visit former Prime Minister Imran Khan at Adiala Jail, as my name was included on the list of approved visitors issued by a committee under the direction of the Islamabad High Court. I faced no issues reaching the jail—no one stopped me at any police checkpoint along the way.
Upon arriving at Gate 5, I informed the staff that my name was on the official list. They acknowledged this and asked me to wait. I waited for several hours, but eventually I was informed that the meeting time had expired, and I would not be able to meet with Mr Imran Khan.
آج لاہور ہائی کورٹ لاہور سے عمران خان کی نو مئی مقدمات کی آٹھ درخواست ضمانت خارج کر دی گئی ہیں۔
یہ درخواست ضمانت پاکستان (برصغیر) کی عدالتی تاریخ کے منفرد درخواستیں ہیں۔
۱۔ یہ درخواست ضمانت 2023 میں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں دائر کی گئی تھیں جب عمران خان زمان پارک میں مقیم تھے۔
۲۔ عمران خان کو جھوٹے مقدمے میں سزایاب کر کہ جیل کروا دیئے جاتے ہیں اور عدم حاضری (جو عمران خان کے بس سے باہر تھی) کی بنا پہ یہ درخواستیں خارج کر دی جاتی ہیں۔
۳۔ اپیل میں درخواست ضمانت بحال کی جاتی ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالت کو دوبارہ میرٹ پہ سننے کا حکم دیا جاتا ہے۔
۴۔ جب عمران خان نکاح کیس میں بری ہوتے ہیں تو اچانک شام سات بجے یہ درخواست ضمانت خارج کر دی جاتی ہیں اور فورا گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔
۵۔ دنیا کی عدالتی تاریخ میں یہ واحد مقدمات ہیں جن میں واٹس ایپ کال پہ جسمانی ریمانڈ دیا جاتا ہے۔
۶۔ لاہور ہائی کورٹ میں چھ ماہ درخواست ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت کی جاتی ہے جو دنیا کی تاریخ کی انوکھی درخواست ضمانت ہیں جو اتنی طوالت سے سنی گئی اور آخر میں بغیر میرٹ کے خارج کر دی گئی۔
۷۔ ان مقدمات کے وقوعہ کے وقت نہ تو عمران خان جائے وقوعہ پہ تھے اور نہ ایسی کوئی براہ راست شہادت موجود ہے کہ انہوں نے اس میں حصہ لیا۔
۸۔ بوقت وقوعہ عمران خان نیب کی حراست میں نیب ہیڈکواٹر اسلام آباد اور پولیس لائن اسلام آباد میں موجود تھے۔
ہائی کورٹس جو کسی زمانے میں عام آدمی کے لئے ایک امید کا سہارا اور ابتظامیہ کے لئے خود کی علامت ہوا کرتی تھیں اب سی ڈی اے/ایل ڈی اے کے ایک کلرک سے بھی کم حیثیت کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔
ان ضمانتوں کو میاں محمود الرشید کی درخواست ضمانت کے ساتھ منسلک کر کہ مزید لٹکانے کی کوشش کی جا رہی تھی جو انہوں نے اپنی درخواست واپس لے کہ اس کوشش کو بھی ناکام بن��یا۔
مارشل لاء دور میں بھی عدلیہ نے ایک وقار برقرار رکھا ہوا تھا مگر اب تو جس طرح ججز خود آئین و قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ایسی مثالیں پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔
جج فیصلہ محفوظ کر کے اسی لئے نکل گیا تھا
اس ملک کا نظام انصاف یہ ہے کہ جو بندہ نو مئی کو خود پابند سلاسل تھا اسی پر مقدمے ہیں حالانکہ سپریم کے چیف جسٹس بندیال نے گرفتاری بھی غیر قانونی قرار دی تھی