پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو 43000 ارب کے قرضے سے ڈفالٹ ہو رہا تھا اور تقریباً 87 ہزار ارب قرض لینے پر ڈفالٹ سے بچ گیا ہے اور ترقی کرنے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔
حکومت پی ٹی آئی مزاکرات ڈیڈلاک شرائط دیکھ کر ایک مختلف صورتحال سامنے آتی ہے
حکومت لانگ مارچ ختم کرکے مزکرات شروع کرنے کا کہہ رہی ہے
پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا کہہ رہی ہے
آپ سمجھیں آج 4 اگست ہے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا تھا ۔۔۔ تب سے پیچھے آپ چلے جائیں جولائی ، جون ، مئی ، اپریل پی ٹی آئی جیل ملاقاتوں کا حکومت کو کہتی رہی حکومت نا مزاکرات نا ملاقاتیں کرانے کا مانی نا پیپلز پارٹی نے نا گورنر کے پی نے کہا مزکرات ان سے کر لیں یا ملاقات کرا دیں ۔۔۔ مطلب لانگ مارچ نہیں بھی تھا تو حکومت عمران خان تک رسائی ذاتی معالج فیملی ملاقاتیں نہیں کرا رہی تھی اب کہتے ہیں لانگ مارچ ختم کریں مزکرات کرتے ہیں
اس لیے صورتحال عجیب معلوم ہوتی ہے
شہباز کی پرواز سے ڈرتا ہے زمانہ، خطے کےتقریباً آدھے غریب پاکستان میں۔۔ یہ تو صرف ساڑھے چار سال کی کارکردگی میں کر دکھایا، اتنا وقت اور دے کر دیکھیں اگلا جہاز 22 ارب کا ہوگا اور غربت 90 فیصد
شاہزیب خانزادہ نے اپنے شو میں بتایا کہ انہوں نے جب ورلڈ بینک کی رپوٹ پر حکومت سے موقف جاننے کے لیے شو میں دعوت دی تو حکومتی وزرا نے رابطے کے باوجود آنے سے انکار کر دیا۔۔
اور یہی وزرا جب پی ٹی آئی والا کوئی کھانسی بھی کرے تو حلق پھاڑتے، چیختے چِلاتے ،منہ سے جھاگ اڑاتے پریس کانفرنس کرنے ، ایمرجنسی ، گورنر راج ،نا اہلی کی دھمکیاں دینے آ جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی کارکردگی اور ترجیہات
Shame
شہباز شریف کی منافقت ملاحظہ ہو۔ 👇
جب اقتدار سے باہر تھے تو عوام کو لانگ مارچ کی فضیلت بیان کرتے تھے۔
اور آج فارم 47 پر زبردستی اقتدار پر مسلط ہو کر عوام کو احتجاج سے روک رہے ہیں۔
The hypocrisy is unbelievably ridiculous
سلمان صفدر نے آج بتایا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے بشری بی بی کی سزا معطلی درخواست پر دو ماہ سے نمبر ہی نہیں لگایا
تین قیدیوں کی اپیل پر چار دن بعد نمبر لگا تھا بارہ دن بعد کیس مقرر ہو گیا تھا
یہ 65 کی جنگ ہارے، 71 کی جنگ ہارے، سیاچن ہارے، کارگل ہارے…خواجہ آصف
فوج نے آج تک ایک بھی علاقہ فتح نہیں کیا
خواجہ آصف
اب خواجہ صاحب آپ ایک باپ کی اولاد ہیں تو اسی بیان پر ڈٹ کر دوبارہ یہی ُکچھ اسمبلی میں کہیں ہم مان جائیں گے.😂
تاریخ کے جھرکوں سے
26 اور 27 فروری 2009 کے اخبار
جب شریف برادران کی نااہلی اور گورنر راج لگنے پر لیگی کارکنوں نے عوام کی گاڑیاں،بے نظیر کی یاد گار، بینک، پولیس چوکیاں جلائیں،وکلاء نے گورنر ہاوس میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔
کیا یہ توہین عدالت نہیں؟ سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی بجائے ان دونوں کو جیل میں رکھنے کے بہانے تراشے جا رہے ہیں افسوس کہ ریاستی ادارے قانون کو مذاق بنا رہے ہیں
او ہو ۔۔۔۔ باقی عدالتوں کے فیصلے کیونکہ حکومتی اقدامات کے خلاف ہیں اس لئے ان کی خلاف ورزی ۔۔۔ ان کو توہین عدالت نظر نہیں آتی
ہاں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کا لانگ مارچ متعلق فیصلہ ۔۔ بڑا ۔۔ بہت بڑا عدالتی فیصلہ نظر آتا ہے جس کی توہین نا ہونے کا عزم انہوں نے کر رکھا ہے
جب 2009 میں پنجاب میں گورنر راج لگا تھا تو مسلم لیگ ن نے کہا تھا کہ عوامی مینڈیٹ پر طمانچہ مارا گیا، قوم اٹھ کھڑی ہو۔۔۔ احتجاج کا "جمہوری حق" استعمال کرتے ہوئے پولیس چوکیاں، گاڑیاں اور بینک جلائے گئے۔۔۔
اہم , موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر سے 5 عدالتی فیصلے فیلڈ میں ہیں حکومت صرف ایک پر عمل درآمد کرانے کے لئے متحرک ، ہر وقت ایک کا حوالہ دیا جاتا ہے اور توہین عدالت لگوانے کی دھمکیاں بھی ۔۔۔۔ لیکن باقی چار فیصلوں کی حکم عدولی کی حکومت خود مرتکب ہو رہی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر حکومت باقی فیصلوں پر عمل درآمد کر دے تو لانگ مارچ خود بخود ختم ہو جائے گا
