عوام کو عدل فراہم نہیں کیا جارہا ہے، جہاں ایلیٹ کلاس غریبوں کو زندہ چبا رہی ہے(حالیہ ملتان کا واقعہ ہی دیکھ لیں، جہاں ایک یتیم کو کچل دیا گیا)
دوسری طرف ان کو کل اترنے کے بعد بھی اپنی خدمت گزاری کی پڑی ہے،
ناجانے یہ لوگ ملک میں کس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں!
آذربائیجان کے ایک سرکاری اسکول میں حجاب پر پابندی کے قانون کے تحت ایک طالبہ کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، اسکول سے نکالے جانے اور گیٹ پر روکے جانے پر وہ معصوم بچی شدید جذباتی ہو گئی اور رو پڑی اور روتے ہوئے کہا: "میں تم سب کی اللہ سے شکایت کروں گی!"
ایک یحییٰ سنوار کے بدلے ہزاروں یحییٰ سنوار پیدا ہوں گے، ایک اسمائیل ہانیہ کے بدلے لاکھوں اسمائیل ہانیہ پیدا ہوں گے،لیکن افسوس تو اس بات کا ہے جو یحییٰ سنوار نے کہی تھی،
غزہ بہت سے منافقین کے چہرے بے نقاب کرے گا
دراصل یہ عوام کو تو کچھ سمجھتے ہی نہیں، شیر افضل مروت غلط نہیں تھا،
اس نے کہا تھا جب خان پر وقت آئے گا تو باتیں کہنے والوں میں سے کسی کی گرد بھی نہیں دکھائی دے گی۔