پختون جرگے کے خلاف خیبر پختونخوا پولیس کا صوبہ بھر میں انتہائی ظالمانہ کریک ڈاؤن، تشدد اور گھروں پر ظالمانہ چھاپے تاحال جاری ہے۔
بنوں میں گرفتار پشتونوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئ ہے۔
جنوبی وزیرستان: 20 سے زائد گرفتار جبکہ گھروں پر انتہائی گٹیا قسم کے چھاپے جاری ہے۔
سوات=4 مشران گرفتار اور مزید گھروں پر گٹیا قسم کے چھاپے۔
ڈی آئی خان سے عامزیب محسود کو 3MPO میں ہری پور جیل منتقل۔
کرک سے نواز خٹک کو پولیس نے اغوا کیا ہے۔
کرم سے سلمان طوری اور عمر چمکنی 3MPO میں قید۔
خیبر سے جہانگیرخان، پشاور سے اسرار، مردان سے صابر بلال اور بلال تخت بھائی، دیر سے سعداللہ اتمان، مطیع اللہ خان، مصطفی خان اور منصور کو پولیس نے اغوا کئے ہیں اور تاحال لاپتہ ہیں۔
صوابی سے عرفان مجنون، عثمان خان اور ہیواد یوسفزئی 3MPO میں قید کر دئے گئے ہے۔
شانگلہ سے فواد علی اور وسیم رضا کو پولیس دو دنوں سے اغوا کئے ہوے ہیں۔
مہنمد سے شاکر فکرمند بھی دو دنوں سے پولیس کے غیرقانونی قید میں ہے۔
چارسدہ سے ایمل خان کو پولیس نے قید کر کے بند کر دیا ہے۔
پختونوں کی طرف سے چاروں صوبائی حکومتوں، وفاقی حکومت اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کھلا خط۔
آپ سب کی خیریت چاہتے ہیں۔
۱۱ اکتوبر کو پشتون جرگہ منقعد ہونا ہے جسکا مقصد پشتون بیلٹ میں امن، وسائل اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے مشاورت کرنا ہے جسمیں پورے پشتون بیلٹ سے 30,000 سے زائد علاقائی مشران، قبائلی عمائدین، بااثر شخصیات و علماء، تمام قومی و علاقائی سماجی تنظیموں کے سربراہان، تمام سیاسی پارٹیوں کے مشران اور ضلع لیول تک عہدیدار، تمام پروفیشنز کے یونینز کے ہر ضلعے و تحصیل کے مشران، سٹوڈنٹ یونین کے صدور ، ویمن نمائندگی اور ادبی مشران موجود ہونگے اور مشترکہ طور پر عوامی مسائل اور امن کے لئے مشاورت کرینگے۔
شاید آپ لوگ پشتون روایات سے واقف نہیں ہونگے جرگہ پشتونوں کی ایک مثبت دستور ہے اور اس کی ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس کے انتظامات ہر کوئی کر سکتا ہے مگر یہ اختیار کے لحاظ سے سب کا مشترکہ ہوتا ہے اس پر کوئی ایک تنظیم، تحریک، فرد یا علاقہ دعوی نہیں کرسکتا ہے اور نہ کسی کا مخصوص ہوتا ہے، نہ اس میں نعرے ہوتے ہیں، نہ جنڈے ہوتے ہیں اور نہ کسی ایک تنظیم یا فرد کے ایجنڈے پر ہوتا بلکہ اس کے سب کچھ سب نمائندگی کے برابر اور شریک ہوتے ہیں اور اس کے فیصلے بھی سب کے مشترکہ اتفاق رائے پر ہوتے ہیں۔آپ لوگوں نے نوٹس بھی کیا ہوگا کہ ۱۱ اکتوبر جرگے کو بھی سب پختون بغیر کسی اختلاف کے مشترکہ سپورٹ دے رہے ہیں کیونکہ جرگہ تو اصولاً سب کا مشترک عمل ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ چند پراکسی و ڈالری جنگوں کے حمایتی جرنیلوں اور مسلح پراکسی تنظیموں کی خواہش ہے کہ کسی بھی صورت اس جرگے کو ناکام کرے تاکہ امن کی ایک بہت بڑی کوشش کو سبوتاژ کر کے ڈالری جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار کو برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے حتی کے اپنی کارندوں سے پی ٹی ایم لیڈرشپ پر لوو پروفائل سیٹ اپ میں جان لیوا حملوں کی کوششیں بھی کئے ہیں جس کے ہمارے ساتھ واضح ثبوت بھی موجود ہے۔جنگ نواز قوتیں جرگے ناکامی کے لئے ہر حد تک جائینگے کیونکہ اس جرگے کے کامیابی کہ بعد ہم مکمل گارنٹی کےساتھ کہتے ہیں کہ پختون وطن پر کسی پراکسی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں رہیگی۔
ہم ان قوتوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مزید پختونوں پر رحم کرے اور ظلم بند کی جائے۔
ہمیں پولیس اور سیاسی حکومتوں سے یہی ایک گلہ ہے کہ کم از کم آپ لوگ جرگے کو ناکام کرنے کے لئے سہولتکاری نہ کرے، باقی اُن قوتوں کو خود سامنے آنے دے وہ جو بھی طاقت استعمال کرنا چاہے کر لے حتی کہ پولیس و سیاسی حکومتیں اخلاقی سپورٹ بھی ان ظالموں کو دے مگر صرف فیزیکلی خود سامنے نہ آئے۔ وعدہ ہے کہ اُس اخلاقی سپورٹ پر ہم پختون عوام کبھی بھی آپ لوگوں سے گِلہ نہیں کرینگے اور نہ اسکا کبھی ذکر کرینگے۔
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ جرگے منتظمین کے خلاف جاری کاروائی پولیس وفاقی حکومت کے لیٹر پر کر رہی ہے یا کسی صوبائی حکومت کے لیٹر پر۔اور نہ پولیس سے کوئی غرض ہے اور نہ شاید ان میں سے کسی کو ایسے اعمال کرنے کا کوئی خواہش ہے۔ ہم ان سب کے مجبوریاں اور اختیارات جانتے ہیں مگر ہم سب پختون مل کر ان سب حکومتوں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ سے دِلی درخواست کرتے ہیں کہ صرف اس ایک موقع پر سہولتکاری سے انکار کرو باقی پوری عمر کم از کم پختون بیلٹ میں آپکے امن، آئینی آزادی اور باعزت زندگی کی ضمانت ہم سے لے لو۔
ہم آپ سب کو تفصیل سے واضح کر سکتے ہیں کہ یہ جرگہ ہم پختون عوام اور ہر امن چاہنے والے انسان کے فائدے میں ہے۔
یہ کوئی جلسہ یا جلوس بھی نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ عمل جرگہ ہے جہاں مسائل حل کرنے کے لئے 30,000 ہزار سے زائد پشتون وطن کے مشران مل کر اپنے مسائل کے حل کے لئے مشاورت کرینگے۔
اگر آپ لوگ فزیکلی ظالم کے صف میں کھڑے ہوکر ہمار مثبت روایات پر پابندی لگا کر ہمیں اپنے امن اور حقوق کے لئے ایک جرگہ کرنے کے لئے بھی نہیں چھوڑتے ہو اور طاقت سے جرگے کے عمل کو کچلنے کی کوشش کرتے ہو۔ تو پھر مستقبل میں پشتونوں بلخصوص پشتون نوجوانوں کے کسی بھی سخت موقف اور تم لوگوں کے ان انگنت مظالم پر پشتون نوجوانوں کی ردعمل کے زمہ دار تم لوگ خود ہونگے۔
فیصلہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے کہ پشتونوں کے ساتھ کیا کرنا ہے طاقت یا محبت؟؟؟
ظاہر سی بات ہے کہ پشتونوں کی طرف سے بھی مستقبل میں وہی جواب دیا جائیگا جو آج تم لوگ ان کو دینگے۔
امید کرتے ہیں کہ آپ سب مثبت اور انسانی راستے کا چناو کرینگے اور حتی کہ جنگ نواز قوتوں کو بھی منت کرینگے کہ وہ پشتونوں پر مزید رحم کرے اور امن و حقوق حاصل کرنے میں انکے سامنے روکاوٹ نہ بنائے۔
پنجاب کے سارے نہیں مگر اکثریت سیاسی پارٹیوں کے ورکر پشتون جرگے کی مخالفت کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ جرگہ امن کے لئے ہے۔کیا متحد ہوکر اپنے امن کے لئے ایک جرگہ بھی ہمارا حق نہیں ہے۔؟
وسلم۔
منجانب۔
دنیا کی ایک مظلوم و محکوم قوم پختون
A resident of #Bannu narrates how he and his family injured in today’s state terrorism. He was passing by with his family and confronted with heavy firings and blasts. Bannu is famous for vibrant happiness.. but why the state would leave a spot of happiness in Pakhtunkhwa?
