@asifbcncat ان میں سے کوئی حافظ آباد کے علاقے کا نمبر ہو گا
"شدید ضرورت بی پوزیٹو (B+) بلڈ۔ مریضہ کا ایمان ٹاور ہسپتال حافظ آباد میں گلے کا آپریشن ہوا تھا اور اب بلیڈنگ ہو رہی ہے۔ خون کی اشد ضرورت ہے
زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے، صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت مزید فیصلے بھی کرے گی۔
حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 321 روپے 17 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 55 روپے اضافے سے 335 روپے 86 پیسے پر پہنچ گئی۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا🤦
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کر دیا۔
نائب وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم مصنوعات کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد دنیا 👇
بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ وزیراعظم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس وقت مستحکم پوزیشن میں ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی تعداد ہے تاہم اگر یہ سلسلہ
جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے
وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے
اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ
تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ
*جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا*
*جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس
*مربّہ آملہ* کھا یا *انناس*
اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی
تو پی لی *سونف یا ادرک* کا پانی
تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے*
تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے
جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے
تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے*
اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل
تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل
جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس
تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس
شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی
تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی*
اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے
تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے
اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے*
تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے
*تپ دق* سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی
*دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
*کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی*
اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی
تو استعمال کر *انڈے کی زردی*
جو *بد ہضمی* میں ت
اسے گھر میں لے آیا۔ محلے والے بھی آ گئے، جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔
کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا:
"آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے۔ شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ہو گئے۔ سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے، ان میں سے کچھ میں نے ادھار لے کر ڈالے ہیں۔ یہ آپ قبول کر لیجیے، باقی میں بہت جلد واپس کر دوں گا۔"
میں نے پیسے واپس لینے سے سختی سے انکار کر دیا، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔
اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا۔ میں جی جان سے کام کرتا رہا، چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا۔
تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی، اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا۔ آج وہ میری کمپنی میں فورمین ہے۔
اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔
میں اسے آپ سے ملواؤں گا، مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجیے گا۔ وہ آج تک نہیں پہچان سکا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا۔
وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ہے، جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کر دے دیا!
قاری صاحب! اس دن کے بعد میں کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ہوتا ہے اور نہ میں غریب ہوتا ہوں۔ بس دل کو تسلی ہوتی ہے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رہا ہوں۔
رہی لوٹنے کی بات، تو قاری صاحب، ہمیں کون نہیں لوٹتا؟
جوتے والا ہمیں لوٹتا ہے، کپڑے والا ہمیں لوٹتا ہے، سبزی اور گوشت والا ہمیں لوٹتا ہے۔
اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ہمیں اللہ کے نام پر لوٹ لے، تو شاید حشر میں ہماری نجات کا سامان ہو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پر لٹتا رہا ہے!
*ایک یادگار واقعہ*
اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا۔
میں نے کہا کہ بھائی، دیکھ بھال کر دینا چاہیے، یہ فراڈ لوگ ہوتے ہیں اور عام انسان کے جذبۂ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ہیں!
فرمانے لگے: آپ نے بجا فرمایا، میں پہلے ایسا ہی کیا کرتا تھا، پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی۔
میں دھرم پورہ، لاہور میں اپنے گھر سے سائیکل پر نکلا تھا کہ ٹھیکیدار سے اپنے بقایاجات وصول کر لوں۔ میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے، مگر ٹھیکیدار آج کل پر ٹرخا رہا تھا۔
میں سائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ مانگ رہا تھا۔
وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ہاتھ جوڑ دیتا:
"میرا بچہ بچا لیں، مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں"،
تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ہاتھ دے کر روکتا، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے۔
کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا۔ جو رکتا، وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ سوچ کر اسے ڈانٹتا، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا۔
میں جو سائیکل سائیڈ پر روک کر ایک پاؤں زمین پر ٹیکے یہ تماشا دیکھ رہا تھا، اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی، اور اس نے میری سائیکل کا ہینڈل پکڑ لیا۔
"بھائی جان، خدا کے لیے میرے بچے کی زندگی بچا لیں۔ اس کو سخت بخار ہے۔ آپ نیچے اتر کر اسے دیکھ تو لیں، آپ کو یقین آ جائے گا۔ آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے۔"
مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رہا تھا۔ پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ہینڈل پکڑ رکھا تھا، لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کر بھاگ جائے گا۔
میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی، اور پچھلے جمعے میں سنی ہوئی حدیث بھی اسے سنا دی کہ:
"الکاسب حبیب اللہ" — کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
اور اپنا ہینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ہوا آگے چل پڑا:
"حرام خور ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں!"
دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایاجات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رہا تھا۔
اب بچے کو وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لیے مانگ رہا تھا۔
میں نے سائیکل روکی، پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا۔
پھول کی طرح معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جیب میں جو کچھ تھا، بقایاجات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باہر پھینکا، اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ہو، سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاہور کی بلائیں میرے پیچھے لگ گئی ہوں۔
میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا۔ بخار بھی کچھ ایسا تھا، گویا میرے سارے گناہوں کا کفارہ اسی بخار سے ہونا تھا۔
گھر والے مجھے اسپتال لے جانے لگے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا۔ مجھے اسپتال نہیں جانا تھا، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاہتا تھا۔
دو تین دن کے بعد بخار تو اتر گیا، مگر میں ذہنی مریض بن گیا۔ مجھے لگتا، گویا میرا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا، وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔
میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا۔ بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو نہ اسکول جانے دیتا تھا، نہ دروازہ کھولنے دیتا تھا۔
چالیس دن گزر گئے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا۔
وائف نے اپنے بھائی سے بات کی، جو دبئی ایک کمپنی میں کیشیئر تھا۔ اس نے مجھے باہر بلانے کے لیے پاسپورٹ بنانے کو کہا، مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ بچے کی میت پر پھینک آیا تھا، دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باہر نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے۔
چالیسویں دن، دس بجے کے لگ بھگ ہمارے گھر کا دروازہ بجا۔
دروازہ میں نے خود کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آ گئے۔
مجھے لگا جیسے ہم دونوں آمنے سامنے خلا میں چکر کاٹ رہے ہیں، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا۔
میری کیفیت سے بے خبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ وہ کچھ کہنے کے بجائے میری ٹھوڑی کو ہاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا۔
اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ہے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ہے۔
میں اس بچے کے باپ کو سختی سے سینے سے لگائے یوں رو رہا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ہو۔
ہمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ آہستہ آہستہ چالیس دنوں کا غبار نکلا۔
میں
سز۔ائے موت ختم ہو گئی ، 17 سال کاٹ لیے ،8 رہ گئے ، وہ بھی گزر جائیں گے ، میں خوش اور مطمئن ہوں کہ میں نے غیرت دکھائی ۔۔۔۔
کوٹ لکھپت جیل میں 17 سال سے بند خاتون جس نے عدالت میں اپنے بھائی کے قا۔تل کو گو.لیوں سے بھون ڈالا تھا ، قید میں رہ کر بھی مطمئن ۔۔۔۔ بس کبھی کبھی گھر یاد آجاتا ہے جہاں میری شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔میرے بھائیوں کو ق۔ت۔ل کیا گیا تو انصاف کے لیے جگہ جگہ مارے پھرے ، ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن انصاف یہاں صاف پیسے اور طاقت والوں کو ملتا ہے ، بس پھر سوچ لیا کمزور اور مظلوم بن کر نہیں رہنا چنانچہ جس روز بھائی کے قا۔تل کی پیشی تھی میں بھی پہنچ گئی اور اسے جج کے سامنے فایئر ما۔ر کے ڈھیر کردیا ، پتہ نہیں میں نے ٹھیک کیا یا غلط ، پتہ نہیں قانون کیا کہتا ہے اور انصاف کے تقاضے کیا کہتے ہیں ، میرا دل اور دماغ کہتا ہے میں نے بالکل ٹھیک کیا ۔۔۔۔ جیل تو اب گھر لگتا ہے مجھے یہاں کوئی ٹینشن نہیں لگتا ہے یہیں کھیل کود کر جوان اور اب بوڑھی ہو رہی ہوں ، 18 سال کی تھی جب یہاں آئی اب 35 سال کی ہوں ، کوٹ لکھپت جیل لاہور میں عمر قید کی .مجرم ایک خاتون کی باتیں
