ایک طرف وہ مخصوص ٹولہ ہےجو اردو چینلز پر بیٹھ کر محض تنقیداور ٹھٹھےبازی میں مصروف ہے،جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑرہےہیں۔
اب سے کچھ دیر بعد،چیئرمین بلاول بھٹو کا خصوصی انٹرویو CNN پر نشرکیاجائےگاجہاں وہ دنیا کےسامنےملک کا موقف پیش کریں گے۔
I think there are many aspects that complicate any dispute resolution mechanism. Diplomacy is never easy, but it is really the only path forward - Chairman PPP @BBhuttoZardari in and interview with @trtworld
عالمی میڈیا، سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی فورمز پر بلاول بھٹو زرداری کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف پاکستان کا مؤقف پیش کر رہے ہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار بھی کر رہے ہیں۔
ساگا ڈجیٹل کیلئے میری تحریر
https://t.co/zjIbz9U8De
پیپلز پارٹی ذرائع سے بات ہوئی، میں نے پوچھا کہ اتنے اہم موقع پر زرداری صاحب ٹنڈو الہ یار جا کے کیوں بیٹھ گئے؟ تو جواب ملا کہ کسی نے دانستہ طور پر زرداری صاحب کو سائیڈ لائن کیا کیونکہ "کوئی" کامیابی کا کریڈٹ شیئر نہیں کرنا چاہا رہا تھا، اس اہم ذریعے نے کہا کہ آپ کو معلوم کہ قومی اور بین الاقوامی امور میں زرداری صاحب کا تجربہ ٹائم ٹسٹڈ ہے چاہے سی پیک ہو، گوادر ہو یا کچھ اور، ایک بہت اہم بات جو اس ذریعے نے بتائی وہ یہ کہ انہیں زرداری صاحب نے مذاکرات کا راستہ سیدھا کر کے دیا جب وہ چین کے سفارتخانے گئے، پھر ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا، پھر ڈار صاحب چین گئے یہاں تک زرداری صاحب آن بورڈ تھے لیکن اس کے بعد انہیں جان بوجھ کر سائیڈ لائن کیا گیا، یہ بھی بتایا کہ چین کے اندر بھی اس دورے کے دوران بہت سے الجھے معاملات صدر زرداری نے سلجھا کے دیئے
Violations of ceasefire have been reported at few places across the conflict zone which undermine the spirit of peace process. I earnestly and sincerely urge all parties to exercise restraint and respect the ceasefire for two weeks, as agreed upon, so that diplomacy can take a lead role towards peaceful settlement of the conflict.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
Received a warm and most cordial telephone call from my dear brother President Recep Tayyip Erdogan this evening.
Grateful to President Erdogan for his kind words of encouragement and support for Pakistan’s humble and sincere efforts for regional peace.
We shall continue to work tirelessly with our friends and partners, including Turkiye, in our common quest for securing lasting peace in the region.
@RTErdogan
Pakistan is proud to have led with wisdom, resolve, and a steadfast commitment to peace, and remains deeply appreciative of the leadership of Iran and the United States for stepping back from the brink and choosing dialogue over devastation. I commend the tireless efforts of the leadership in Tehran, Washington, and Islamabad in creating the space for de-escalation and diplomacy to prevail.
This ceasefire offers a critical opening for the region to breathe, recover, and turn away from the shadow of a wider war. May this not remain merely a pause in conflict, but become the beginning of a durable peace, one that unlocks stability, promotes cooperation, and advances shared prosperity for our region and the world.
