شفیع جان صاحب جو آپکے موبائل پر گالیاں آتی ہیں وہ آپ نے earn کی ہیں۔ آپ انہیں deserve کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی جن دنوں یرغمال ہوئے تو انہیں مینج کرنے کیلئے آپ کو ہی ان پر نگران لگایا گیا تھا
شہباز گل پر ٹاوں ٹاؤں کرنے سے کچھ نہیں ہو گا وہ وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والے PTI کے پہلے لیڈر تھے مگر وہ کہیں استعمال ہوئے نہ کمپرومائز ۔ آپکی طرح
یاسر شامی کا تہلکہ خیز انکشاف
لاہور پولیس نے دو خواتین گرفتار کیں تب وہ تندرست تھیں یاسر شامی ویڈیو بھی لے آئے
لیکن پولیس حراست میں دونوں خواتین مر چکی ہیں
جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ دراصل قاضی فائز عیسیٰ پارٹ2 تھیں۔
انہوں نے تو سلمان اکرم راجہ پر یہاں تک الزام لگا دیا تھا کہ اگر آپ نے مجھے یہیں جواب نہیں دیا تو شام کو جعلی ID بنا کر سوشل میڈیا پر دے دیں گے۔
کیا فائدہ ہوا؟ قاضی فائز عیسیٰ بھی چلے گئے اور یہ بھی چلی گئیں، مگر اپنے فیصلوں اور طرزِ عمل کے باعث ان کے نام تاریخ کے سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے۔ وقت گزر جاتا ہے، عہدے ختم ہو جاتے ہیں، مگر متنازع فیصلوں کی بازگشت تاریخ میں باقی رہتی ہ
مسرت ہلالی اُس کٹھ پتلی ٹولے کا حصہ تھی جس نے بڑے اطمینان، بیشرمی اور بے حسی کے ساتھ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی گردن کو آخری جھٹکا دیا، یہ ٹولہ آخری وقت تک سب کچھ کرتا رہا کہ کہیں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، انہوں نے پوری تسلی کی کہ کہیں عمران خان بچ نہ جائے، فائز عیسی کالی آندھی کی طرح آیا جو سب کچھ جڑ سے اکھاڑ گیا۔ یہ آسیب زدہ لوگ جن کی منحوس پرچھائی اس ملک کی ساری میراث کھا گئی، قاضی زندہ لاش کی طرح پھر رہا ہے اور یہ بھی عدالتی تاریخ کے شرمناک اور گھٹیا ترین کرداروں میں شامل ہو کر بطور ضرب المثل یاد رکھی جائے گی جس طرح جسٹس منیر اور مولوی مشتاق جیسے خبیث لوگ آئے
ناانصافی سے بھرے فیصلے کر کے ڈھٹائی کے ساتھ منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ہنسنے والی جسٹس مسرت ہلالی نے تو قاضی فائز عیسیٰ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ناانصافی سے بھرے فیصلے کر کے کمرۂ عدالت میں منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اس طرح ہنسنے کی جرأت بھی شاید کوئی اور نہیں کر سکتا۔
میں ، میں عمرے سے واپس آ رہا تھا تو ن لیگ کے ایک MNA ایئرپورٹ پر ملے میں نے ان سے کہا آپ 8 فروری کو کتنی سیٹیں جیتے تھے تو انہوں نے کہا میڈیا پر جو نمبر چل رہا ہے 17 سیٹوں کا یہ بالکل ٹھیک ہے شہزاد اقبال ۔
تحقیقاتی صحافت کی معراج
سوال پوچھ کر کمنٹ سیکشن بند
بہرحال صحیح جواب یہ کہ تصویر میں موجود سرکاری ملازم نے پاکستان میں جعلی کٹ پتلی حکومت بنائی جسے وہ خود کنٹرول کرتا ہے۔ کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو کبھی کبھی کٹپتلیوں کی ڈوریاں تھوڑی کھینچ بھی دیتا ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کی انشورنس پالیسی ہیں آپ بے فکر رہیے آپکے لیڈر کو سرکاری ملازم سے کوئی خطرہ نہیں اگر وہ اشاروں پر یونہی ناچتا رہے۔۔۔
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
- Imran Khan
#ShameOnJudiciary
#FreeImranKhan
قاضی گیا۔ اب مسرت ہلالی گئیں۔ ایسے ہی باقی لوگ عہدوں سے جائیں گے یا فوت ہو جائیں گے۔۔ دیکھنے اور سیکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کی رخصتی پر لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کر رہے ہیں۔ آپ کو انصاف کا علمبردار سمجھتے ہیں یا انصاف کا قاتل۔ فیصلے کے لیے اب تاریخ کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں، جج صاحبہ نے بلے کا نشان نہ دینے، ملٹری کورٹس ٹرائل کی اجازت، ن لیگ/پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستیں دینے سمیت کئی اہم فیصلے سنائے۔ قوم خدمات پر مقروض ہے۔
جس کھوتی کے بچے سے ایک سال سے کچھ نہیں ہوا وہ دو ماہ کا وقت لے کر بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ اب ڈی چوک نہیں جانا بلکہ پورا KP اور ملک بند کرنا ہے پر یہ کرنے کی تمہیں اجازت نہیں ہے
🚨🚨 بریکینگ نیوز : عادل راجا کا بڑا انکشاف۔!!!🔥🔥🔥
عادل راجا کے مطابق فواد چوہدری اور عمران اسماعیل نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر درخواست دائر کی ۔ اور عمران خان سے ملاقات کی تاکہ انہیں کسی ممکنہ ڈیل پر آمادہ کیا جا سکے ۔🚨🚨🔥