✨ Compassion Fatigue – ہمدردی کی تھکن ✨
کیا کبھی ایسا محسوس ہوا ہے کہ دوسروں کو سہارا دیتے دیتے آپ خود اندر سے تھک گئے ہیں؟
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل چاہتا ہے کہ مدد کریں… مگر جسم، ذہن اور روح ساتھ نہیں دیتے۔
اسی کیفیت کو کہتے ہیں Compassion Fatigue — ہمدردی کی تھکن۔
---
🧠 ہمدردی کی تھکن کیا ہے؟
جب آپ مسلسل دوسروں کے دکھ، تکلیف، کہانیاں، اور جذبات برداشت کرتے رہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ آپ کا اپنا دل بوجھل ہونے لگتا ہے۔
یہ کیفیت خاص طور پر اُن لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جو:
دوسروں کی باتیں سنتے ہیں
مدد کرتے ہیں
رشتوں کو سنبھالتے ہیں
جذباتی سپورٹ دیتے ہیں
یعنی وہ لوگ جو دل کے نرم اور حساس ہوتے ہیں۔
---
📌 علامتیں
جذباتی تھکن
چڑچڑاہٹ یا بے حسی
مدد کرتے ہوئے دل کا خالی ہو جانا
نیند یا توانائی متاثر ہونا
دوسروں کے درد سے اوورلوڈ ہونا
---
💛 یاد رکھیں:
ہمدردی کی تھکن اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ مسلسل دینے والے انسان ہیں۔
مگر مسلسل دیتے رہنے کے لیے پہلے اپنے آپ کو بھرنا ضروری ہے۔
---
🌿 اپنے دل کا خیال رکھنے کے طریقے
وقفہ لیں — آپ کی بھی ضرورتیں ہیں
حدود بنائیں — ہر چیز فوراً سنبھالنا ضروری نہیں
Self-Compassion — خود سے نرمی
آرام، نیند، دعا، جرنلنگ
کسی محفوظ انسان کے ساتھ اپنی بات شیئر کریں
---
🌸 آخر میں…
ہمدرد ہونا خوبصورتی ہے، مگر اپنی روح کو بچانا بھی عبادت ہے۔
آپ بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنے وہ لوگ جنہیں آپ سہارا دیتی ہیں۔
اگر یہ پوسٹ آپ کے دل کو لگی ہو تو اسے اپنے تک محدود نہ رکھیں —
شاید کوئی اور بھی تھکا ہوا ہو، اور اسے یہی بات سننے کی ضرورت ہو۔ 💛
طریقہ استعمال
=
تین عدد خشک انجیر
دو عدد خشک خوبانی
انہیں رات بھر ایک کپ پانی میں بھگو دیں صبح خالی پیٹ وہ پانی پی لیں اور پھل کھا لیں
یہ نسخہ جسم کو دیتا ہے
E ، ، ، ، وٹامن
کیلشیم، پوٹاشیم
قبض سے نجات
جلد کی خوبصورتی
وزن میں توازن
اور کئی اقسام کے سرطان سے بچاؤ
یہ وہ علاج ہے جو قدرت ایمان اور عقل تینوں کے قریب ہے
اور سب سے بڑھ کر قرآن کا دیا ہوا راز صحت ہے۔
پڑھ کر آگے پہنچاؤ
اور صلى الله على محمد وآله وصحبه
وسلم
*عورتوں کے لیے اہم اور مفید معلومات* #
کبھی تم نے غور کیا کہ چین یا جاپان کی نوے نوے سالہ عورتیں آج بھی طاقتور ہیں
پہاڑوں پر رہتی ہیں، آٹا گوندھتی ہیں، لکڑیاں
توڑتی ہیں اور کبھی گھٹنوں یا کمر کے درد کی شکایت نہیں کرتیں لیکن ہماری عورتیں جوانی ہی میں تھکن ہڈیوں کے درد گھٹنوں کے مسئلے اور کمزوری کی شکایت کرتی ہیں۔
کیا تم نے سوچا کیوں؟
راز ہے (بیضہ دانیاں) میں
ماہواری شروع ہونے سے چند دن پہلے ہی جسم میں خون کا دباؤ بنتا ہے
عورت کو سستی، تھکن اور نیند محسوس ہوتی ہے کیونکہ جسم اندرونی طور پر تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ اس دوران کیلشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ رحم اپنا کام مکمل کر سکے۔
جب جسم کو کیلشیم کی کمی ہوتی ہے تو وہ ہڈیوں سے کھینچ لیتا ہے
یاد رکھو
عورت کی صحت کا اصل تعلق اُس کے کھانے پینے اور طرز زندگی سے ہے۔
غذا ٹھیک ہو اور حرکت ہو تو جسم مضبوط اور تندرست رہتا ہے۔
آج کل تقریباً ہر شخص میں وٹامن ڈی
کی کمی پائی جاتی ہے Vitamin D)
