Appreciation Tweet for MOM
A mother is always a mother. No matter how many times you break her heart, she never stops worrying about her children and never stops praying for them.🙏❤🙏
#LoveYouMother
چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں "خوشحال خیبرپختونخوا بجٹ 2026-27" کے تحت ضلع کولائی پالس کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔
ضلع کولئی پالس کے لیے 9 اہم شعبوں میں 12 ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن پر 8.42 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
یہ منصوبے شاہراہوں، صحت، تعلیم، کھیلوں، لائیوسٹاک، خوراک، محکمہ داخلہ اور دیگر بنیادی شعبوں میں جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ ان اقدامات سے عوام کو بنیادی خدمات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، دیہی معیشت کو فروغ ملے گا، امن و امان کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور ضلع کولئی پالس کی مجموعی معاشی و سماجی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔
یہ صرف ترقیاتی منصوبے نہیں، بلکہ ایک ترقی یافتہ، محفوظ، خودمختار اور خوشحال کولئی پالس کی مضبوط بنیاد ہیں، جہاں ترقی کے ثمرات ہر گھر تک پہنچیں گے۔
خوشحال خیبرپختونخوا بجٹ 2026-27 — ترقی ہر ضلع، خوشحالی ہر گھر!
#KhushalKPBudget #KPBudget2026_27 #KolaiPalas #CMKP #SohailAfridi
دو حکومتیں
دو وزرا اعلی
دو قوانین اور
ایک پارٹی کا ورکر
علی امین کے دور میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ لایا گیا جس پر شدید تنقید کی گئی علی امین نے قانون کی آگاہی کیلئے سیشن کرائے اسمبلی کے اندر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن پارٹی کارکن اپنی بات پر قائم رہے جس کے بعد وہ قانون پاس نہ ہوسکا
سہیل آفریدی کے دور میں خاموشی سے چھپ کر اسمبلی مراعاتی قانون پاس کرایا گیا امید تھی کہ لوگ غافل رہیں گے اور معاملہ آگے بڑھتا رہے گا لیکن بات سامنے آگئی پارٹی کارکنان نے کسی قسم کا دفاع نہیں کیا وزیر اطلاعات اور پوری حکومتی ٹیم نے اپوزیشن کو ملا کر بھی کوشش کی لیکن کارکن ڈٹ گیا اور اب وہ قانون واپس ہورہا ہے
ان دونوں واقعات میں ایک بات واضح ہے کہ دونوں حکومتیں پارٹی اور عمران خان کے نظریئے سے جب جب غافل ہوئیں کارکن نے انہیں جھنجھوڑا اور راہ راست پر لایا
پی ٹی آئی کا کارکن آج بھی اتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ اس کے سامنے پوری حکومت سرنڈر کرجاتی ہے
چترال (دروش): قائد عمران خان، بشریٰ بی بی، ایم این اے عبد اللطیف اور دیگر اسیران کی رہائی کے مطالبے کے لیے دروش میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
ریلی میں مختلف علاقوں سے آئے کارکنوں، عمائدین، نوجوانوں اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی اور پُرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کیے۔ مقررین نے قانون کی بالادستی، انصاف اور جمہوری اقدار پر زور دیتے ہوئے تمام اسیران کی رہائی کا مطالبہ۔
🚨 فیصلے دو ہی ہیں یا جیل بیجھیں گے یا بری کریں گے جب ہم عمران خان کے کیسوں میں پیش ہوتے تھے تب یہ بڑی جلدی سماعت کرتے تھے آج کل ہم کہتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر فیصلہ کریں تو تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں ۔
علیمہ خان کی انسداد دہشتگری عدالت کے باہر گفتگو
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم سربراہی اجلاس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیاسی و امن و امان کی صورتحال، سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک، سیاسی اسیران کے بنیادی و آئینی حقوق کی مسلسل پامالی اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور ہوا ۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ و سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، بیرسٹر گوہر خان چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان رائٹس موومنٹ کے سربراہ سینیٹر مشتاق احمد خان، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ زین شاہ، سنی اتحاد کونسل کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ حسن رضا، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر، وکیل سابق وزیراعظم عمران خان قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری، حقوقِ خلق پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمار علی جان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد خان ترین ایڈووکیٹ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی، سابق اراکین بلوچستان اسمبلی نواز بلیدی، ملک نصیر شیوانی اور حاجی زاہد بلیدی سمیت دیگر اہم سیاسی رہنما شریک ہیں۔
