ضلعی صدر ایم پی اے جوہر خان نے پارٹی قیادت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے 8 فروری کو پاکستان تحریکِ انصاف کے مبینہ طور پر چوری شدہ مینڈیٹ کے خلاف لکی مروت میں احتجاج کی کال دے دی۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ۔
@KaliwalYam پارٹی کو یکجا کرنے کی بجائے علیمہ خان
نفرت پھیلا رہی ہے ہر ایم این اے اور عہدیدار تنگ ہے ان سے خود خان نے منع کیا ہوا کے اپ نے کوئی بیان نہیں دینا کسی بھی پارٹی رکن پر تنقید نہیں کرنی پتا نہیں یہ کونسی سمت پر جارہی ہے کچھ سمجھ نہیں ارہی اللہ پاک خان کی رہائی نصیب عطا فرمائے آمین
@sherafzalmarwat پلیز کوشش کر لو مروت صاحب
مرشد بے گناہ قید ہے
قوم کی خاطر قربانی کا بکرا بنا ہوا ہے لیکن قوم اتنا مفاد پرست اور بزدل ہے کے احتجاج کے لیے نہیں نکل سکتا
"دیکھیے پی ٹی آئی کی قیادت سب کچھ جانتی ہے۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ کیا کرنا ہے وقت کی ضرورت کیا ہے اور تحریک کیسے چلتی ہےیہ چیزیں انہیں سکھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ سازشوں فتنوں حکومت اور کرپشن پر تو بات کر سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ایک مؤثر احتجاجی تحریک چلانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہی اصل سوال اور اصل مسئلہ ہے۔"
شیر افصل خان مروت
سابق وزیرِاعظم پاکستان عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِ خانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود کسی قسم کی شفاف معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے یا سیاسی مخالفت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں۔ قیدیوں سے ملاقات، علاج اور معلومات تک رسائی کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔
اس طرزِ عمل سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہو رہے ہیں بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ رہا ہے۔ ذمہ دار اداروں سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، صحت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں اور قانون و انسانیت دونوں کا خیال رکھا جائے۔
"خان سے اگر لوگ محبت کرتے ہیں تو یہ بھی اللّٰہ کی کرم نوازی ہے اور دوسرا پارٹی کو کلٹ نہ بنائیں. جب میں نے لوگوں کو نکالا تھا، تو میں وزیر اعلیٰ نہیں تھا بلکہ ایک ورکرز کی حثیت سے عوام کو نکالا.
آپکی یہ بات کہ خان کا جس پہ ہاتھ ہو تو وہ عزت پاتا ہے تو بات یہ ہے کہ خان نے تو سب پہ ہاتھ رکھنا چاہا، تو وہ ہیرو کیوں نہ بنے؟ اس میں ہماری محنت بھی شامل ہے اور عزت و ذلت صرف اور صرف اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے! یہ وقت فیصلہ کریگا کہ سرخرو کون ہوتا ہے."
#sherafzalkhanmarwat
"26ویں ائینی ترمیم کے وقت اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی دو ارب 20 کروڑ لے کر اپنا ضمیر بھیج دیتا، پیسے کما لیتا، اور وزارت بھی لیں لیتا۔
میں کوئی عرب پتی یا کھرب پتی ادمی نہیں ہوں، مگر میں نے عمران خان کی کاز اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔"
شیر افضل خان مروت
@sherafzalm