محترمہ بینظیر بھٹو شہید صرف ایک سیاستدان نہیں تھیں،
وہ مشرقی اقدار، وفاداری اور حوصلے کی علامت تھیں۔
ایک ایسا نام جس نے پاکستان کی بیٹیوں کو یہ یقین دیا کہ قیادت صرف مردوں کی جاگیر نہیں۔
ان کے سیاسی مخالفین نے ان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی،
مگر کردار پر کیچڑ نہیں اچھالا۔
ایک رشتہ اور آخری سانس تک شوہر سے وفاداری۔
آج جو گندی زبان، جھوٹے الزامات اور کردار کشی کی سیاست عام ہو چکی ہے۔
یہ سیاست نہیں، یہ ذہنی پستی ہے۔
یہ سیاسی اختلاف نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
یہ سب دلیل کی کمزوری اور تربیت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
اختلاف کیجیے، نفرت نہیں۔
تنقید کیجیے، تذلیل نہیں۔
سیاست کو گٹر مت بنائیے۔
بینظیر شہید تھیں۔۔۔
اور شہداء پر کیچڑ اچھالنے والے ہمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا قوم کے نام پیغام۔
پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کو دشمن کے خلاف فتح مبارک ہو۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔۔۔
مرویسوں مرویسوں۔پر سندھ نہ ڈیسوں۔۔
ہوش محمد شیدی قمبرانی (پیدائش1801ء-وفات 1843ء)۔
سندھ میں تالپو ر حکمرانی کے دور میں بہادر سپہ سالار تھے ۔ہوش محمد شیدی"میانی"(موجودہ حیدرآباد سندھ)کی جنگ کے میدان "دبی" کے علاقے میں "اپنے وطن سندھ" کے دفاع میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوے ۔شہادت سے پہلے اپنے مختصر خطاب میں یہ نعرہ بلند کیا۔۔
مر ویسوں مرویسوں پر سندھ نہ ڈیسوں۔
یہ وہ آخری معرکہ تھا جس کے بعد سندھ انگریز کے ہاتھ مفتوح ہو گیا اور اسکو ممبی میں ضم کر دیا گیااسوقت سندھ کیماڑی سے اوکاڑہ تک وسیع تھا۔
یہ نعرہ ایک بہادر سپاہی کا اپنے وطن سے محبت اور اسکی حفاظت کے لیئے تھا اسی لیئے سندھ کے لوگ ہمیشہ وطن پرست ہوتے ہیں مشکل وقت میں ملک نہیں چھوڑتے چاہے جان کی بازی ہی لگ جائے ۔ان کے لیڈر چاروں صوبوں کی زنجیر بنتے ہیں ۔پاکستان کھپے انکا نعرہ ہوتا ہے
قیام پاکستان سے پہلے سندھ کے باشعور بزرگوں نے مسلمان اکثریت کی بنیاد پر اسے ممبئ سے الگ کر لیا سندھ اسمبلی نے قرارداد پاکستان کو سب سے پہلے لیجیٹمائز کیااور پاکستان جب بنا تو سندھ پاکستان میں شامل ہوگیا اور اوباڑو تک کا علاقہ سندھ کو دیا گیا۔
جاہل کی نشانی یہ بھی ہے کہ تاریخ پڑھتے نہں اور جہالت پر شرم بھی نہں آتی۔
یہ نعرہ بہادر اور وطن پرستوں کے دل اور زبان پر ہمیشہ زندہ رہے گا ۔چاہے جاہل جتنی بھی دھول اڑائیں۔
خاتون رپورٹر(سونیا): مرادعلی شاہ نےتو ڈلیور نہیں کیا، آپ نے کیوں تیسری بار انہیں نامزد کیا ہے۔۔؟
بلاول بھٹو زرداری: آپ کہاں رہتی ہیں۔؟
سونیا: میں چکوال میں رہتی ہوں۔
بلاول بھٹو: مراد علی شاہ نےشاید چکوال میں ٹکےکاکام نہیں کیا،مگر سندھ میں تو ڈلیورکیاہے، اس لئےہم جیتے ہیں۔
That’s the best of @MaryamNSharif
Building new Working Women’s hostel will be a great step to provide a secure & safe accommodation. These hostels should be build in all district headquarters of Punjab & in Sindh too.
@AseefaBZ@BakhtawarBZ think on it
مجھ جیسے کارکن کو ایک آئینی عہدہ دینا اور بڑی ذمہ داری دینا میرے اور میری کمیونٹی کیلئے باعث اعزاز ہے، میں اور میری کمیونٹی بہت خوش ہیں۔
تاریخ میں پہلی بار مسیحی رکن اور نو منتخب ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نوید انتھونی کی میڈیا سے گفتگو۔
The lady police officer was already wearing the dupatta on her head which slipped and @MaryamNSharif corrected it again.
So it was a gesture of kindness and care… not force.
PTI propaganda is again malicious and useless.