گھمن صاحب کی اِس ٹویٹ میں جہالت کی انتہا دیکھیں ایک صحافی کو یہ نہیں پتہ کہ اگر برطانیہ سے آیا پیسہ ملکی خزانے میں رہتا تو ملک ریاض کو اپنی جیب سے ساٹھ ارب روپیہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرانا پڑتا، یوں ساٹھ ارب سرکاری خزانے میں رہتا اور ساٹھ ارب سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ملک ریاض کی طرف سے آتا یعنی کل ایک سو بیس ارب روپے سرکار کے پاس آتے،
دوسری طرف اسوقت کے سپریم کورٹ کے ججوں- جسٹس فیصل ارب، جسٹس عظمت سعید شیخ- و دیگر کی بدمعاشیاں دیکھیں کہ سپریم کورٹ آج بھی سندھ کے عوام کے اُن اربوں روپوں پر سانپ بن کر بیٹھی ہے جو ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ملک ریاض کو دی گئی زمین کے عوض بولی لگا کر وصول کئیے گئے تھے- پیسے اور نوکری کے بھوکے مزکورہ دو ججوں میں سے ایک (جو چند دنوں بعد ریٹائر ہو رہا تھا) نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کی رقم کے استعمال کے لئیے سندھ سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سندھ ترقیاتی کمیشن بنایا جائیگا، ایم جے ٹی وی نے بھرپور آواز اٹھائی تو سپریم کورٹ آج تک اپنے اُس فیصلے پر عمل نہ کر سکی، عدالتی حکم سے جو کمیشن بننا تھا وہ آج تک نہ بن سکا اور اسوقت کے اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید نے بھی اس کمیشن کا رکن بننے سے انکار کر دیا تھا۔ ملک ریاض کو فائدہ دینے والے سیاستدان اور یہ ججز راہنما یا منصف نہیں ملک ریاض کے ملازم اور سندھ کے عوام کے چور ہیں۔
بطور جج کچھ ناقدین کی رائے میں پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت اور پھر سپریم کورٹ کے ججوں یعنی دونوں نے ملک ریاض کو فائدہ پہنچایا، ایک نے اونے پونے داموں اور ججوں نے ۴۶۰ ارب روپے کی بولی لگا ملیر کا پوری اراضی جائز قرار دے کر ملک ریاض کو مزید اراضی بھی ہڑپ کرنے کا باقاعدہ لائسنس دے دیا، ایک جائزے کیمطابق اس اراضی کی سپریم کورٹ میں اگر ایک ھزار ارب روپے کی بھی بولی لگائی جاتی تو ملک ریاض کے لئیے بہت کم تھی-
اس سب کے باوجود سپریم کورٹ کے جج تب بھی یہ پیسہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے، یہ تمام رقم آئینی اور قانونی طور پر سندھ حکومت کے پاس جانی ہے یا پھر سندھ میں ملک ریاض کے متاثرین کے بیچ یہ تمام رقم براہ راست تقسیم کر دینی چاہئیے اور ایسے فیصلے دینے والے ججوں کی پنشن بھی بند کر دینی چاہئیے۔
کیا گارنٹی ہے کہ یہ زرعی زمین ریٹائر ہونے والے سینئیر افسران کو کاشکاری کے نام پر ۹۹ سال کے لئیے لیز نہیں کر دی جائے گی؟ ایسے ہی جیسے اسلام آباد کے فارم ہاؤسز پھلوں اور سبزیوں کی افزائش کے نام پر اشرافیہ کو الاٹ کئیے جاتے ہیں؟ اس سے پہلے جو زرعی رقبے اعلیٰ افسران کو الاٹ کئیے گئے اُن کی فصلیں اس ملک و قوم کو کتنا فائدہ دے رہے ہیں؟ کیا گارنٹی ہے کہ اس اراضی میں کھیت ہی بنیں گے اور رہائشی اور کمرشل پلازہ اور شاہراہیں نہیں؟ اِس زمین کے انتظامات کے لئیے LIMS کے فورم متعلق باقاعدہ قانون پاس کروا کر اُس میں لکھ دیا جانا چاہئیے کہ یہ اراضی صرف کاشتکاری کے لئیے استعمال ہو گی، دفاعی مقاصد کے لئیے حاصل کی گئی اراضی کا حشر تو دیکھ ہی چکے ہیں اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں بھی ہمارے سامنے ہیں تو اس سب کے باوجود قانون سازی کی بجائے صرف پالیسی کے تحت لاکھوں ایکڑ زمین کیسے فوج کے حوالے کی جا سکتی ہے؟ اس اراضی پر شکار گاہیں اور ریسٹ ہاؤسز بنیں گے یا صرف کھیت کھلیان؟ عوام کی لاکھوں ایکڑ زمیں کو ایک مہینے کی مہمان حکومت کیسے کسی ادارے کے حوالے کر سکتی ہے؟
کیا ہماری یونیورسٹیوں کے ڈگری یافتہ لاکھوں بیروزگار نوجوان مر گئے تھے کہ یہ کام بھی اب فوج کے حوالے کیا جا رہا ہے؟ کیا آسان قرضوں کیساتھ یوتھئیائے ہوئے نوجوانوں کو اس زمین پر کاشتکاری کی ترغیب نہیں دی جا سکتی تھی؟ کیا اب ملک کی سرحدوں پر خطرات ختم ہو گئے ہیں؟ کیا ٹینک اور ٹریکٹر چلانے میں کوئی فرق نہیں رہا؟ ہمارے معاشرے اور سیاست میں عمران خان پراجیکٹ کی شکل میں نفرت اور شدت پسندی کے بیج بونے والے اب سبزیاں اُگائیں گے؟
Is this your so called vision professor sahib؟
@betterpakistan
This policy seems to be a shameless return of favour to ensure return to power
What is even more shameful is the silence of so called tabdeeli champion Imran Khan and his party on this.