خیبرپختونخوا کا شکوہ درست ہے کہ انکے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں ہوتی ۔۔ پنجاب میں ایک کنال کے پارک کا افتتاح ہوجایے تو 10 گھنٹے ہیڈلائنز چلتی ہیں پشاور میں 105 کنال کا شاندار پارک کا افتتاح ہوا کہیں پانچ منٹ بھی خبر نہیں چلائی گئی ۔۔۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات پیر مصور خان کی خصوصی فنڈز سے خدو کلے روڈ پر اسفالٹ (بلیک ٹاپنگ) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
سڑک پر اسفالٹ بچھانے کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کی تکمیل سے عوام کو معیاری، محفوظ اور جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
PRESS RELEASE
July 8, 2026 | Islamabad
PTI Demands Immediate Removal of Punjab CM Maryam Nawaz, IG Prisons and Adiala Jail Superintendent for Defying Court Orders on Illegal Solitary Confinement of Imran Khan and Bushra Bibi
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), through its Secretary Information Sheikh Waqas Akram, has strongly condemned the continued illegal solitary confinement of former Prime Minister Imran Khan and his wife Bushra Bibi, and the regime’s persistent defiance of judicial orders.
On Imran Khan and Bushra Bibi’s Illegal Solitary Confinement:
While PTI respects the judiciary, the Islamabad High Court’s decision to adjourn the hearing on the illegal solitary confinement until August 6 is deeply concerning. The court has acknowledged the gravity of the allegations regarding fundamental rights violations and psychological distress. However, granting the jail administration nearly a month to submit reports risks prolonging the serious situation and allows those defying earlier court orders to continue their non-compliance.
PTI demands the immediate removal of Punjab Chief Minister Maryam Nawaz, IG Prisons, and the Superintendent of Adiala Jail. These officials are directly responsible for the continued illegal solitary confinement and for repeatedly failing to implement clear judicial directions on access, security arrangements, and basic rights.
On the Balochistan Bloodbath and Regime’s Security Failure:
PTI strongly condemns the terrorist attack in Balochistan that martyred nine brave police officers, including two SHOs. This tragedy is the direct consequence of the regime’s failed security policies, political engineering, and the complete breakdown of state writ. The expansion of areas where the state has lost control and rising terrorist incidents across Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa, and other regions reflect a dangerous collapse in governance and security.
On Khyber Pakhtunkhwa Privilege Bill:
PTI expects the controversial Privilege Bill amendment introduced in the KPK assembly to be repealed immediately. Chairman Imran Khan and the party have always been clear about the perks and privileges of members. Anything against Khan’s philosophy and vision is unacceptable. The party believes any law curtailing freedom of expression or targeting journalists and critics has no place in a democratic society and must be withdrawn.
On Karachi’s Global Humiliation:
The Economist Intelligence Unit’s (EIU) 2026 Global Liveability Index ranking Karachi 170th out of 173 cities, just above war-torn Damascus, is a damning reflection of the Pakistan Peoples Party’s 18-year rule in Sindh. Once Pakistan’s economic hub and city of lights, Karachi has been reduced to an urban wasteland marked by crumbling infrastructure, water mafias, rampant crime, and governance failure.
