Today With Worthy Vice Chairman Khyber Pakhtunkhwa Bar Council Mr. Zar BadShah Khan ASC And Chairman Executive KPBC Syed Mubashir Shah ASC At The Occasion Of Khyber Pakhtunkhwa Law Journal Committee Meeting.
Zul Qarnain Advocate,
Research Officer, Khyber Pakhtunkhwa Bar Council
کسی بشر میں
ہزار خامی
اگر جو دیکھو تو چپ ہی رہنا
کسی بشر کا جو راز پاو
یا عیب دیکھو
تو چپ ہی رہنا
اگر منادی کو لوگ آئیں
تمہیں کُریدیں
تمہیں منائیں
تمہاری ہستی کے گیت گائیں
تمہیں کہیں کہ
بشر میں دیکھی برائیوں کو بیان کر دو
تو چپ ہی رہنا
جواز
یہ ہے
دلیل
یہ ہے
ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
حرام ناطے کی قربتوں کو
ہماری ساری حماقتوں کو
ہماری ساری خباثتوں کو
وہ جانتا ہے
وہ دیکھتا ہے
مگر وہ چپ ہے
اگر وہ چپ ہے
تو میری مانو
وہ کہہ رہا ہے
کہ
چپ ہی رہنا
افتخار افی
مِرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
کمالِ خلّاق ذات اُس کی
جمالِ ہستی حیات اُس کی
بَشَر نہیں عَظَمَتِ بَشَر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
وہ شرَحِ اَحکامِ حَق تعالیٰ
وہ خود ہی قانُون خود حوالہ
وہ خود ہی قُرآن خُود ہی قاری
وہ آپ مہتاب آپ ہالہ
وہ عکس بھی اور آئینہ بھی
وہ نُقطہ بھی خَط بھی دائرہ بھی
وہ خود نظارہ ہے خود نَظَر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
شُعُور لایا کِتاب لایا
وہ حَشر تک کا نِصاب لایا
دیا بھی کامِل نِظام اُس نے
اور آپ ہی اِنقلاب لایا
وہ عِلم کی اور عَمَل کی حد بھی
اَزَل بھی اُس کا ہے اور اَبَد بھی
وہ ہر زمانے کا راہبر ہے
مِرا پیمبر عظِیم تر ہے
وہ آدم و نُوح سے زیادہ
بلند ہمَّت بلند اِرادہ
وہ زُہدِ عیسیٰ سے کوسوں آگے
جو سب کی مَنزِل وہ اُس کا جادَہ
ہر اِک پیمبر نِہاں ہے اُس میں
ہُجُومِ پیغمبراں ہے اس میں
وہ جِس طرَف ہے خدا اُدھر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
بَس ایک مَشکِیزہ اِک چٹائی
ذرا سے جَو ایک چارپائی
بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے
نہ خوش لِباسی نہ خوش قبائی
یہی ہے کُل کائنات جِس کی
گِنی نہ جائيں صِفات جِس کی
وہی تو سُلطانِ بَحر و بَر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
جو اَپنا دامن لہُو سے بھر لے
مصِیبتیں اپنی جان پر لے
جو تَیغ زَن سے لڑے نَہِتّا
جو غالِب آ کر بھی صُلح کر لے
اَسِیر دُشمن کی چاہ میں بھی
مُخالِفوں کی نِگاہ میں بھی
اَمیں ہے صادِق ہے مُعتَبَر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
جِسے شاہءِ شَش جِہات دیکھُوں
اُسے غرِیبوں کے ساتھ دیکھُوں
عنانِ کون و مکاں جو تھامے
کُدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھُوں
لگے جو مزدُور شاہ ایسا
نذر نہ دَھن سربراہ ایسا
فَلَک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے
وہ خَلوَتوں میں بھی صَف بہ صَف بھی
وہ اِس طرَف بھی وہ اُس طرَف بھی
محاذ و مِنبَر ٹِھکانے اُس کے
وہ سَربَسجدَہ بھی سَربَکَف بھی
کہِیں وہ موتی کہِیں سِتارہ
وہ جامِعیَّت کا اِستِعارہ
وہ صُبحِ تہذِیب کا گَجَر ہے
مِرا پیمبر ﷺ عظِیم تر ہے۔۔۔!
مظفرؔ وارثی
محسن نقوی کا نعتیہ کلام جسے بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے، اک بار آپ بھی ضرور پڑھیں ♥️
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں
گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
یہ پاؤں،یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!
یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے
محسن نقوی
Al Ham Du Lillah !
Honored to deliver 4 sessions on Police & Judicial File Preparation at the Police School of Investigation, Peshawar, during the Core Investigation Skills Course.
A privilege to engage with dedicated officers committed to strengthening investigation practices.
اتنا بڑا مذاق جان بوجھ کر کیا گیا
یا جعل سازی کی گئی؟
تصویر اور نام ملک نیک محمد کا ہے اور آواز فراز مغل کی ہے
اینکر بھی ملک صاحب کو ہی مخاطب کررہا ہے
اگر ملک صاحب نہیں بول سکتے اور فراز نے ہی بولنا ہے تو اس کی تصویر اور نام ہی لگا دیں