ایمان مزاری نےجج کوگالیاں
فوج کولعنتیں اوردھمکیاں دیں قانون تواسکےلئےبناہی نہیں
یہ گالم گلوچ مافیامستقبل کےپاکستان پر راج کرےگاجو موجودہ آرمی چیف کےخلاف کھلم کھلابدزبانی کررہاہے حکومت تماشائی بنی ہوئی ہےچنددرجن صحافی وکیل اورلونڈےلپاڑوں نےملک کوسوشل میڈیاکےزریعےیرغمال بنایاہواہے
اللہ کے بعد عمران خان کو اب صرف عمران خان شکست دے سکتا ہے،
کوئ نئی تحریک انصاف کامیاب نہیں ہو سکتی، ہاں فارم 47 مل سکتے ہیں
اگر عمران خان کی مقبولیت کم کرنی ہے تو واحد راستہ یہ ہے کہ عمران خان کو جمہوری طریقے سے اقتدار دو، اور اُمید کرو کہ وہ کارکردگی نا دکھا سکے اور عوام اُسے رد کر دے، ورنہ اسوقت عمران خان کی زبان سے نکلا ہوا لفظ سیاست کے عروج اور زوال کا فیصلہ کرتا ہے
یاد رہے کہ عمران خان اپنے دور کے آخر میں تقریباً تمام ضمنی الیکشن ہار گیا تھا، باوجود حکومت میں ہونے کے،
عمران خان انگلینڈ کے دورے پر گئے، صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔
جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے عمران خان نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا:
"کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہ طریقہ ہے؟"
انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا:
"یہاں میڈیا آزاد ہے۔"
عمران خان نے جواب دیا:
"ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔"
ملاقات ختم کر دی گئی۔
وہاں سے پاکستان اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے پاکستان میں موجود کاروبار فوراً "بند کر دیے جائیں اور اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر پاکستان سے بدر کر دیا جائے"۔
حکم پر فوری عمل ہوا۔
جب عمران خان پاکستان پہنچا تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔
غیرت مند حکمران ایسے ہوتے ہیں ۔
Long Live IK منقول
سہیل آفریدی ایک سے ایک باؤنسر پھینک رہا🚨
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے توہینِ عدالت کیس دائر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط ارسال کردیا ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے وزیراعلیٰ کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا حکم دیا تھا، تاہم جیل انتظامیہ نے ملاقات کی اجازت نہیں دی !!
اسکے علاوہ عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی کے حصول کے لیے درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے، جو تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ خط میں استدعا کی گئی ہے کہ قانون کی پاسداری اور کیس کو آگے بڑھانے کے لیے حکم نامے کی تصدیق شدہ کاپی فوری طور پر فراہم کی جائے !!