Son of #Missing M Ramzan Baloch. Walked more than 2500 km in Long March from Quetta to Karachi to Islamabad for safe release of all #BalochMissingPersons
میرے ابو رمضان بلوچ کو میرے سامنے 25 جولائی 2010 کو اوتھل زیرو پوائنٹ سے فورسز نے اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیا
ابو کی بازیابی کیلئے اپنی بڑی بہن کے ساتھ کوئٹہ - اسلام آباد لانگ مارچ کا حصہ رہے
ابو کی جبری گمشدگی سے ہماری فیملی پچھلے بارہ سالوں سے شدید زہنی ٹارچر سے گزر رہے ہیں
Correction: Wahid Bakhsh was abducted last night, as per latest reports. His family and area people came out this morning and blocked the highway linking Turbat to Quetta in protest. The FC tried to force them to end their protest.
Islamabad police not allowing the Baloch long march protestors to set up the stage for a seminar they had announced they would organise at the National Press Club tomorrow (Sunday), protest leader Sebghat Abdul Haq Baloch said. "The police haven't given us any reason and keep giving false promises about granting permission."
Using ballistic missiles and suicide drones, Iran's IRGC targeted a house in #Balochistan, resulting in the complete destruction of the residence and the tragic loss of two infant lives.
آج اسلام آباد پولیس نے میرے کمسن بہن انیسہ بلوچ کو بھی دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ گرفتار کرلیا جو والد کی بازیابی کیلئے لانگ مارچ کا حصہ تھیں
چھوٹی انیسہ انصاف مانگنے اسلام آباد گئی تھی، ظالم پولیس نے تشدد کے بعد ہماری چھوٹی بہن کو گرفتار کر لیا ہے
#StopBalochGenocide
اسلام آباد : میری والدہ گھریلو خاتون تھی گھر کی چار دیواری کے باہر کیا ہورہا ہے اس بات سے بے خبر اپنی چھوٹی سی دنیا میں اپنی شریک حیات اور ہم بچوں کے ساتھ بہت خوش تھی
ایک دن مسلح نقاب پوش گن پوائینٹ پر اماں کے وجود کا آدھا حصہ (ڈالٹر دین محمد بلوچ ) کو اپنے ساتھ لے کر گئے
پندرہ سال گزر گئے والدہ کی آنکھوں کے آنسو سوکھ گئے چہرے پر ماتمی لکیروں نے جگہ بنائی بالوں میں چاندی سی چھا گئی
مگر امید کا دامن پھر بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا :
بابا کے بارے میں قصے والدہ سے سنتے ہیں اور وہ ایسے narration دیتی ہے جیسے ہمارے بابا کسی ناول کا کردار ہو
ہم سے پہلے اس ریاست کو میری اماں کے ساتھ پندرہ سالوں کا انکی زندگی کے ان خوبصورت ایام کا حساب دینے ہونگے جو بابا کے بغیر بلیک اینڈ وائیڈ نظر اتے ہیں
میری اماں کسی ناول کا کردار نہیں ہے نہ میرے بابا وہ جیتے جاگتے زندہ دلی سے زندگی کررہے تھے انھیں کہانی اور قصہ بنانے والوں سے حساب ضرور مانگیں گے
#MarchAgainstBalochGenocide
This is Ali Haider Baloch when he was 10 yrs old in 2014. He walked on foot almost 2500 km from Quetta to Isb to seek justice for his father Muhammad Ramzan abducted by ISI in 2009. I asked him what he wanted to become and his answer surprised me.
Ali’s father is still missing.
اس عمر میں بچیاں گھر میں پھول کی طرح سجائے جاتے ہیں، پاپا کی پری کہلاتی ہیں
صبح اٹھ کر سکول جاتی ہیں
میری چھوٹی سی بہن ان تمام خوشیوں اور والد کی شفقت سے محروم ہیں
ہم کو اس ریاست سے اور کچھ نہیں چاہیئے، ہمارے پاپا ہماری زندگی ہمیں لوٹا دیں
Anisa hasn’t seen her father Mohammad Ramzan because he disappeared before she was born. Now she is 13, she marched from Turbat to Islamabad, advocating for her father’s release.