1. سپریم کورٹ کا 18 اگست شفا منتقلی ذاتی معالج کی رسائی اور ہفتہ وار عمران خان سے فیملی ملاقاتیں کرانے کا فیصلہ
2. اسلام آباد ہائیکورٹ لارجر بنچ کا 24 مارچ 2025 کا منگل جمعرات فیملی وکلا لیڈرشپ کی عمران سے جیل ملاقاتوں کا ۔۔۔
3. اسلام آباد ہائیکورٹ یکم ستمبر 2026 کا فیملی بچوں کی گفتگو زیادہ سے زیادہ ہیومن انٹریکشن ٹی وی کتابیں قید تنہائی کا ماحول ختم کرنے کے لیے فیصلہ ۔۔۔
4. اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو نومبر 2025 کا سلمان اکرم راجہ کی عمران خان سے جیل ملاقات کرانے کا ۔۔۔
5.اسلام آباد ہائیکورٹ لارجر بنچ کا 18 ستمبر 2026 کا پی ٹی آئی اسلام آباد لانگ مارچ کے خلاف فیصلہ (حکومت اس پر عمل درآمد کرانے میں متحرک اور عمل نا کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کے لئے بھی کہہ رہی ہے)
سپریم کورٹ کا مخصوص نشستیں PTI کو دینے کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں۔
عمران خان سے وکلاء، اہلخانہ اور پارٹی لیڈرشپ کی ملاقات کیلئے عدالتی آرڈر ردی کی ٹوکری میں۔
18 اکتوبر سپریم کورٹ کا خان ہسپتال منتقلی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں۔
بڑا آیا عدالتی حکم کا پابند 😏
اسد قیصر کل کے مزاکرات کے حوالے سے کہتے ہیں حکومتی مزاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا "عمران خان تک رسائی قابل غور نہیں وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہو گا "
معاہدے میں ذاتی معالج کی رسائی بھی شامل نہیں تھی جیل تک رسائی بھی شامل نہیں تھی تو پھر کیا شامل تھا ؟؟ جس کا دعویٰ حکومت کر رہی ہے
ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے آپ ہمیں عمران خان تک ایکسیس دیں۔ اور ہم نے کہا کہ ہم تمام مطالبات واپس کرتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری پولیٹیکل لیڈرشپ کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہوگا اور اس وقت وہ قابلِ غور نہیں ہے۔
تو ہم نے پھر سوچا کہ اگر عمران خان تک ہمیں ایکسیس نہیں دی جاتی تو دیکھیں، اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملہ نواز شریف یا شہباز شریف سے پوچھ کر کرتی ہے، یا پیپلز پارٹی ہر معاملہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے پوچھ کر کرتی ہے، تو ہمارا لیڈر عمران خان، جو سب سے مقبول لیڈر ہے اور جیل میں ہے، تو جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم اس سے مشاورت نہیں کریں گے؟ کیا ہم اس کی ڈائریکشن نہیں لیں گے؟ تو اس لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
جو اس کو دہشت گردی کی شکل دے رہا ہے ۔ بالکل ایسا نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جو ہم اس میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ: “کے پی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل، پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے، باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں گے، اور اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لیڈرز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ جو پالیسی بنے اسے پوری عوام کا اعتماد حاصل ہو"-
نظام انصاف ۔۔۔
پی ٹی آئی ایم این ایز کو 15 دن کے لئے اسلام آباد انتظامیہ نے تھری ایم پی او کے تحت 21 ستمبر کو جیل بھیجا
پہلے ایم این ایز کی جیل کو ڈھونڈنے پھر وکالت نامے دستخط کرانے میں چار پانچ دن لگ گئے
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشنز فائل ہوئیں رجسٹرار آفس اعتراضات ختم کرانے میں تین چار دن لگ گئے
پھر عدالت سے نوٹس ہوا انتظامیہ نے جواب کے لئے وقت مانگ لیا عدالت نے حیران کن طور پر ایم پی او میں بھیجنے کے 11 ویں روز انتظامیہ کو وقت دے بھی دیا
پھر اب کیس ایم این ایز کے ایم پی او 15 دن مکمل ہونے کے 15 ویں دن پیر کے لئے مقرر ہونے کا امکان ہے کیونکہ 15 دن کے لئے ہی انتظامیہ نے ایم این ایز کو ایم پی او میں رکھا ہوا
یہ ہے نظام انصاف اور آئینی عدالتیں ۔۔۔