جس سے تھکن، ڈپریشن، ہڈیوں کا درد اور سستی پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عام طور پر گولیاں یا انجکشن دیتے ہیں مگر تحقیق بتاتی ہے
کہ قدرتی علاج زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے۔
قدرتی علاج کیا ہے؟
جو قرآن مجید میں ذکر ہوا
انجیر خشک انجیر یعنی تینی خشک
سائنس نے ثابت کیا کہ خشک انجیر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
یہ وہی پھل ہے جسے قرآن میں " وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " کے ساتھ یاد کیا گیا۔
یاد رکھو
عورت کی صحت کا اصل تعلق اُس کے کھانے پینے اور طرز زندگی سے ہے۔
غذا ٹھیک ہو اور حرکت ہو تو جسم مضبوط اور تندرست رہتا ہے۔
آج کل تقریباً ہر شخص میں وٹامن ڈی
کی کمی پائی جاتی ہے Vitamin D)
جس سے تھکن، ڈپریشن، ہڈیوں کا درد اور سستی پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عام طور پر گولیاں یا انجکشن دیتے ہیں مگر تحقیق بتاتی ہے
کہ قدرتی علاج زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے۔
قدرتی علاج کیا ہے؟
جو قرآن مجید میں ذکر ہوا
انجیر خشک انجیر یعنی تینی خشک
سائنس نے ثابت کیا کہ خشک انجیر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
یہ وہی پھل ہے جسے قرآن میں " وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " کے ساتھ یاد کیا گیا۔
اسی لئے چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے، ہونٹ سفید ہو جاتے ہیں، اور تھکن چھا جاتی ہے۔
لیکن اکثر عورتیں غلطی یہ کرتی ہیں کہ میٹھا یا چاکلیٹ کھا لیتی ہیں یہ سمجھ کر کہ جسم کو "توانائی" چاہیے
حالانکہ اس وقت جسم کو میٹھا نہیں بلکہ کیلشیم اور لوہا (ائرن) چاہیے ہوتا ہے۔
اسی کمی کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں کمزوری اور خون کی کمی (انیمیا) میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے؟
ماہواری سے پہلے اور اس دوران عورت کو چاہیے کہ
دودھ، پھل، سبزیاں، سلاد اور بغیر نمک کے میوے کھائے۔
پنیر اور دہی بھی مفید ہیں کیونکہ ان میں کلسیم ہوتا ہے۔
روزانہ ہلکی ورزش کرے تاکہ جسم کیلشیم اور آئرن کو بہتر طور پر جذب کر سکے۔
*اگر کبھی رات کو ... دکھ اور پریشانی کیوجہ سے آپ سو نہیـــــــــں پائیں ... تو ضرور سوچیگا کہ ایسا کیوں ہوا؟؟*
*ممکن ہے کہ ان دردبھری، بےنیند راتوں کی وجہ سے ...*
*رب ذوالجلال آپ کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہوں*
*وہ آدھی رات کو آپکی آہ و زاریاں سننا چاہتے ہوں۔*
*ہوسکتا ہے کہ انکا مطلوب یہ ہو کہ آپ اپنے غم اور تکلیف دن میں لوگوں کے سامنے بیان نہ کریں*
بلکہ !!!!!!
*اپنے سب درد، زخم اور تکلیفیں رات کی تنہائی میں چپکے سے رب کے سامنے رکھ کر اپنی بےبسی کا اعتراف کرلیں کہ ﷲ تعالیٰ۔۔۔۔۔*
یہ مجھ سے نہیں سنبھل رہا، آپ اسکو سیدھا کردیں۔
👈*کیونکہ تہجد کی دعائیں، قبولیت کے مقام پر پہنچتیں ہیں*
اور ہر معاملے کو ﷲ تعالیٰ کے سپرد کردینا ہی دراصل *تفویض الامر* ہے
*اپنے معاملات رب کو دے کر ویسے ہی مطمئن ہوجائیں جیسے دودھ پیتا بچہ ماں کی گود میں آکر پرسکون ہوجاتا ہے۔*
اپنے معاملات رب کے سپرد کیے ان مشکلات سے لڑنے میں وقت ضائع نہ کریں
ہم بڑے مقاصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں چھوٹی چھوٹی الجھنوں میں الجھ کر خود کو ضائع کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا
آئیں تفویض الامر کی چھڑی کو گھمائیں اور رب پر سب معاملات چھوڑ کر مسائل کو غیب سے سلجھتا دیکھیں
نہ خود الجھیں نا دوسروں کو الجھائیں
خوش رہیں ، خوش رہنے دیں
*ﷲ تعالیٰ آپ سے راضی ہوں اور آپ رب سے راضی ہوجائیں*
رَبَّنَا تَقَبَّلْ دُعَآء_ آمین 〰️💫
🕯️