Mashallah Hotel Bolan has been restored with flags of Pakistan waving on it. The Hotel was burnt to fire in a cowardly attack of the BLA's terrorists last month.
#Balochistan
Today marks the 107th birth anniversary of the distinguished Urdu writer and civil servant, Qudrat Ullah Shahab. Born in Gilgit on February 26, 1917, he gained renown for his autobiography, Shahab Nama. At the age of 16, he achieved recognition by winning an international essay competition organized by Readers Digest in London.
Shahab pursued his education at Prince of Wales College, Jammu, and Government College Lahore. He entered the Indian Civil Service in 1940 and volunteered for service in Bengal during the famine of 1943.
Upon migrating to Pakistan, Shahab served as Deputy Secretary in the Ministry of Commerce before assuming the role of Chief Secretary in Azad Kashmir, Muzaffarabad. He later served as Deputy Commissioner in Jhang, Punjab, and Director of Industries in Punjab, focusing on migration settlement issues.
Shahab's career continued to ascend as he became Principal Secretary to Governor General Ghulam Muhammad, serving under Iskander Ali Mirza and Ayub Khan. He later held positions as Pakistan’s Ambassador to the Netherlands and Secretary of Information and Education. In 1968, he was elected to the UNESCO Executive Board.
He passed away on July 24, 1987, in Islamabad, and rests in the H-8 Graveyard, Islamabad, Pakistan.
The region of Balochistan, famous for its intimidating topography and diverse cultural fabric, contains substantial unexplored tourism opportunities. Despite its historical and geopolitical complexities, the area is progressively gaining recognition as an appealing choice among daring tourists in search of remarkable confrontations. The purpose of this article is to present a fair assessment of the tourism prospective in Balochistan, encompassing its scenic landscapes, rich cultural heritage, as well as the benefits and impediments associated with advancing tourism in this undiscovered region. Read more: https://t.co/venU8DSlql
سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ۔۔
اس میں کہاں قادیانیت کئ عام تبلیغ کی اجازت دی گئی ہے؟
اس میں کہا گیا ہے کہ کسی مذہب کے ماننے والے اپنی عبادت گاہ میں اپنے ُ ہم مذہبوں لو تعلیم دے سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی سے وابستہ کچھ صحافیوں نے اس فیصلے کو غلط رنگ دے کر قاضی فائز عیسی کو خطرے میں ڈالا
کیا ہم نے نو مئی کے سانحے کو بھلا دیا؟
‼️نہیں بلکل نہیں‼️ #نو_مئی_معافی_نہیں
🚨زندہ قومیں شہیدوں کے خون کو بھلاتی نہیں، شہید ہمارے سر کے تاج ہیں، جو ان کی بے حرمتی کرے گا ہم اس کی آنکھیں نکال لیں گے۔
🚨مہذب معاشرے انتشاریوں کو سزا دیتے ہیں نہ کے چھوٹ۔
🚨فرانس اور امریکہ نے ایسے انتشاریوں کو چند ہفتوں کے اندر نمٹایا، پاکستان میں بھی اس پر کاروائی ہو رہی ہے اور اس کا ایک منطقی انجام ہو گا۔
🚨جو بھی لوگ اس سازش کے رچنے والے تھے، اس کے ماسٹر مائنڈ تھے، عمل کرنے والے تھے یا اس کے سہولت کار تھے ان کو کرار واقعی سزا ملے گی۔ ان کے سہولت کار جو عدلیہ میں تھے، میڈیا میں یا کہیں بھی ان سب کی پکڑ ہو گی۔
🚨جو انڈر گراونڈ ہو کر نمودار ہو گئے، جو جیلوں میں ہیں یا جن کو وقتی ضمانت مل گئی ہے اگر وہ اس میں شامل ہیں تو وہ بچ نہیں سکیں گے۔ ان کو زمین کی تہہ سے بھی نکالنا پڑا تو نکالیں گے۔
🚨ہم خون دینا جانتے ہیں اور اس کا حس��ب بھی لینا جانتے ہیں۔
🚨جو اس خوش فہمی میں ہیں کہ اب بس چھٹی ہو گئی وہ احمقوں کی جنت کا نشہ تھوڑا اور لے لیں، پھر ان کی آنکھیں کھولی جائیں گی اور ان کو حقیقت کی دوزخ دکھائی جائے گی۔
شہید کی موت اس ملت کی میراث ہے
اس میراث کی حفاظت اور تقریم ہم پر قرض ہے اور ہم قرض چکائیں گے
#نو_مئی_معافی_نہیں
یہ بات ہر خاص و عام، ہر اہل علم یا لاعلم اور ہر باخبر و بے خبر تک پہنچ جائے کہ 9 مئی کی بغاوت کی کوئی معافی نہ��ں.
پوری عسکری قیادت اور سپاہ اس مذموم سازش کو بُننے والوں اور اسے عمل میں لاکر بغاوت کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر ہی رہی گی.
9 مئی کوئی سانحہ نہیں بلکہ ملک میں بغاوت اور فوج میں تقسیم کی ایک سازش تھی.
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے.
من پسند عدالتوں میں من بھائے ججوں سے جو چاہے ریلیف لے لے، ضمانتیں کروالے، اسمبلی کا ممبر بن جائے یا ��ی لاگ کرنے لگ جائے، 9 مئی کی سازش کرنے والا، اس پر عمل کرنے والا اور اسکرین پر بیٹھ کر اس پر خوشیاں منانے والا ہر شخص کیفر کردار تک پہنچ کر رہے گا اور لازمی سزا کاٹے گا
9 مئی کو بھلا دینا بالکل ایسا ہے کہ فوج اپنے شہداء کو بھول جائے، ملک کی سلامتی سے آنکھ پھیر لے، اور اپنے ادارے کے تنظیمی ڈھانچے اور نظم و ضبط پر سمجھوتہ کرلے جوکہ یقیناً ممکن نہیں.
ترجیحات کا تعین ہوچکا ہے
آگے جو ہوگا وہ بھی سب دیکھ لیں گے.
#نو_مئی_معافی_نہیں