اليوم الوطني السعودي الـ95 سعيدًا 🇸🇦
بالنيابة عن شركة ألبس تورز، أود أن أقدم أحر التهاني إلى شعب المملكة العربية السعودية في هذه المناسبة التاريخية. نسأل الله أن يجلب هذا اليوم الوطني الخامس والتسعون مزيدًا من السلام والازدهار والتقدم لهذا الوطن العظيم.
#اليوم_الوطني_السعودي_95
InternationalPeaceDay:The Human Rights Council of Pakistan organized a remarkable PeaceConference at PNCA Islamabad.We're honored to share that Mr.M UmarKhanzada,Director/GM of AlpsTours,participated as a special Guest,representing the spirit of peaceful tourism in Pakistan.
InternationalPeaceDay:HRCP organized a remarkable Peace Conference at PNCA Isb.We're proud to share that Mr.SheikhUmarNazir,CEO of AlpsTours,was invited as a Special Guest & honored with Peace Award🏆for his outstanding contributions in promoting peaceful tourism across the globe
Sidra Amin becomes the first woman from Pakistan to score back-to-back ODI centuries 🙌 She now has six ODI hundreds - more than all other players for her country combined (4) 📷😯
Congratulations to Sidra Amin #AlpsTours
ALPS TOURS x Peace Conference 2025
On this International Peace Day 2025,ALPS TOURS proudly joins hands with the Human Rights Council of Pakistan as the Official Sponsor of the Peace Conference & Awards 2025 #AlpsTours#PeaceConference2025#InternationalPeaceDay#HRCP#PeaceForAll
اس وقت پنجاب کے علاوہ اسلام آباد میں بھی دھند کی شدید لہر آچکی ہے اور اسلام آباد کے شہریوں سے یہ التجا ہے کہ آپ اگر گھروں سے نکلتے ہیں اس وقت رات کے اس پہ میں ایمرجنسی کی صورت میں تو بہت احتیاط سے نکلے وہ احتیاط کے ساتھ گاڑی چلائیں
ناران کی سیف الملوک جھیل کی کہانی تو سنی ہوگی اپنے؟
آئیں ہم اپکو تفصیل سے سناتے ہیں، تاریخ داستان سیف الملوک ۔
ایک تھا مصر کا بادشاہ جس کا نام تھا عاصم اس کے بیٹے کا نام تھا ��یف جس کے نام پر جھیل کا نام مشہور ہے
سیف شہزادےکو ایک دفعہ خواب آئی خواب میں اس نے اس جھیل کو بھی دیکھا اور اس جگہ کو بھی دیکھا اور ساتھ پری کو بھی دیکھا جس کا نام تھا بدیع الجمال اس سے پہلے یہاں انسانوں کی آبادی نہیں تھی
سب سے شہزادہ سیف یہاں ایا تو اور اسی نے اس جگہ کو تلاش کیا تھا۔
شہزادے نے خواب دیکھنے کے بعد صبح وہ خواب اپنے والد کو بتائی ۔
بادشاہ نے کہا بیٹا یہ جگہ اور پری تو اپکو مل جائے گی لیکن اس کیلے اپکو کافی محنت کرنی پڑے گی ۔
شہزادے نے رخت سفرباندھا اور سفر شروع کردیا ایک سال تو اسکو مصر میں ہی لگ گیا اسکو کسی بھی طرح اس جھیل کا سراغ نہ ملا سال کے بعد اللہ کی قدرت سے ایسا ہوا کہ چاند کی چودویں رات تھی مصر میں ہی اسکو ایک بزرگ سے سامنا ہوگیا اس نے بتایا کہ ایک ملکہ پربت پہاڑ ہے ( ملکہ پربت اس چوٹی کو کہتے ہیں جو سیف الملوک جھیل سے شمال کی جانب واقع ہے جھیل اسی چوٹی کے دامن میں ہے)
لوگ کہتے ہیں کہ اج تک کوئی اس چوٹی کو سر نہیں کر سکا کہا جاتا ہیکہ اس پر جنوں اور پریوں کا ��بضہ ہے ۔
اچھا تو اتے ہیں کہانی کی طرف ۔
اس شہزادے کو بزرگ نے کچھ علم دیا جس کے مدد سے دو جن شہزادے کے طابع ہوگئے جنہوں نے شہزادے کو وہاں سے اٹھایا اور سیف الملوک جھیل کے سامنے جس جگہ ایک چھوٹی مسجد بنی ہوئی ہے وہاں پر لاکر چھوڑ دیا ۔
