پاکستان کی افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں۔ دہشت گردی کا اصل شکار پاکستان کے عوام ہیں، سکیورٹی فورسز نے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مسلسل کارروائیاں کی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے وہ بیانات جن میں خیبرپختونخوا میں ہونے والی تمام ہلاکتوں کی ذمہ داری ریاستی اداروں یا سکیورٹی فورسز پر عائد کی جاتی ہے، بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
Residents of Khyber Pakhtunkhwa say that Pakistan's military regime has killed 200,000 Pashtuns. Calling the perpetrators "unknown" is naive, because they are not unknown—they are known, and they are the Government of Pakistan.
We know who you are. You have become the killers of the Pashtun people.
If the murderer of a victim is never identified, then the government itself bears responsibility for that killing.
خیبرپختونخوا کئی برسوں سے دہشت گرد اور شرپسند عناصر کی کارروائیوں کا نشانہ رہا ہے۔ ان عناصر نے خودکش حملوں، دیسی ساختہ بموں (IEDs)، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہریوں، قبائلی عمائدین، علما، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہید کیا ہے۔
پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات اور دہشت گردی کے واقعات سے حاصل ہونے والے شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کے بعض علاقوں میں سرگرم دہشت گرد عناصر دیسی ساختہ بم (IEDs) اور دیگر دھماکہ خیز مواد کی تیاری، ذخی��ہ اندوزی اور ترسیل میں ملوث ہیں۔
🚨 Paktika, Afghanistan:
Another piece of evidence - the presence of facilities used by Fitna al-Khawarij in Afghanistan to manufacture explosive materials.
The video shows Fitna al-Khawarij terrorists inside a hideout in Paktika assembling improvised explosive devices (IEDs) and other explosive materials.
These IEDs and explosives are later used in attacks targeting Pakistani security forces and civilians.
ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے ذریعے سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ہے۔ایسے دہشت گرد عناصر کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ کہ بعض افراد کو کسی مخصوص شخصیت کی خواہش پر غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا ہے، بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔پاکستان میں تمام سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
کسی بھی شخص کی حراست یا اس سے متعلق قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور عدالتی نگرانی کے تحت ہوتی ہے۔قومی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات نہ صرف عوام کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ قومی یکجہتی اور ریاستی مفادات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد آخری دہشتگرد کے خات��ے تک جاری رکھے گا، اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف ہر ممکن قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
دہشتگرد عناصر ہمیشہ خوف، عدم استحکام اور بے یقینی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ بزدلانہ حملہ دہشتگرد عناصر کی ناکامی اور مایوسی کا مظہر ہے، جو امن، استحکام اور قانون کی عملداری کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
پاکستان کی سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پوری قوم دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے یکجہتی کے ساتھ پرعزم ہیں۔ شہداء کی عظیم قربانیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف ایک ہدفی کارروائی کی.آپریشن کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کی صلاحیت کو ختم کرنا، ان کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچانا اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز
میں سدباب کرنا تھا۔آپریشن کے دوران صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ پاکستان کی پالیسی ہے اور نہ ہی آپریشن کا مقصد۔یہ آپریشن پاکستان میں دہشت گردی کے مسلسل خطرات اور حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں کیا گیا،
حالانکہ ان کا طرزِ عمل ہر اخلاقی اور انسانی اصول کے منافی ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پوری پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دہشت گرد براہِ راست مقابلے سے گریز کرتے ہوئے بزدلانہ حربے اختیار کرتے ہیں۔
دہشت گرد عناصر کی بزدلانہ کارروائیاں، جن میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا اور آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شامل ہے، ان کے مذموم عزائم اور انسانیت دشمن سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایسے عناصر اپنے جرائم کو مذہبی رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں،
فوجی قیادت، بشمول چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے مؤقف کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ملک کے دفاع، عوام کے تحفظ اور خطے ��یں امن و استحکام کے لیے ��اری رہیں گی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔ ان کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کا خاتمہ اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا پاکستان کی پالیسی نہیں۔
گزشتہ رات عاصم خنزیر کے حکم پر افغانستان کے سرحدی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں فضائی حملوں میں کم از کم 38 بے گناہ شہری جاں بحق اور 163 زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
تین رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ پکتیا میں عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی حملے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے جمع ہونے والے اف��اد کو بھی دوسرے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
کیا نتنیاھو اور عاصم منیر میں کوئی فرق دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسرائیلی آرمی بالکل اسی طرح جمع ہونیوالوں بے گناہ لوگوں پر بمباری نہیں کرتی؟
پاکستانی عوام کب تک سوئی رہے گی؟
دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے آپریشن ناگزیر ہیں، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو ضروری قرار دیتا ہے۔
سیکورٹی فورسز کی سرحدی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں صرف دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔آپریشن کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کی صلاحیت کو ختم کرنا اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا سدباب کرنا ہے۔
شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ پاکستان کی پالیسی ہے اور نہ ہی ایسی کارروائیوں کا مقصد، جبکہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ممکنہ حد تک شہریوں کے تحفظ کو مدنظر رکھنے کا مؤقف رکھتی ہیں۔آپریشن دہشت گردی کے مسلسل خطرات اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کیا ۔