بھئی واہ۔ فیاض الحسن چوہان فرما رہے ہیں کہ@siasatpk بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیاں چلا رہی ہیں۔
اینکر نے پوچھا کہ آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟
تو جناب فرماتے ہیں کہ، "ثبوت کو چھوڑو یار۔ ثبوت کیا ہوتا ہے؟"
کیا حشر کر دیا ہے عمران خان نے ان سب کا۔
20 سال قبل لاہور ریلوے اسٹیشن سے ایک 8 سالہ بچی روتی ہوئی ملی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ بیچاری گونگی بہری تھی ۔
اس وقت مختلف تھانوں میں اس بچی کے لیئے سرچ آپریشن کیا گیا کہ شاید کوئی ایف آئی آر رجسٹرڈ ہوئی ہو ۔
کوئی بھی کامیابی نہ مل سکی بچی کی اچھی پرورش ہوتی گئی اس کو کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی اب وہ بچی 28 سال کی ہوچکی ہے
پڑھ لکھ بھی گئی ہے جو کہ آپ کو تصویر میں نظر آرہی ہے جس ادارے میں یہ موجود تھی وہ بھی اس بچی کے والدین کو ڈھونڈ رہے ہیں
کیونکہ اب یہ ان کو یاد کرتی ہے وہ کہتے ہیں ناں کہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اگر والد کا جنازہ بھی سامنے کیوں نہ ہو وہ ہنستا ہے لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے تو چھپ چھپ کر روتا ہے ۔
یہی اس بچی کا حال ہے اس بچی کی اس سال کی تصاویر اور اب کی تصویر آپ کے سامنے ہے اگر کوئی اس بچی کو جانتا ہے
یا کوئی ایسی فیمیلی جو لاہور آئی ہو جون 2005 میں جس کی بیٹی لاپتہ ہوگئی ہو
اور بچی سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو پلیز رابطہ کریں ۔
اس بچی کو والدین سے ملانے کی کوشش میں ساتھ دیں اور دعا بھی کریں کہ اس کی مشکل آسان ہو
😓😓😥😶
My Playing XI For Wednesday Match
1.Babar Azam
2.Sahbzad Frahan
3.Saim Ayub
4.Salman Ali
5.Usman Khan
6.Khwaja Nafey
7.Nawaz/shadab
8.Naseem Shah
9.Salman Mirza
10.Ibrar Ahmed
11.Usman Tariq
ٹرینڈ الرٹ 🚨
فضول بیٹھے سے بہتر ہے سب یہ ٹرینڈ #ملک_گیر_احتجاج_کی_کال_دو جوائن کریں اور لیڈرشپ پر ملک گیر احتجاج کے لئے پریشر ڈالیں
اس وقت سب سے ضروری اور سب سے اہم خان صاحب کی صحت اور زندگی ہے
حکومتِ پاکستان کے "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کا پالیسی بیان:
پاکستان تحریک انصاف، حکومتِ پاکستان کے "بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔ پی ٹی آئی اس امر پر زور دیتی ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل فیصلے ہمیشہ مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور ہم موجودہ پارلیمان کو جائز تصور نہیں کرتے کیونکہ 2024 کے انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کے ذریعے پاکستان اور اس کے عوام پر ایک جعلی حکومت مسلط کی گئی ہے۔ وہ جماعت جسے اقتدار میں لایا گیا ہے درحقیقت صرف 17 نشستیں جیت سکی تھی۔ اس کے باوجود، اگر اس پارلیمان کو جس کے بل بوتے پہ حکومت کی بنیاد کھڑی کی گئی ہے، کو کم از کم ایسے اہم فیصلے کرنے سے قبل دستیاب پارلیمانی فورمز پر کھلے مباحثے کے ذریعے اسے زیرِ غور لانا چاہئے تھا۔
کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام میں پاکستان کی شرکت کو اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کی تکمیل اور تقویت کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے متوازی ڈھانچوں کی تشکیل کا جو عالمی نظام کو کمزور یا پیچیدہ بنائیں۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں، پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی خودمختاری کے تحفظ، آئینی اقدار کی پاسداری اور وسیع قومی و عوامی اتفاقِ رائے کی عکاسی پر مبنی ہونی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے، اور ہر پاکستانی شہری بطور انسان، فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گا۔ ہم ان مظالم اور جبر پر شدید رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہیں جن کا فلسطینی عوام مسلسل سامنا کر رہے ہیں، اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ فلسطینی عوام آزادی حاصل کریں اور اپنے جائز حقوق حاصل کر سکیں۔ پاکستان تحریک انصاف فلسطینی عوام کے خلاف جاری ظلم کے خاتمے کے لیے ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی حمایت کرتی ہے، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہو۔ یہ اصولی مؤقف، جو سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے مسلسل پیش کیا جو کہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ "بورڈ آف پیس" میں کسی بھی باضابطہ شرکت کو اس وقت تک واپس لے جب تک ایک مکمل مشاورتی عمل نہ کیا جائے۔ اس عمل میں درج ذیل امور شامل ہونا چاہئیں:
1- پارلیمانی نظام کے تحت مکمل جانچ پڑتال اور بحث و مباحثہ۔
2- تمام بڑی سیاسی قیادت سے جامع مشاورت، بالخصوص سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے۔
3- اس معاملے پر عوامی اعتماد کے لیے ایک "ریفرنڈم" کے ذریعے قوم سے رائے لینا۔
پاکستان تحریک انصاف اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، اصول پسند اور امن دوست ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، جس کی عالمی سطح پر مصروفیات وقار اور قانونی حیثیت کی حامل ہوں، اقوامِ متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہوں اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر استوار ہوں۔
جاری کردہ
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف