گرافکس انتباہ!
گزشتہ روز پاکستانی فوج نے سوراب کے علاقہ گدر میں گوْندان گاؤں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کیا۔ اس بمباری میں پاکستانی فوج نے معصوم بچوں اور خواتین سمیت دو درجن سے زائد بلوچوں کا قتل عام کرکے تخلیق پاکستان کے جشن کا آغاز کردیا۔
اس کُھلی ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف اپنے اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے فوجی ترجمان نے حسب روایت ایک جھوٹی کہانی گڑھ لی اور اپنے اس جھوٹ کو پھیلانے کیلئے میڈیا کے منہ میں دے دیا۔ دیگر ریاستی ستونوں کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں شریک بکاؤ میڈیا نے فوراً کمر کس کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس گڑھی ہوئی جھوٹی کہانی کو پھیلانے لگی۔ نہ کسی میڈیا نمائندے نے بمباری کے شکار گاؤں گا دورہ کیا، نہ شہداء کے لواحقین کا موقف معلوم کیا، نہ علاقے کے باشندوں، سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وقوعہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کسی نے کوشش کی، حالانکہ گدر کا علاقہ کوئٹہ سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر چین- پاکستان اقتصادی کوریڈور پر واقع ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اور اس کا غلام میڈیا یہ بھول گئے کہ اب سوشل میڈ جیسے غیر روایتی ذرائع ابلاغ نے واقعات اور خبروں کی رپورٹنگ کیلئے روایتی میڈیا پر انحصار ختم کردیا ہے۔ اب قابض پاکستانی ریاست اور اس کے ستون جتنا بھی چاہیں بلوچستان میں اپنے نوآبادیاتی حکمرانی، اقتصادی لوٹ کھسوٹ، اور بلوچ نسل کش پالیسیوں اور کاروائیوں کو نہیں چھپا سکتے۔ قابض پاکستانی ریاست نہ تو اب بلوچ تحریک آزادی، بلوچوں کی جذبہ حریت، اور قربانیوں کو چھپانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ ڈالنے پر قادر ہے۔
سوراب میں اس قتل عام نے بلوچ اور پاکستان کے نوآبادیاتی رشتے کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ آزادی کے سوا ان کے پاس قومی بقا اور باوقار زندگی کا دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ بلوچ قوم سوراب قتل عام کے مجرم ریاست پاکستان اور اس کے مقامی دلالوں کو ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں جواب دہ بنائے گی۔
گرافکس انتباہ!
گزشتہ روز پاکستانی فوج نے سوراب کے علاقہ گدر میں گوْندان گاؤں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کیا۔ اس بمباری میں پاکستانی فوج نے معصوم بچوں اور خواتین سمیت دو درجن سے زائد بلوچوں کا قتل عام کرکے تخلیق پاکستان کے جشن کا آغاز کردیا۔
اس کُھلی ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف اپنے اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے فوجی ترجمان نے حسب روایت ایک جھوٹی کہانی گڑھ لی اور اپنے اس جھوٹ کو پھیلانے کیلئے میڈیا کے منہ میں دے دیا۔ دیگر ریاستی ستونوں کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں شریک بکاؤ میڈیا نے فوراً کمر کس کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس گڑھی ہوئی جھوٹی کہانی کو پھیلانے لگی۔ نہ کسی میڈیا نمائندے نے بمباری کے شکار گاؤں گا دورہ کیا، نہ شہداء کے لواحقین کا موقف معلوم کیا، نہ علاقے کے باشندوں، سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وقوعہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کسی نے کوشش کی، حالانکہ گدر کا علاقہ کوئٹہ سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر چین- پاکستان اقتصادی کوریڈور پر واقع ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اور اس کا غلام میڈیا یہ بھول گئے کہ اب سوشل میڈ جیسے غیر روایتی ذرائع ابلاغ نے واقعات اور خبروں کی رپورٹنگ کیلئے روایتی میڈیا پر انحصار ختم کردیا ہے۔ اب قابض پاکستانی ریاست اور اس کے ستون جتنا بھی چاہیں بلوچستان میں اپنے نوآبادیاتی حکمرانی، اقتصادی لوٹ کھسوٹ، اور بلوچ نسل کش پالیسیوں اور کاروائیوں کو نہیں چھپا سکتے۔ قابض پاکستانی ریاست نہ تو اب بلوچ تحریک آزادی، بلوچوں کی جذبہ حریت، اور قربانیوں کو چھپانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ ڈالنے پر قادر ہے۔
سوراب میں اس قتل عام نے بلوچ اور پاکستان کے نوآبادیاتی رشتے کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ آزادی کے سوا ان کے پاس قومی بقا اور باوقار زندگی کا دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ بلوچ قوم سوراب قتل عام کے مجرم ریاست پاکستان اور اس کے مقامی دلالوں کو ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں جواب دہ بنائے گی۔
The sentences handed down to prominent human rights defenders Dr Mahrang Baloch, Sibghatullah Shaji, Balaach Kadder, and other activists are enough to expose Pakistan’s colonial rule and its misuse of laws, regulations, the legal system, and judicial procedures in occupied Balochistan.