یہ دنیا کا مہذب ملک فرانس ہے جہاں پولیس نے ایک زہنی معذور کو زمین پر گرا کر اسے گرفتار کر لیا
بچے کی ماں پولیس سے التجائیں کرتی رہی کہ میرا بچہ زہنی معذور ہے لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اور بچے کو گرفتار کر لیا
#FranceRiots#FranceOnFire#franceViolence
صحت کارڈ2015میں نوازشریف کےدورمیں غریبوں کےلیےآیاتھاجسمیں تین لاکھ روپےتک لمٹ تھی اوریہ سکیم صرف غریب لوگوں کے لئےتھی مگربعدمیں جب ٹیریان کےابوکی حکومت آئ تواس نےیہ کارڈکروڑپتی امیروں کوبھی دیناشروع کردیاجس کاناجائزفائدہ اٹھاتےہوئےامیروں نےپرائیویٹ ہسپتالوں سےاپنےآپریشن اسی کارڈسےکروانےشروع کردئےجسکااب پنجاب حکومت کوایک ایک پرائ ویٹ ہسپتال کاسوسوارب روپےکابل آیاہے.
#9thMayCulpritsExposed@KP_Police1
❗️ آئی جی کے پی کے حاضر ہو
یہ کوئی علاقہ غیر نہیں بلکہ دارالحکومت پشاور کا علاقہ ہزار خوانی کے قریبی خوڑ کے پاس علاقہ ہے جہاں آئس چرس اور افیون ایسے مل رہے ہیں جیسے جنرل اسٹور پر نمک ملتا ہے. سننے میں آرہاہے کہ اس پرفضا مقام پر ہر تیسرے چھوتے دن آئس اور چرس کی منڈی لگتی ہے اور قطار میں ان بے رحم افراد پر یہ منشیات فروخت کی جارہی ہے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ تھانہ رحمان بابا اور انقلاب کےحدود ہیں اسکے خلاف موثر کارروائی کی اشد ضرورت ہے....
فیاض الحسن چوہان کا انکشاف ۔۔
میں اس میٹنگ میں موجود تھاجہاں شوکت ترین نےعمران خان کےکہنےپر تیمورجھگڑا اورمحسن لغاری کوکہاکہ وہ خط لکھیں اور آئی ایم ایف کومنع کریں کہ وہ پاکستان کوقرضہ نہ دیں۔آئی ایم ایف کے پروگرام کو جان بوجھ کرسبوتاژ کیاگیاتاکہ اگلی حکومت معیشت نہ سنبھال سکے۔
صرف پنجاب کی جیلوں میں 52289 مردوں،944 خواتین ، ( 133 معصوم بچوں کے ہمراہ)703 نوعمر لڑکوں سمیت 53936 قیدیوں کی بڑی تعداد فیصلوں کی منتظر پڑی ہے۰ صرف سپریم کورٹ میں 52450 مقدمات زیر التوا ہیں اور عدالتیں تنخواہوں میں 20 فی صد اضافے کی خبر کے ساتھ ہی تین ماہ کی رخصت پر چلی گئی ہیں۰
سب جانتے ہیں 9 مئی کا پلان کس نے تیار کیا؟ سوشل میڈیا پر میرے نام سے جھوٹ پھیلا کر 9 مئی کی سازش کرنے والوں کو بچانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی، میں نے مریم نواز صاحبہ ،عطا تارڑ یا رانا ثنا اللّٰہ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا @MaryamNSharif @TararAttaullah
جناح ہاؤس حملہ: ایجنسیوں کا اہلکار قرار دیا جانیوالا مرکزی شرپسند بھی پی ٹی آئی کارکن نکلا
ایجنسیوں کا اہلکار قراردےکر حملےکاسارا الزام سکیورٹی اداروں پر لگایاگیا تھا تاہم شر پسند شخص بھی تحریک انصاف کا سرگرم کارکن نکلا جس کا نام عمران محبوب ہے۔ https://t.co/K6PboEhpIp
@UdarOfficial سالوں نواز شریف نے جتنے سال جیل کاٹی وہ رویا نہیں اس نے کسی پر زیادتی کا الزام نہیں لگایا تم جیسے کنجروں کی تو 1،2 دن میں بس ہو جاتی ہے لوگوں کو اپنی عزت پیاری ہوتی ہے مگر پی ٹی آہی والے تو اپنی عزت خود اتارتے ہیں فخر سے زیادتی کرواتے ہیں 🤣