مطابق فلسطینی قیدیوں کی حالت عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے اور اگر مسلم دنیا اور عالمی برادری نے مؤثر انداز میں یکجہتی کا اظہار کیا تو یہ ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
#BreakingNews#Palestine#Prisoners#HumanRights#MiddleEast
فلسطینی قیدیوں کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی اپیل کی ��ا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے لیے چھانسیاء دینے کا قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کم از کم عوام کو بولنا اور احتجاج کرنا چاہیے تاکہ ان مظلوم قیدیوں کی حالت بہتر ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے
🔐 Update on the Upcoming Verification Process
We know many of you are looking forward to verification - and we’re stepping closer to that moment.
This process is designed to be structured, transparent, and fair, ensuring every qualified Human Node moves forward with clarity. Here’s how the flow will work:
Phase 1: Matching
You begin by tapping “Match Curator.”
An anonymous list will appear, and you can choose a curator to match with.
After selecting, you enter the matching state and wait to be successfully picked. Once picked, your application advances to the submission stage.
Phase 2: Submission
When it’s your turn, a strict 24-hour countdown will start.
You must complete and submit your documents within this time. Missing the deadline may move you to a later pool, delaying your progress.
There are 3 submission levels. After completing all required steps, you press Submit, and your status changes to In Review.
Phase 3: Verification Process
This is the last stage - your application will be reviewed carefully.
This process is more than a technical update - it’s a defining milestone before full verification rollout.
Prepare early. Understand each phase.
Be ready when your turn comes!
#InterLink #ITLG #ITL
Newly released Epstein-related documents mention Imran Khan only as a "London Society Lion"-a descriptive term used by a UN-linked official to highlight his social standing at the time.
No allegations. No charges. No connection to Epstein's crimes.
#EpsteinFiles
یہ پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہے، جس میں ڈیجیٹل بارکوڈ بھی موجود ہے، چپ بھی لگی ہوئی ہے، نادرا کا مکمل ڈیٹا بیس اس کے پیچھے موجود ہے، آن لائن تصدیق کی سہولت بھی ہے، لیکن اس کے باوجود قوم کے ساتھ ہونے والا مذاق دیکھیے کہ ہر سرکاری دفتر میں آج بھی اس کی فوٹو کاپی مانگی جاتی ہے۔ نہ صرف فوٹو کاپی مانگی جاتی ہے بلکہ اس ف��ٹو کاپی کو 17 گریڈ کے افسر سے تصدیق کروانا بھی لازمی سمجھا جاتا ہے، گویا اصل کارڈ، ڈیجیٹل نظام اور ریاستی ڈیٹا پر کسی کو اعتماد ہی نہیں۔
ہم ڈیجیٹل پاکستان کے نعرے تو لگا لیتے ہیں لیکن عملی طور پر آج بھی فائل، مہر، دستخط اور فوٹو کاپی کے غلام ہیں۔
اس سارے عمل میں عام شہری کا وقت، پیسہ اور عزت تینوں ضائع ہوتے ہیں۔ ایک طرف ریاست جدید شناختی نظام پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور دوسری طرف اسی نظام کو استعمال کرنے سے انکار کر کے شہری کو لائنوں، تصدیقوں اور بے مقصد رسمی کارروائیوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔
شہزاد اکبر کا ڈی جی کو پیغام 🛑
ٹرمپ نے بہت خطرناک بیان دیا ہے!!
اس بیان پر فوری وضاحت جاری کرے, اور اظہارِ لاتعلقی اختیار کرے!!
کیوں کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اسرائیل کی حفاظت کی جائے!!
ورنہ پھر لوگ یہی سمجھیں گے!!