نتیجہ پھر وہی ہو گا سنا ہے سال بدلے گا
پرندے بھی وہی ہوں گے شکاری جال بدلے گا
بدلنا ہے تو دن بدلو کیوں بدلتے ہو ہندسے کو مہینے پھر وہی ہوں گے سنا ہے سال بدلے گا وہی حاکم وہی غربت، وہی قاتل، وہی ظالم بتاو کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا.
Page 365/365🦋