They were tried and sentenced by a faceless court in a sham trial based on fabricated charges. They have been condemned without being heard. Despite their persistent protests against the unfair trial, they were denied a fair hearing in accordance with international legal standards and procedures.
@QaziShahid786@GretaThunberg@MahrangBaloch_ Reham Khan @RehamKhan1 is a shallow minded person who spread a lot of lies about her marital life with Imran Khan on instigation of army Generals aiming to defame him. She can do worse than this tweet. Spitting on sky is nothing but to staining her own image.
بی این ایم کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے معروف کارکنان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی ،بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر اور دیگر کارکنوں کو سنائی گئی سزائیں پاکستان کے نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی اور مقبوضہ بلوچستان میں قوانین، ضوابط، عدالتی نظام اور قانونی طریقۂ کار کے غلط استعمال کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔
#dailysangar #Balochistan #PakistanArmy #BalochWomen #BYC #DrMahrangBaloch #FacelessTrials #EndUnfairTrailOfBYCLeaders
https://t.co/jCvUJ87OsF
By sentencing Mahrang Baloch for life and banning the PTM, Pakistan has sent Baloch and Pashtun youth a very clear message: the path of non-violent resistance has closed and freedom can only be won by heading to the mountains.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچ عوام کی مزاحمت، وقار اور حقِ خود ارادیت کی علامت ہیں، اور ان کے خلاف دی جانے والی سزا دراصل پورے بلوچ عوام کی جدوجہد کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جبر، گرفتاریاں، تشدد اور سزائیں کبھی بھی آزادی، انصاف اور قومی وقار کی تحریکوں کو شکست نہیں دے سکتیں۔
#dailysangar #Balochistan #PakistanArmy #BalochWomen #BYC #DrMahrangBaloch #JKPNP #AJK #POK #Kashmir
https://t.co/Pto7eeMj5O
BNM's Awareness Campaign in the #Netherlands: Supporting Victims of Torture & 17 Years Since Dr. Deen Mohammad’s Abduction by the Pakistan Army
The Baloch National Movement (BNM) is launching a three-day awareness campaign across the Netherlands to mark the International Day in Support of Victims of Torture and commemorate 17 years since the enforced disappearance of Dr. Deen Mohammad Baloch.
Our Goals:
Raise Awareness: Highlight the impact of torture and the ongoing crisis of enforced disappearances in Balochistan.
Demand Justice: Promote human rights, support survivors and affected families, and call for accountability.
We invite you to stand with us in solidarity.
Dates & Locations:
26 June: Amsterdam, Almelo & The Hague
27 June: Utrecht
28 June: Zwolle
#BNMProtests
#ReleaseDrDeenMohammad
#StopBalochGenocide
#BNMinNetherlands
🚨For international analysts, the trial of Mahrang Baloch raises massive red flags regarding due process.
▪️Her legal team boycotted the hearings, citing a total lack of transparency and trust in the system! 1/2
ظالم کے نام: تمہاری جیلیں اتنی بڑی نہیں کہ ایک نظریے کو قید کر سکیں۔ تم ہمارے رہنماؤں کو قید کر سکتے ہو۔ تم ہمارے خاندانوں کو دہشت زدہ کر سکتے ہو۔ لیکن تم سچ کو پھانسی نہیں دے سکتے۔ اور تم بلوچ عوام کے عزم کو کبھی، ہرگز کبھی نہیں توڑ سکو گے۔ جمال بلوچ
#pakistan@Jam__Baloch
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
BASC strongly condemns the unlawful conviction of BYC leaders and calls on all who believe in justice, human dignity, and the rule of law to stand with Dr. Mahrang Baloch, Sibghatullah Baloch, the BYC, and all peaceful human rights defenders. We must send a clear message to those responsible for this oppression: the persecution of peaceful activists will not be tolerated or ignored. @faribabalouch1
#ReleaseBYCLeaders #IStandWithBYCLeaders
ماہرنگ بلوچ ہو، ڈاکٹر یاسمین راشد، بشریٰ بی بی، عالیہ حمزہ، صنم جاوید یا فلک جاوید۔
قید صرف ان خواتین کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔
ہر جبر ایک نئے عزم کو جنم دیتا ہے، کیونکہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں۔
We had a very productive meeting with the @UN Working Group on Discrimination against Women & Girls in #Geneva. A glimpse of the discussion on the illegal life imprisonment sentence imposed on Dr. Mahrang Baloch and BYC leaders, collective punishment, and enforced disappearances.