اس وقت انسان بہت ہی زیادہ دکھی ہو جاتا ہے
جب اس کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں اس کے خواب میں ائیں
اور انکھ کھلنے پر کوئی بھی موجود نہ ہو۔
اللہ ہر کسی کے والدین کا سایہ ایمان سلامتی کے ساتھ تا دیر قائم و دائم رکھیں
اور جو رخصت ہو چکے ہیں اللہ ان کی کامل مغفرت فرمائیں۔
پھر تمہارا مایوس ہونا تو بنتا ہی نہیں، جو رب چیونٹی کی سرگوشی کو بھی سُنتا ہے، تو تمہیں لگتا ہے وہ تمہارے آہ و پکار کو نظر انداز کر سکتا ہے؟ وہ سسکی جو زبان سے نکل کر کان تک بھی پہنچ نہیں پاتی، وہ بھی اللہ تک پہنچ جاتی ہے۔
کھانا کھاتے ہوئے زبان کا دانتوں تلے آجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان برسوں کہ تجربے کے ساتھ بھی غلطی کرسکتا ہے.
اور انسان کو تو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
سورۃ النساء 28
جوانی کا پودا۔۔۔۔۔بڑھاپے کی فصل
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جس نے اپنی جوانی میں اپنے رب تعالیٰ کی بہترین عبادت کی، اللہ تعالی اسے بڑھاپے میں حکمت و دانائی عطا فرماتا ہے۔
آپ کو کیا لگتا ہے اللہ آپ کی بے بسی سے واقف نہیں ہے؟ وہ سب جانتا ہے۔ یقین رکھو اور صبر کرو، یہ اذیت بھرے دن بھی گزر جائیں گے کیونکہ خوشخبری کی نوید تو بلا شبہ صبر کرنے والوں کو ہی سنائی گئی ہے۔
ایسا دروازہ بنیں جس سے خیر داخل ہو ۔۔۔۔۔ اور
اگر ایسا نہیں کر سکتے تو وہ کھڑکی بنیں جس سے روشنی گزر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور
اگر وہ بھی نا بن پائیں تو ایسی دیوار بن جائیں جو تھکے ماندے وجود کو سہارا دے۔
اگر زندگی میں ایسی تکلیفوں سے گزر رہے ہو جن کا کبھی گمان بھی نہ کیا تھا، تو اطمینان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی راحتیں بھی عطا فرمائے گا جن کا خیال بھی کبھی تمہارے دل میں نہ آیا ہوگا۔
تمہارا صبر تمہیں اُن مقامات تک پہنچا سکتا ہے جن کا تم گمان بھی نہیں کر سکتے، تو پھر یہ مت سوچو کہ کیا ہو گا، کب ہو گا، کیسے ہوگا، تمہیں بس اللہ پر یقین رکھنا ہے اور صبر کرنا ہے۔
ایک غلطی پر لوگ ہم سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ہمارے بے شمار گناہوں کے باوجود ہمارا رب ہم سے نہ مونہہ موڑتا ہے، نہ ہی رزق بند کرتا ہے، بلکہ وہ ہر بار ہمیں سنبھالنے کے لیے تیار رہتا ہے، ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم لوٹ آئیں، اور توبہ کریں۔ بے شک، وہی سب سے زیادہ معاف کرنے والا ہے
تم وہ دن ضرور دیکھو گے جب تم سے بے پناہ محبت کرنے والا رب تمہیں اپنی بے مثال محبت کے رنگ دکھائے گا اور تمہیں راضی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ یہ صبر جو تم نے کیا ہے، وہ تمہیں عظیم ترین درجات سے نواز دے گا، بس یقین رکھو اور اپنے رب پر بھروسہ کرو
کچھ بھی مانگنے سے پہلے خیر و فضل مانگو، کچھ بھی مانگنے کے ساتھ خیر و فضل مانگو، اور کچھ بھی مانگنے کے بعد بھی خیر اور فضل مانگو، کیونکہ ہر چیز میں خیر اور اللہ کا فضل ہونا سب سے اہم ہے۔ اگر خیر مل گئی، تو گویا سب کچھ مل گیا۔
جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو کہ اسے اپنے دین میں آنے والی مصیبتوں کی کوئی پروا نہیں،
نہ گناہ کرنا اسے بے چین کرتا ہے،
نہ نماز چھوٹنے کا غم ہوتا ہے، اور نہ عبادت کے اوقات ضائع ہونے پر اس کا دل تڑپتا ہے،
تو جان لو کہ اسکا دل ہی مر چکا ہے۔
سفارینی رحمہ الله
غذاء الألباب (2/334)
افسوس ہے اس بندے پر کہ جیسے جیسے اس کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں، اس کا استغفار کم ہوتا جاتا ہے، اور جوں جوں وہ قبر کے قریب پہنچتا ہے (عمر بڑھتی ہے)، اس کی سستی اور غفلت مزید پختہ ہوتی جاتی ہے۔
محدث ابن الجوزی رحمہ اللہ
[کتاب: التبصرة: (1/55)]
تہجد
اور کچھ راتیں وہ نیند سے خالی اس لیے رکھتا ہے، تاکہ اُس کا بندہ اُس سے باتیں کرے۔ جب کوئی اُس سے کچھ نہیں مانگ رہا ہوتا، تب اُس کا بندہ اُس سے مانگے۔ اور پھر جو کسی کو بھی نہیں ملا، وہ اُس بندے کو عطا کر دیا جاتا ہے۔