جہاں سے اجکل ہم جھیل پر جاتے ہیں اس وقت یہاں سے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا جھیل بہت بلند تھی اور ملکہ پربت کے دامن تک پھیلی ہوئی تھی۔
شہزادہ وہاں پہنچ کر جھیل کو پہچان گیا شہزادے نے 40 دن تک عبادت کی (چلا کاٹا)
40ویں دن کے بعد چاند کی چودویں رات تھی شہزادے نے دیکھا کہ جھیل کے اندر پریاں اتر کر نہا رہی ہیں اور ایک پری کے ساتھ 7 سات پریاں الگ ہیں اور ایک پری ان میں سے مختلف ہے جو شائد بدیع الجمال ہی تھی اور باقی سات اسکی باندیاں۔
شہزادے نے فورا ان دو جنوں کو طلب کیا اور پوچھا کہ کیسے وہ اس پری کو حاصل کرے گا ۔
جنوں نے پریوں میں سے پری بدیع الجمال کا تاج اٹھایا اور شہزادے کو دے دیا پریاں جب جھیل سے نکلی اور اپنے اپنے تاج پہنے تو ملکہ کا تاج غائب تھا ملکہ نے تاج کے بارے دریافت کیا تو باقی پریاں پرشان ہوگی اور گھبرا گئی۔
اسی گھبراہٹ میں وہ بھاگ گئی اس دوران شہزادہ بدیع الجمال کے سامنے اگیا شہزادے کے پاس تاج دیکھا تو پری نے کہا کہ میرا تاج مجھے واپس دے دو میں ایک دیو کے قبضے میں ہوں اور وہ دیو یہاں پہنچاتو تمھیں اور مجھے مار ڈالے گا
شہزادے نے یہ بات نہ مانی اور کہا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا تم میرے ساتھ چلو شہزادے پری کو ساتھ لے کر ناران کی طرف نکل آیا ناران اس وقت بیابان جنگل ہوتا تھا وہاں شہزادہ ساتھ ساتھ دعا بھی مانگتا رہا
دوسری طرف جو پریاں واپس گئی تھی انہوں نے جاکر فورا دیو کو بتادیا کہ اج جھیل میں ہم سے بدیع الجمال بچھڑ گئی یے دیو فورا جھیل پر پہنچا اور اس نے جھیل پر پری کو تلاش کیا اسکو پری نہ ملی اسکو غصہ ایا اسنے جھیل کی سامنے والی جانب پاؤں مارا جس سے جھیل ٹوٹ گئی اور جھیل کا سارا پانی نیچے کی جانب بہنے لگا پانی فلڈ کی شکل میں ناران میں داخل ہوا پری اور شہزادہ راستے میں تھے انہوں نے پھر دعا مانگی انکی دعا قبول ہوئی زمین کے اندر ایک غار بن گئی پری اور شہزادہ اس میں داخل ہوگئے دائیں اور بائیں جانب سے سیلاب گزر گیا ۔
کہا جاتا ہیکہ وہ غار آج بھی موجود ہے اور اس میں روشنی کام نہیں کرتی ۔
دوسری طرف دیو نے تلاش نہ چھوڑی وہ دوسری جانب نکلا پہاڑ کی دوسری جانب جلکھڈ کے پاس اس کا پاوں دلدل میں پھنس گیا جس جگہ کو آج پیالہ جھیل کہتے ہیں اس میں پانی زیر زمین زخیرے سے اتا یے۔
کافی دن تلاش کرنے کے بعد اسکو پری نہ ملی تو اس نے ایک بلند پہاڑ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی پری اور شہزادہ بہت عرصہ تک اس غار میں رہے بعد میں ان جنوں نے جو شہزادے کے قبضے میں تھے انہوں نے شہزادے کو بتایا کہ جن اب ختم ہوچکا ہے اب تم اپنے ملک واپس جا سکتے ہو پری اور شہزادے کو انہوں نے ا��ھایا اور مصر پہنچا دیا اور وہ خوشی سے باقی زندگی بسر کرنے لگے۔
اس شہزادے کے نام سے جھیل سیف الملوک کا نام مشہور ہوا ملوک اسکو اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں شہزادے کی پری سے ملاقات ہوئی یہ کہانی اگلی نسلوں کو پتہ لگی اور نسل در نسل منتقل ہوتی یہاں تک پہنچی۔
چاند کی چودویں رات کو اس جھیل کا منظر بہت خوب صورت ہوتا یے جب چاند جوبن پر ہوتا ہے تو رات کو جھیل کا منظر دیدنی ہوتا ہے ۔چاند پہاڑ رات اور ستارے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہیکہ اس رات کو برگزیدہ بندوں کو جن اور
پریاں نظر بھی اتی ہیں۔۔
شیخ عمر نزیر