پی ٹی ایم جرگے کے منتظمین پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں،اختلافِ رائے اور نظریاتی بحث کی گنجائش موجود ہے، لیکن غیر مسلح افراد پر تشدد انہیں مزید اشتعال دلانے کا باعث بنے گا۔ حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں یکجہتی اور حب الوطنی کو فروغ دینا چاہیے اور احتجاج کرنے والوں کو مین اسٹریم میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ملک کو متحد اور مضبوط بنایا جا سکے۔
آپریشن عزمِ استحکام درحقیقت عدمِ استحکام ثابت ہوگا۔
آئین تمام صوبوں کو اختیارات دیتا ہے اور ہر ادارے کے دائرہ کار کا تعین بھی کرتا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ بالادستی پر بضد کیوں ہے؟
ہم 300 سالہ غلامی کے خلاف جنگ کی تاریخ رکھتے ہیں، غلامی قبول نہ کرنے کی پاداش میں انگریز کے خلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو سولی چڑھا دیا گیا تو اب جرنیلوں کی غلامی کیسے قبول کریں گے ؟ یہ نہیں ہوسکتا کہ جیسے وہ چاہیں ویسے ہی ہو۔
ملک میں ریاستی رٹ ختم ہوچکی ہے، کے پی کے میں رات ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے،یہ سب فوجی آپریشن کے نتائج ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی کوئٹہ میں گفتگو