On the Lahore Crypto Kidnapping Scandal Involving the Dar Family:
PTI expresses deep concern over the horrific kidnapping, torture, and sexual abuse of foreign women in Lahore linked to a crypto fraud network, with Ishaq Dar’s grandson Raza Dar named as an accused. This case has severely damaged Pakistan’s international image. The silence from Maryam Nawaz and her spokespersons, despite their usual stance on women’s issues, is telling. PTI demands the immediate resignation of Deputy Prime Minister Ishaq Dar, a thorough and transparent FIA investigation, the arrest of all accused, and full media freedom to report on the case.
On the Punjab Wheat Heist, 4.5 Million Tons Missing:
The revelation that 4.5 million tons of wheat have gone missing from Punjab’s government stocks points to large-scale hoarding and mismanagement. Other provinces have denied receiving any such quantity. This artificial shortage has driven atta prices to Rs 6,000–7,000 per maund. PTI demands a judicial inquiry, immediate action against hoarders, and urgent relief measures for the public.
🚨🚨وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کا چیلنج🚨🚨
اس سال جو ترقیاتی پروگرام پیش ہوا ایسا نہ خیبر پختونخوا میں پہلے پیش ہوا نہ پاکستان کے کسی صوبے نے پیش کیا ہے
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی
دنیا میں بچے جنم دیتے ہوئے جو خواتین کی اموات ہوتی ہیں، پاکستان میں اس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ چھوٹے شہروں میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے ہسپتال نہ ہونا ہے، اس لیے میانوالی میں "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال بنایا گیا ہے۔ یہ صرف میانوالی کے لیے نہیں بلکہ قریبی اضلاع بلکہ کے پی کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کی خواتین کے لیے بھی سہولت فراہم کرے گا جنہیں حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔
عمران خان صاحب کی میانوالی "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو۔
یاد رہے آج اس ہسپتال کا سٹیٹس تبدیل کر کے اس میں ڈسٹرکٹ ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے، عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی اتار کر کوڑے میں پھینک دی گئی ہے اور میانوالی سمیت قریبی اضلاع کی خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو بچانے والی اس امید کی کرن کا دیا بجھا دیا گیا ہے۔
فارم 47 کے ان چوروں کی گھٹیا حرکتیں عمران خان کا نام تاریخ سے نہیں مٹا سکتیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کے لیے خط!
⬅️ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحفظات کا اظہار کر چکی ہے،
⬅️ خیبرپختونخوا حکومت منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے، مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے انحراف ہے،
⬅️ ضم اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام وفاق کی جانب سے مالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا،
⬅️ انضمام کے وقت کیے گئے وفاقی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے، خیبرپختونخوا انضمام کا تمام اضافی بوجھ تنہا اٹھا رہا ہے،
⬅️ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی میں طے شدہ حصہ تاحال خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا،
⬅️ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر بے مثال انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات برداشت کر چکا ہے،
⬅️ صوبہ امن و امان، انسداد دہشت گردی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مسلسل بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے،
⬅️ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا،
⬅️ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل آج بھی خطے کی معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں،
⬅️ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے دیا گیا تھا،
⬅️ جن معاشی و سماجی حالات کی بنیاد پر ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا وہ آج بھی بڑی حد تک برقرار ہیں،
⬅️ وفاقی وعدوں کی تکمیل سے قبل ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، معاشی بحالی میں رکاوٹ اور مقامی کاروبار پر اضافی بوجھ کا سبب بنے گا،
⬅️ وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی،
⬅️ متعلقہ کمیٹی محدود اجلاسوں کے باوجود مجوزہ ٹیکس اقدامات پر کوئی حتمی سفارشات مرتب نہ کر سکی،
⬅️ صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،
⬅️ حساس سرحدی علاقوں میں ایسے فیصلوں کے امن و امان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں.
⬅️ خیبرپختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے،
⬅️ وفاقی حکومت ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے،
⬅️ وفاقی وعدوں کی تکمیل اور ٹیکس استثنیٰ کی بنیاد بننے والے حالات میں واضح بہتری آنے تک موجودہ ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے،
⬅️ وفاقی حکومت انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے مثبت فیصلہ کرے گی، امید ہے.