The attack on Gilaman Wazir in Islamabad is a very sad incident. He is in a critical condition in PIMS hospital and my prayers are with him for his early recovery
#gilamanwazir#Islamabad
زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا گیلامن کو بچانے کیلئے کوشش کرنے کی بجائے اس کیخلاف مہم شروع کردی گئی
اسے افغانستان اور بھارت دوست ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
افسوس صد افسوس
اس کی زندگی بچا لیں پھر جو مقدمہ کرنا ہے کرلینا
Why Pakistan's national media is silent on the issue of #GilamanWazir? And why most of the time it gets switched off when it comes to the issues of marginalised areas, Baluch and Pakhtuns? Pak Electronic media policy makers are scam. That's it.
اونٹ کے پاؤں پر پورے پاکستان نے شور مچایا۔ سہی بات ہے
مگر یہ آج باجوڑ دھماکے میں پشتونوں کے جسموں کے ٹکڑے ہے اور اس پر سب خاموش ہے۔
پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے اور دنیا خاموش ہے۔
7جولائی ہر ضلعے میں اور دنیا کے بیشتر ممالک ہیں ہم احتجاج کرینگے۔
سب سے شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔
اونٹ کے پاؤں پر پورے پاکستان نے شور مچایا۔ سہی بات ہے
مگر یہ آج باجوڑ دھماکے میں پشتونوں کے جسموں کے ٹکڑے ہے اور اس پر سب خاموش ہے۔
پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے اور دنیا خاموش ہے۔
7جولائی ہر ضلعے میں اور دنیا کے بیشتر ممالک ہیں ہم احتجاج کرینگے۔
منظور پشتین
@ManzoorPashteen
آپریشنز وہ ہوتے ہیں جن سے نتائج حاصل کۓ جاسکیں، ہم نے پختونخوا کو دہشتگردی و دہشتگرد جیسے گند سے صاف کردِیا تھا، ہزاروں پشتونوں اور فوجی جوانوں نے شہادتیں دی، رد الفساد اور دیگر نام نہاد آپریشنز سے صرف عالمی امداد اکٹھا کی گئ جسکا آجتک کوئ حساب کتاب نہیں۔
سابق سینیٹر ہدایت اللہ کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ فوج کی اپریشن کے لیے جواز بنانے کی پالیسی ہے
دہشت گرد کو مذاکرات کے نام پر لا کر پشتون وطن میں بسایا گیا پھر مذاکرات کی پالیسی تبدیل ہو گئی پشتون وطن میں بدامنی شروع ہوئی
اب اپریشن کے نام پر دنیا سے ڈالر چھاپتے رہیں گے
اَب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بتایا جاۓ کہ سرحد پر سخت پہرے کے باوجود بھی کیسے دہشتگرد نقل و حرکت کرتے ہیں؟ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ ہم سرحد پار کاروائ کریں گے، میں کہتا ہوں پہلے اَندر کے دہشتگردوں سے اور اُنکے سہولتکاروں سے نمٹا جاۓ، سرحد پار کاروائ پر پہلے بھی ہم نتائج بھگت چُکے ہیں۔
باجوڑ میں جگہ جگہ پر فوجی چیل پوسٹس کی موجودگی میں کیسے دہشتگرد نقل و حرکت کرتے ہیں؟ کیا ہماری انٹیلیجنس اطلاعات کمزور ہوگئ ہیں یا پھر جان بوجھ کر پشتونوں کو ایک بار پھر آگ کیطرف دھکیلا جا رہا ہے؟
ہم اِس کھیل کو کسی طرح بھی بڑھنے نہیں دیں گے۔
کبھی پنجاب میں ایسا ھوا جیسا کہ پارا چنار میں شناختی کارڈ گھر بھول آنے پر فوجیوں نے بچوں کے سامنے باپ پر تشدد کیا ھو؟
یہ لوگ اپنی سرزمین پر دسویں صدی کے غلاموں کی طرح رہ رہے ہیں
موږ پښتانه به همیشه د همدغو بدبختو لپارہ جاںبحق په نامه یادیږو، موږ به په دې خاوره کې د سولې لپاره قرباني ھم ورکوو او هم به د دوی له خوا د راجوړ شوي ترهګرو پر وړاندې مبارزه کوو او بیا به ھم د جان بخق په نامه یادیږو۔
YOU HAVE THROWN US TO THE WOLVES
This is not a camel's foot, but one of humans. Former Senator Hidayatullah & his entourage were murdered in a bomb blast in Bajur today. Terrorism and extremism have ravaged the livelihoods and prospects of the residents of KP*, and all military operations appear to be failure.