Mohammad Ramzan was forcibly disappeared by state forces in July 2010.
Anisa hasn’t seen her father Mohammad Ramzan because he disappeared before she was born. Now she is 13, she marched from Turbat to Islamabad, advocating for her father’s release.
Mohammad Ramzan was forcibly disappeared by state forces in July 2010.
وزیر اعظیم کے مطابق اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کو دو ڈنڈے کیا پڑے تو دو ڈنڈوں سے سب کو تکلیف ہوئی کہ بلوچستان کا وزیر اعظم ہے اور لواحقین پر تشدد کیا گیا اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہئے تھی
وزیر اعظیم صاحب ! دو نہیں آپ ہمیں دس ڈنڈے ماریں ہماری زبان ہمارے حلق سے کھینچ لیں ہماری آنکھیں نکال لیں آپکا ہر ظلم سہہ لیں گے مگر تب بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہونگے
#EndEnforcedDisappearances
#MarchAgainstBalochGenocide
علی حیدر نے اپنے والد کے بازیابی کےلئیے اپنا سارا بچپن روڑوں پہ گزارا ہے، اسی طرح انیسا بھی اپنی ابو کی بازیابی کے لیے گھر سے بہت دور اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوکر اپنے والد رمضان کے بازیابی کےلیے جدوجہد کررہی ہے۔خدارا اسکی بچپن کی خوشیاں ان سے مت چھینے،رمضان بلوچ کوبازیاب کریں۔
وزیر اعظیم پاکستان انوار الحق یہاں کہنا کیا چاہتے ہیں ہمیں کوئی تشریح کرکے بتا سکتا ہے ؟
جبری گمشدگیوں کے شکار جتنے بھی لوگ جبری لاپتہ کیے گئے ہیں ہیں انکا یا تعلق سیاسی تنظیموں سے رہا ہے یا طلبا تنظیموں سے یا عام غریب لوگ جنکو بلوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ہے
وزیر اعظیم جتنی چرپ زبانی کرئے جتنا logical بننے کی کوشش کرئے تب بھی جبری گمشدگیوں کو justified نہیں کرسکتے
اور اب تو حد یہ ہے ہم لواحقین کے ساتھ یکجہتی کرنے والوں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں
#EndEnforcedDisappearances
#MarchAgainstBalochGenocide
یہ ہیں انیسہ بلوچ ، ان سے اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ پر ملاقات ہوئی ، @SammiBaluch نے یاددہانی کرائی کہ یہ علی حیدر بلوچ کی بہن ہے ، 2013 میں جب ماما قدیر نے مارچ کیا تھا تو حیدر بھی ان کے ساتھ تھا اس وقت اس کی عمر اتنی ہی تھی ان کے والد رمضان لاپتہ ہیں بعد میں کچھ عرصے کے لیے حیدر کی جبری گمشدگی عمل میں آئی تھی اب احتجاج کے ذمہ داری انیسہ کے پاس ہیں ، @MahrangBaloch_ اور سمی کے نقش قدم پر ہڑپنا بھی ہے اور لڑنا بھی ہے
Years of longing - 10 years ago @AliHaiderVBMP son of Ramzan Baloch walked a long march from Quetta to Karachi and Karachi to Islamabad for the safe recovery of his father who was abducted in front of him on July 25, 2010. After 10 years Aeesa daughter of Ramzan walking the same march for her father father’s safe recovery from Turbat to Islamabad.
#StopBalochGenocide #MarchAgainstBalochGenocide
If the painful words, tears, & profound pain expressed by this mother fail to stir your humanity, then maybe u r on d side of d oppressor. D state has no idea how much hatred it has created in the hearts of these mothers. These mothers need your voice
#MarchAgainstBalochGenocide