#CMKP #SohailAfridi
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی پالیسی واضح کر دی، کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری
کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، کرپشن کے تمام راستے بند کیے جائیں، وزیراعلیٰ
کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں، چاہے وہ کسی کے بھی چہیتے ہوں، سہیل آفریدی
محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا، عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن کا کوئی فائدہ نہیں، وزیراعلیٰ
تمام وزراء ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے کریں، عوام میں جائیں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں، سہیل آفریدی
عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لوں گا، بروقت ازالہ نہ ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، سہیل آفریدی
وزراء ضلعی دوروں کا باقاعدہ شیڈول مرتب کریں، ہر محکمہ اپنا کمپلینٹ سیل قائم کرکے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کرے، وزیراعلیٰ
عمران خان کے وژن کے عکاس تمام سگنیچر منصوبوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، سہیل آفریدی
سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حکومت کی ترجیحات واضح ہیں، تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنائیں، وزیراعلیٰ
تمام محکمے رواں مالی سال میں ڈی ایف سی اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں، نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کریں، وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کسی معاملے پر رابطہ کیا جائے تو 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ چاہیے، سہیل آفریدی
تمام وزراء، مشیران اور محکموں کے انتظامی سیکرٹریز باہمی رابطہ مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں، وزیراعلیٰ
تمام محکمے اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی بنائیں اور عوام کو حکومتی اصلاحات اور منصوبوں سے مؤثر انداز میں آگاہ کریں، سہیل آفریدی
تین ماہ بعد دوبارہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ ہوگا، سہیل آفریدی
🚨چیف جسٹس یحیی خان کیلئے سہیل آفریدی کے یہ الفاظ چپیڑوں سے کم نہیں !!
" پاکستان میں آئین پر عمل نہیں ہو رہا، آئین کے مطابق ہم احتجاج اور جلسہ کرسکتے ہیں لیکن نہیں کرنے دیا جاتا حالانکہ یہاں جمہوریت ہے آمریت نہیں،
آئین ہم بولنے کی اجازت دیتا ہے لیکن پاکستان میں جو بولتے ہیں یا وہ جیل میں ہیں یا ملک بدر ہے، جیل ریفارمز کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے "
ہمارے پشاور کے کچھ یوٹیوبرز کو شاید بہت مسئلہ ہے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ فرمائشی یوٹیوب چلاتے ہیں، اسی لیے بار بار یہی سوال اٹھاتے ہیں۔ میں اس حوالے سے بات واضح کر دیتا ہوں۔
جب مجھے صوبائی صدر بنایا گیا تو عمران خان صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ صوبے میں تحریک کو دوبارہ فعال کروں۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 26 نومبر کے بعد حالات انتہائی خراب تھے، ہم نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی تھیں اور پارٹی احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارٹی دوبارہ کھڑی کے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک میری عمران خان صاحب سے نہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی رابطہ ہو سکا۔ اس دوران عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔
چند دن بعد جب علی امین گنڈاپور صاحب کی عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ذمہ داری دوبارہ انہیں دے دی گئی۔ علی امین صاحب نے اس حوالے سے باہر آ کر پریس کانفرنس بھی کی، اور میں نے بھی اس کی مکمل تائید کی۔
اس کے بعد سہیل آفریدی صاحب آئے، لیکن انہیں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ جو بھی سیاسی سرگرمی یا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے، وہ محمود خان اچکزئی صاحب کے مشورے سے کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صاحب نے اس حوالے سے انہیں ذمہ داری دی ہے۔
لہٰذا، جیسے ہی عمران خان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان شاء اللہ ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔ نہ ہم نے پہلے کبھی عمران خان صاحب کو مایوس کیا، نہ آئندہ کریں گے۔ میں آج بھی اپنے کی ایک ایک بات پر پہلے کی طرح قائم ہوں۔
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی پشاور میں پریس کانفرنس۔
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