“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
یوم پاکستان پر اس سے شاندار،جاندار،بہترین ویڈیو کوئی نہیں ہوسکتی
بنانے والے نے چھوٹے بڑے تمام ہیروز کو 4منٹ کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کمال مہارت سے سمودیا ہے۔
جس نے بھی اس تصور پر یہ ویڈیو بنائی ہے وہ قومی اعزاز کا مستحق ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان عمران خان کے خاندان کے ساتھ،عمران خان کی پارٹی کے ساتھ،پکا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کہ جب تک
عمران خان جیل سے نہیں رہا ہو جاتا،جب تک جمہوری نظام نہیں بن جاتا،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گی، ہم آپ کو یہ وعدہ دیتے ہیں،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
دل کی گہرائیوں سے آپ کے ساتھ ہے ہم آپ کو یہ وعدہ دیتے ہیں،اگر آپ حق پر ہیں،تو ہم کسی کے ساتھ سودا نہیں کریں گے،خدا گواہ ہے،خدا ہی گواہ ہے،اگر ہم زندہ رہے،آپ کے ساتھ سودا نہیں کریں گے،
ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں،اتنا اتحاد اور اتفاق کریں کہ ہماری بہنیں اور مائیں
خدا خیر کرے،
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا پشین جلسے سے خطاب
جن کو جیل میں بچے پیدا کرنے کی سہولیات تھی اور جن کی خدمت کے لئے اداکارائیں موجود تھیں وہ بھی عمران خان کی جیل پر بات کرتے ہیں
جنید اکبر خان کے زرداری پر وار 🔥
عمران خان سچا دیانتدار اور مومن آدمی ہے۔۔مجھے یقین تھا اگر اڈیالہ جا کر اس سے ملنے کا موقع ملاء تو کہوں گا: شاباش! کمال کر دیا، تم نے تاریخ بدل دی۔۔۔
مولانا طارق جميل
ہمیں دو بار خبر ملی تھی کہ آپ کے والد جیل میں وفات پا چکے ہیں، اس وقت میرے والد کی زندگی کو خطرہ ہے اور ہم اس سے بہت پریشان ہیں، عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا عالمی نشریاتی ادارے بی بی نیوز کو انٹرویو
عمران خان صاحب کو ایک دفعہ پھر اُن کی فیملی کو بتائے بغیر اور اُن کے ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں PIMS لایا گیا۔ جو قانوناً جرم ہے۔ PIMS میں آنکھ کے بہترین علاج کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم کا وہاں سے آنکھ کا علاج کرانا اُن کی صحت کے ساتھ مذاق ہے۔
ہمارا مطالبہ اب بھی وہی ہے کہ عمران خان صاحب کا علاج اُن کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی اور فیملی ممبر کی موجودگی میں ہو۔ اگر اس جعلی حکومت کی یہی ہٹ دھرمی جاری رہتی ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ قوم سے کچھ چُھپایا جا رہا ہے۔
عمران خان مسلسل اپنے معالجین سے ملنے کے لئے اصرار کر رہے ہیں۔ آج بھی بشری بی بی کی فیملی ملاقات میں یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے معالجین کو رسائی دی جاۓ۔ اور پمز کے ڈاکٹر نے خان صاحب کو بتایا کہ ان کا مزید علاج ہسپتال میں ہونا چاہئے۔
ہمیں کوئی آفر نہیں ہوئی، ہمیں صرف ایک یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا جائے گا اور وہاں فیملی اور ذاتی معالجین ساتھ ہوں گے، علیمہ خان
عمران خان نے بشری بی بی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ پٹیشن دائر کریں کہ میرے ذاتی ڈاکٹرز کو مجھ تک رسائی ملے، ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں صرف عمران خان سے جیل میں ملاقات نہیں کرنی بلکہ ہسپتال میں ان کا مکمل چیک اپ کرنا ہے تاکہ معلوم ہوسکے آنکھ میں جو مسئلہ ہوا ہے اس کے پیچھے وجوہات کیا ہیں۔
حکومت اتنا جھوٹ بول چکی ہے کہ ان کی کسی بات پر ان کوئی اعتبار نہیں رہا ہم کسی صورت سرکاری ہسپتال کی رپورٹس پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ آپ کسی بھی ڈاکٹر کو یہ رپورٹ دکھا دیں یہ نہ مکمل ہے اور نہ درست رپورٹ ہے۔
عمران خان کے ڈاکٹرز نے واضح کہا ہے کہ جیل جاکر ملاقات کا ہمیں فائدہ نہیں ہونا ہم نے عمران خان کو ہسپتال میں چیک اپ کرنا ہے ۔ علیمہ خان
گزشتہ شب قائد عمران خان کی پمز ہسپتال سے واپسی پر، صرف دور سے گاڑیوں کی فوٹیج بنانے کے جرم میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حیدر سعید کو حراست میں لینا، اس نظام کی بوکھلاہٹ ظاہر کرتا ہے۔ اب ایک نہتے نوجوان کے موبائل کیمرے سے بھی اتنا ڈر لگتا ہے؟ آواز دبانے سے نظریے نہیں مرتے!
🚨ایک بھگوڑے کی جعلی پلیٹ لیٹس تھیں لیکن میرے لیڈر عمران خان نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور بیماری پر نرم دلی کا مظاہرہ کر کے جانے دیا لیکن بھگوڑا 4 ہفتوں کے لیے گیا تھا 4 سال بعد واپس آیا ۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی